Banner

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر تباہ کن حملے، 254 شہید، 1100 سے زائد زخمی

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بیروت: ایران کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے لبنان پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے جاری رکھے، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہو گیا۔

لبنان کی سول ڈیفنس اور وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں اسرائیلی حملوں میں اب تک کم از کم 254 افراد جاں بحق جبکہ 1100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ امدادی حکام کا کہنا ہے کہ ملبے تلے مزید افراد کے دبے ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق دارالحکومت بیروت سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 92 افراد جاں بحق اور 742 زخمی ہوئے، جبکہ جنوبی مضافاتی علاقوں میں 61 افراد جاں بحق اور 200 زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دیگر علاقوں بعلبک، ہرمیل، نبیطہ، سدون اور طیر میں بھی متعدد ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق صرف ایک روز کے دوران 112 افراد جاں بحق اور 800 سے زائد زخمی ہوئے، جس کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور عوام سے خون کے عطیات کی اپیل کی گئی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق بیروت میں مسلسل دھماکوں سے شہر گونج اٹھا جبکہ مختلف علاقوں سے دھوئیں کے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے، جس سے صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں جنگ کے دوران اب تک کی سب سے بڑی مہم کا حصہ ہیں، جن میں وادی بقاع اور جنوبی لبنان سمیت 100 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی، جبکہ وزیر دفاع کاٹز کے مطابق ان حملوں میں حزب اللہ کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

موجودہ صورتحال کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور انسانی بحران کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔

جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے لبنان پر تباہ کن حملے، 254 شہید، 1100 سے زائد زخمی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us