Banner

لبنان سیزفائر کا حصہ نہیں، معاہدہ ٹوٹا تو ایران ذمہ دار ہوگا، جے ڈی وینس

featured
Share

Share This Post

or copy the link

واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ لبنان کبھی بھی سیزفائر معاہدے کا حصہ نہیں رہا، لہٰذا اگر اس معاملے پر معاہدہ متاثر ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری ایران پر عائد ہوگی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اس ہفتے شروع ہو رہے ہیں، جنہیں پاکستان کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے اور پیش رفت ہو رہی ہے۔

جے ڈی وینس کے مطابق ایران نے مختلف مواقع پر 10 نکاتی تجاویز پیش کیں، تاہم حالیہ تجاویز زیادہ واضح ہیں جنہیں امریکی اور پاکستانی مذاکرات کار بہتر انداز میں سمجھ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا ہے اور اس وقت جنگ بندی برقرار ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

امریکی نائب صدر نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم امریکا اب اپنے فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور توجہ مذاکرات پر مرکوز ہے۔

لبنان کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے کبھی بھی لبنان کو سیزفائر میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں کیا، اور اس معاملے پر ایران کو غلط فہمی ہے۔ ان کے مطابق لبنان کا مسئلہ الگ ہے اور اسے جلد حل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اندر کچھ عناصر مذاکرات کے خلاف ہیں اور پروپیگنڈا کر رہے ہیں، تاہم امریکا مضبوط پوزیشن میں ہے اور بات چیت کا عمل جاری رکھے گا۔

جے ڈی وینس نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی بھی مذاکرات کا حصہ بن سکتی ہے، جبکہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

لبنان سیزفائر کا حصہ نہیں، معاہدہ ٹوٹا تو ایران ذمہ دار ہوگا، جے ڈی وینس

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us