Banner

میرٹ یا موروثیت؟

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر: محمد عبیدالله میرانی

کل ایک خبر آئی عام خبروں کی طرح وہ بھی اسکرین پر آئی اور گزر گئی۔ مگر ایک صحافی کے طور پر جب میں نے اس خبر کو دیکھا تو یہ محض ایک اطلاع نہ رہی بلکہ ایک سوال بن گئی سندھ کے سابق گورنر کامران ٹیسوری کے بیٹے زید ٹیسوری کو سندھ میں آئی ٹی کا سفیر مقرر کر دیا گیا ایک سادہ سا جملہ مگر اس کے پیچھے ایک پورا نظام کھڑا نظر آتا ہے یہ ملک صرف بڑے ناموں والے لوگوں کا نہیں بلکہ ان نوجوانوں کا بھی ہے جو نچلے طبقوں سے اٹھ کر اپنی زندگی بدلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کراچی کی گلیوں میں بیٹھ کر آن لائن کورس کرنے والے نوجوان لاڑکانہ سکھر حیدرآباد اور دیگر شہروں کے طلبہ جو محدود وسائل کے باوجود پڑھتے ہیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی امید میں دن رات محنت کرتے ہیں ان میں سے کئی نوجوان ایسے ہیں جو فیس ادا کرنے کے لیے پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں جو موبائل ڈیٹا بچا کر آن لائن لیکچر سنتے ہیں، جو گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے خوابوں کو بھی سنبھالے رکھتے ہیں ان کے پاس نہ کوئی بڑا نام ہے نہ کوئی مضبوط پہچان صرف محنت ہے صلاحیت ہے اور ایک امید کہ شاید ایک دن ان کی بھی باری آئے گی لیکن جب ایسی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو یہ امید کچھ ڈگمگا جاتی ہے سوال یہ نہیں کہ زید ٹیسوری قابل ہیں یا نہیں شاید وہ قابل ہوں شاید وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر قابل نوجوان کو ایسا موقع مل سکتا ہے یا یہ دروازے صرف انہی کے لیے کھلے ہیں جن کے نام پہلے سے طاقتور ہیں میدان میں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سے نوجوانوں سے بات کی ہے ان کی آنکھوں میں خوابوں کے ساتھ ایک خاموش سوال بھی ہوتا ہے وہ براہ راست کچھ نہیں کہتے مگر ان کا لہجہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی محنت پر یقین رکھنا چاہتے ہیں لیکن بار بار ایسے فیصلوں سے ان کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ شاید صرف بے روزگاری نہیں بلکہ برابر مواقع کی کمی ہے جب ایک طرف دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور دوسری طرف نوجوان برسوں تک دستک دیتے رہتے ہیں تو یہ فرق صرف افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا عکس بن جاتا ہے کامران ٹیسوری جو سندھ کے سابق گورنر رہ چکے ہیں ان کا سیاسی اثر و رسوخ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے پس منظر میں جب ان کے بیٹے کو ایک اہم ذمہ داری دی جاتی ہے تو سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کیا یہ محض ایک تقرری ہے یا ایک ایسا سلسلہ جو برسوں سے جاری ہے شاید زید ٹیسوری اس عہدے پر کچھ مثبت کر دکھائیں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کریں اور آئی ٹی کے شعبے میں حقیقی تبدیلی لائیں مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود رہے گا کیا یہ موقع کسی ایسے نوجوان کو نہیں مل سکتا تھا جو بغیر کسی سہارے کے صرف اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچ سکتا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف بیانات اور اعلانات سے آگے بڑھیں ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں ہر نوجوان کو برابر موقع ملے جہاں قابلیت ہی اصل پہچان ہو نہ کہ خاندانی نام کیونکہ اگر امید صرف چند لوگوں تک محدود رہے گی تو مایوسی ہزاروں دلوں میں پھیل جائے گی اور آج بھی یہ سوال ہر نوجوان کے دل میں زندہ ہے کیا اس ملک میں میرٹ کی کوئی جگہ باقی ہے یا ہر دروازے پر صرف نام ہی دستک دیتا ہے؟

میرٹ یا موروثیت؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us