Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ، حب اور خضدار میں فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 2 سویٹ سپاری یونٹس سیلمولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پروپیگنڈا کسی صورت قبول نہیں، حافظ ابوبکر کوریجوبلوچستان کے تاجروں کو آسان قرضے فراہم کیے جائیں، بلال خان کاکڑشہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک نظام بہتر بنایا جائے گا، مہراللہ بادینیمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمدکوئٹہ، حب اور خضدار میں فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں، 2 سویٹ سپاری یونٹس سیلمولانا فضل الرحمٰن کے خلاف پروپیگنڈا کسی صورت قبول نہیں، حافظ ابوبکر کوریجوبلوچستان کے تاجروں کو آسان قرضے فراہم کیے جائیں، بلال خان کاکڑشہریوں کی سہولت کے لیے ٹریفک نظام بہتر بنایا جائے گا، مہراللہ بادینیمنشیات کے خلاف جنگ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حاجی ولی محمد نورزئیخواتین کو ہر شعبے میں مساوی مواقع دینا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، ڈاکٹر ربابہ خان بلیدیسرکاری زمینوں پر قبضے اور محکمہ مال میں بدعنوانی برداشت نہیں ہوگی، حسیب شجاعطالبات کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچگہنور خان بجرانی مگسی کو ڈپٹی ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ جھل مگسی تعینات کرنے کا مطالبہقلعہ سیف اللہ پولیس کی بروقت کارروائی: کوئٹہ سے چوری ہونے والی جی ایل آئی کار برآمد

میرٹ یا موروثیت؟

تحریر: محمد عبیدالله میرانی

کل ایک خبر آئی عام خبروں کی طرح وہ بھی اسکرین پر آئی اور گزر گئی۔ مگر ایک صحافی کے طور پر جب میں نے اس خبر کو دیکھا تو یہ محض ایک اطلاع نہ رہی بلکہ ایک سوال بن گئی سندھ کے سابق گورنر کامران ٹیسوری کے بیٹے زید ٹیسوری کو سندھ میں آئی ٹی کا سفیر مقرر کر دیا گیا ایک سادہ سا جملہ مگر اس کے پیچھے ایک پورا نظام کھڑا نظر آتا ہے یہ ملک صرف بڑے ناموں والے لوگوں کا نہیں بلکہ ان نوجوانوں کا بھی ہے جو نچلے طبقوں سے اٹھ کر اپنی زندگی بدلنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کراچی کی گلیوں میں بیٹھ کر آن لائن کورس کرنے والے نوجوان لاڑکانہ سکھر حیدرآباد اور دیگر شہروں کے طلبہ جو محدود وسائل کے باوجود پڑھتے ہیں سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی امید میں دن رات محنت کرتے ہیں ان میں سے کئی نوجوان ایسے ہیں جو فیس ادا کرنے کے لیے پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں جو موبائل ڈیٹا بچا کر آن لائن لیکچر سنتے ہیں، جو گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے خوابوں کو بھی سنبھالے رکھتے ہیں ان کے پاس نہ کوئی بڑا نام ہے نہ کوئی مضبوط پہچان صرف محنت ہے صلاحیت ہے اور ایک امید کہ شاید ایک دن ان کی بھی باری آئے گی لیکن جب ایسی کوئی خبر سامنے آتی ہے تو یہ امید کچھ ڈگمگا جاتی ہے سوال یہ نہیں کہ زید ٹیسوری قابل ہیں یا نہیں شاید وہ قابل ہوں شاید وہ اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائیں مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر قابل نوجوان کو ایسا موقع مل سکتا ہے یا یہ دروازے صرف انہی کے لیے کھلے ہیں جن کے نام پہلے سے طاقتور ہیں میدان میں کام کرتے ہوئے میں نے بہت سے نوجوانوں سے بات کی ہے ان کی آنکھوں میں خوابوں کے ساتھ ایک خاموش سوال بھی ہوتا ہے وہ براہ راست کچھ نہیں کہتے مگر ان کا لہجہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی محنت پر یقین رکھنا چاہتے ہیں لیکن بار بار ایسے فیصلوں سے ان کا اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ شاید صرف بے روزگاری نہیں بلکہ برابر مواقع کی کمی ہے جب ایک طرف دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں اور دوسری طرف نوجوان برسوں تک دستک دیتے رہتے ہیں تو یہ فرق صرف افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کا عکس بن جاتا ہے کامران ٹیسوری جو سندھ کے سابق گورنر رہ چکے ہیں ان کا سیاسی اثر و رسوخ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایسے پس منظر میں جب ان کے بیٹے کو ایک اہم ذمہ داری دی جاتی ہے تو سوال اور بھی گہرا ہو جاتا ہے کیا یہ محض ایک تقرری ہے یا ایک ایسا سلسلہ جو برسوں سے جاری ہے شاید زید ٹیسوری اس عہدے پر کچھ مثبت کر دکھائیں نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کریں اور آئی ٹی کے شعبے میں حقیقی تبدیلی لائیں مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود رہے گا کیا یہ موقع کسی ایسے نوجوان کو نہیں مل سکتا تھا جو بغیر کسی سہارے کے صرف اپنی محنت کے بل بوتے پر یہاں تک پہنچ سکتا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف بیانات اور اعلانات سے آگے بڑھیں ہمیں ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں ہر نوجوان کو برابر موقع ملے جہاں قابلیت ہی اصل پہچان ہو نہ کہ خاندانی نام کیونکہ اگر امید صرف چند لوگوں تک محدود رہے گی تو مایوسی ہزاروں دلوں میں پھیل جائے گی اور آج بھی یہ سوال ہر نوجوان کے دل میں زندہ ہے کیا اس ملک میں میرٹ کی کوئی جگہ باقی ہے یا ہر دروازے پر صرف نام ہی دستک دیتا ہے؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *