Banner

شہیدِ حق کی یاد میں عقیدت کا اظہار،خانۂ فرہنگ ایران لاہور میں تعزیتی وفد کا دورہ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

لاھور۔ نمائندہ خصوصی سے

پاکستان اور ایران کے درمیان صدیوں پر محیط مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی روابط ہمیشہ باہمی احترام، اخوت اور روحانی قربت کے مظہر رہے ہیں۔ اسی باہمی تعلق اور عالمِ اسلام کے عظیم رہنما کے ساتھ عقیدت کے اظہار کے طور پر پاکستان انٹرفیتھ فورم کے ایک معزز وفد نے لاہور میں واقع خانۂ فرہنگ، اسلامی جمہوریہ ایران، جیل روڈ کا دورہ کیا اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تعزیتی پیغام پیش کیا۔
یہ تعزیتی وفد پاکستان انٹرفیتھ فورم کے صدر علامہ طاہر عباس العصری کی قیادت میں خانۂ فرہنگ پہنچا، جہاں ایرانی سفارتی و ثقافتی نمائندگان سے ملاقات کرتے ہوئے انہوں نے شہید رہنما کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ وفد کے دیگر معزز اراکین میں اعجاز عالم آگسٹین (رکنِ پنجاب اسمبلی)، ممتاز ماہرِ تعلیم پروفیسر ڈاکٹر علی اقتدار مرزا (سابق سربراہ شعبۂ جغرافیہ، گورنمنٹ کالج لاہور)، معروف صحافی، دانشور، مقرر منشاء قاضی، سیدہ کہکشاں عباس نقوی، (اسلامک ریسرچ اسکالر)، سیدہ حنا کاظمی، (اسلامک ریسرچ اسکالر)، مزمل بخاری، (نائب صدر پاکستان انٹرفیتھ فورم)، خاور رسول خان، (میڈیا پرسن) ڈاکٹر پرویز اقبال، (بانی و چیرمین)، پاکستان مسیحا پارٹی، حاجی شفیق ، (صدر)، حقیقی ڈیموکریٹک الائنس، سردار ریوندر سنگھ، امرناتھ رندھاوا، رکن پاکستان ہندو مندر مینجمنٹ کمیٹی، صوبائی صدر، آل پاکستان والمیکی سماج، پنجاب، بشپ اِسرم سوداگر، ڈاکٹر فیض الرحمن، ( جنرل سیکرٹری)، یونائٹڈ ڈیموکریٹڈ پارٹی، پاسٹر حنیف مسیح ، اجمل کھوکھر، (چیئرمین) ، قومی اقلیتی اتحاد، نیشنل مینارٹیز الائنس شامل تھے۔
اس موقع پر محترم ڈاکٹر مسعودی، (ڈائریکٹر جنرل)، خانۂ فرہنگ، اسلامی جمہوریہ ایران سے ملاقات کے ساتھ ساتھ وفد نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای صرف ایران کے نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے ایک باوقار اور بصیرت افروز رہنما تھے۔ ان کی زندگی اسلام، امتِ مسلمہ کی وحدت، مظلوم اقوام کی حمایت اور عالمی کی ایک روشن مثال تھی۔ ان کی قیادت میں ایران نہ صرف فکری و نظریاتی استقامت کی علامت بنا بلکہ امتِ مسلمہ کو خود اعتمادی، حریتِ فکر اور استقامت کا پیغام بھی ملا۔
علامہ طاہر عباس العصری نے اپنے خطاب میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شخصیت ایک ایسے رہنما کی تھی جس نے علم، حکمت اور شجاعت کے ساتھ امتِ مسلمہ کو فکری بیداری کا درس دیا۔ انہوں نے ہمیشہ اسلامی اقدار، روحانی تشخص اور عالمی استکبار کے خلاف حق و صداقت کا پرچم بلند رکھا۔ ان کی شہادت نہ صرف ایران بلکہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے، تاہم ان کا فکری و روحانی پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
رکنِ پنجاب اسمبلی ایجاز عالم آگسٹن نے اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اقلیتی برادریاں بھی اس دکھ کی گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ برابر کی شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی بین المذاہب احترام، انسانی حقوق اور عالمی امن کے فروغ کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال تھی۔ ان کی خدمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ روحانی قیادت ہمیشہ انسانیت کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر علی اقتدار مرزا نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایک مفکر، دانشور اور فلسفی رہنما تھے جنہوں نے اسلامی تہذیب اور فکری روایت کو جدید دور کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کی تحریریں اور تقاریر اسلامی فکر، ثقافت اور تاریخ کے حوالے سے نہایت گہرائی اور بصیرت کی حامل ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک علمی سرمایہ ہیں۔
معروف صحافی اور دانشور منشاء قاضی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی زندگی حریتِ فکر، استقامت اور نظریاتی استقلال کی داستان ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام کے موجودہ حالات میں ایسے رہنماؤں کی کمی شدت سے محسوس کی جاتی ہے جو اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے امت کو اتحاد، بیداری اور فکری خود مختاری کا راستہ دکھا سکیں۔
وفد نے خانۂ فرہنگ کے ذمہ داران کے ساتھ ملاقات کے دوران شہید رہنما کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا بھی کی اور ایرانی عوام کے ساتھ دلی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد کے ارکان نے اپنے تعزیتی پیغام میں اس امید کا اظہار کیا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا نظریاتی ورثہ اور فکری پیغام عالمِ اسلام کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا سرچشمہ بنا رہے گا۔
اس موقع پر کہا گیا کہ شہید رہنما کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصولوں، ایمان اور حق کے راستے پر استقامت کے ساتھ چلنا ہی دراصل حقیقی قیادت کی پہچان ہے۔ ان کی جدوجہد، بصیرت اور فکری رہنمائی تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔
آخر میں پاکستان انٹرفیتھ فورم کے وفد نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید رہنما کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ایرانی قوم کو صبرِ جمیل دے اور عالمِ اسلام کو اتحاد، امن اور استحکام کی نعمت سے نوازے۔ یہ تعزیتی حاضری دراصل پاکستان کے عوام کی جانب سے ایرانی قوم کے ساتھ اخوت، یکجہتی اور دلی ہمدردی کا اظہار تھی، جو دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
یہ تعزیتی حاضری دراصل اس امر کی مظہر تھی کہ عظیم رہنما جسمانی طور پر رخصت ہو کر بھی اپنے نظریات، افکار اور جدوجہد کے ذریعے قوموں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت نے یقیناً عالمِ اسلام کو غمزدہ کیا ہے، مگر ان کا پیغامِ استقلال اور وحدت ہمیشہ اہلِ حق کے دلوں میں زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کو حق و صداقت کی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

شہیدِ حق کی یاد میں عقیدت کا اظہار،خانۂ فرہنگ ایران لاہور میں تعزیتی وفد کا دورہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us