Banner

عورت کو رسم و رواج کی بھینٹ نہ چڑھاؤ

featured
Share

Share This Post

or copy the link

تحریر: جاوید خان اچکزئی

08 مارچ دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے یہ دن صرف ایک تقریب یا رسمی پیغام دینے کا دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ عورت بھی اسی معاشرے کا اتنا ہی اہم حصہ ہے جتنا مرد بدقسمتی سے ہمارے خطے خاص طور پر پشتون معاشرے میں آج بھی عورت کو وہ مقام اور عزت حاصل نہیں جس کی وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہے ہم اکثر اپنی تہذیب روایت اور مذہب کا حوالہ دیتے ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ انہی ناموں کو استعمال کرکے عورت کی آزادی تعلیم اور بنیادی حقوق کو محدود کر دیا گیا ہے عورت کو ایک انسان کے بجائے اکثر صرف گھر کی چار دیواری تک محدود کر دیا جاتا ہے جیسے اس کا کام صرف بچوں کو جنم دینا، گھر سنبھالنا اور خاموشی سے زندگی گزارنا ہو حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت صرف ماں یا بیوی نہیں بلکہ وہ ایک استاد ایک رہنما ایک مفکر اور ایک مضبوط انسان بھی ہو سکتی ہے ہمارے معاشرے میں لڑکی کی پیدائش پر خوشی کم اور فکر زیادہ کی جاتی ہے اسے بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ اس کی زندگی کے فیصلے دوسروں نے کرنے ہیں اسے اپنی مرضی سے تعلیم حاصل کرنے، اپنے خواب پورے کرنے یا آزادانہ زندگی گزارنے کا حق نہیں دیا جاتا کئی جگہوں پر آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے اور ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تعلیم دراصل کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے جب ایک لڑکی تعلیم حاصل کرتی ہے تو دراصل ایک پورا خاندان تعلیم یافتہ ہوتا ہے ایک پڑھی لکھی ماں اپنے بچوں کو بہتر تربیت دیتی ہے انہیں شعور دیتی ہے اور انہیں ایک بہتر انسان بناتی ہے مگر جب عورت کو تعلیم سے محروم کیا جاتا ہے تو دراصل پورا معاشرہ جہالت کے اندھیرے میں دھکیل دیا جاتا ہے افغانستان اور ڈیورنڈ لائن کے دونوں جانب کئی دہائیوں سے جنگ شدت پسندی اور تنگ نظری نے عورتوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے کہیں لڑکیوں کے اسکول بند کیے جاتے ہیں کہیں عورتوں کو باہر نکلنے پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور کہیں انہیں معاشرے کے فیصلوں سے مکمل طور پر دور رکھا جاتا ہے یہ سب اقدامات نہ صرف عورتوں کے ساتھ ناانصافی ہیں بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کے ساتھ بھی ظلم ہیں ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس کی خواتین بااختیار نہ ہوں وہ معاشرہ جہاں عورت کو کمزور سمجھا جائے، جہاں اس کی رائے کی کوئی اہمیت نہ ہو جہاں اس پر تشدد کو برداشت کیا جائے وہاں ترقی انصاف اور خوشحالی کا خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے معاشرے میں گھریلو تشدد ایک تلخ حقیقت بن چکا ہے بے شمار عورتیں اپنے ہی گھروں میں ظلم تضحیک اور استحصال کا شکار ہیں انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا جاتا ہے کیونکہ معاشرہ اکثر مظلوم کے بجائے ظالم کا ساتھ دیتا ہے یہ رویہ نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کی علامت بھی ہے وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سوچ بدلیں ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں بلکہ ایک آزاد انسان ہے اسے عزت تعلیم آزادی اور انصاف کا وہی حق حاصل ہے جو مرد کو حاصل ہے اگر ہم واقعی ایک مضبوط اور ترقی یافتہ معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی بیٹیوں کو تعلیم دینی ہوگی انہیں اعتماد دینا ہوگا اور انہیں اپنے خواب پورے کرنے کا موقع دینا ہوگا یاد رکھیں عورت صرف گھر کی زینت نہیں بلکہ معاشرے کی طاقت ہے ایک مضبوط عورت ایک مضبوط خاندان بناتی ہے اور مضبوط خاندان ایک مضبوط قوم کی بنیاد ہوتے ہیں آئیے اس عالمی یومِ خواتین پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنی ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کو رسم و رواج جہالت اور تنگ نظری کی بھینٹ نہیں چڑھائیں گے ہم انہیں وہ مقام دیں گے جس کی وہ حقدار ہیں کیونکہ عورت کی عزت دراصل انسانیت کی عزت ہے وہ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا جہاں عورت قید ہو اور وہ قوم کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی جہاں عورت کو کمزور سمجھا جائے عورت کو حق دو عزت دو آزادی دو یہی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔

عورت کو رسم و رواج کی بھینٹ نہ چڑھاؤ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us