Banner
Daily Sahafat Quetta
November 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلاوتھل نیشنل بینک ڈکیتی کیس میں بڑی پیش رفت، 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان گرفتارکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکت“عصرِ حاضر میں فکرِاقبال اور کلامِ اقبال کی معنویت”حکومت امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، مولانا عبدالقادر لونینوجوانوں کو روزگار کے متلاشی کے بجائے روزگار فراہم کرنے والا بنانا ہوگا، گورنر بلوچستانمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں شمولیتی سلسلہ دوبارہ شروع ہوگا، مختلف شخصیات پارٹی میں شامل ہوں گی، جمال شاہ کاکڑبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلاوتھل نیشنل بینک ڈکیتی کیس میں بڑی پیش رفت، 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان گرفتارکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکت

سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقاتیں شروع کردیں

سانحہ گل پلازہ: جوڈیشل کمیشن نے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقاتیں شروع کردیں

کراچی: سانحہ گل پلازہ کیلئے تشکیل جوڈیشل کمیشن نے جاں بحق افراد کے ورثا سے ملاقاتیں شروع کردیں۔

کراچی میں جوڈیشل کمیشن نے سانحے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کی، اس موقع پر سربراہ کمیشن جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں، ہم چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں واقعے میں شہادتوں کا بہت افسوس ہے۔

جسٹس آغا فیصل نے کہا کہ کمیشن بنانے کا مقصد مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہے، مالی نقصان کی بھرپائی ہوجاتی ہے لیکن جانی نقصان کی نہیں ہوتی، آپ کے لیے کچھ سوالات تیار کیے ہیں، اس سلسلے میں آپ کی معاونت چاہتے ہیں۔

انہوں نے ورثا سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو یہاں جواب دیں یا ہائیکورٹ آجائیں، بہت سے لواحقین یہاں نہیں ہیں، چاہیں گے کہ تمام لواحقین اپنے بیانات دیں تاکہ تمام حقائق تک پہنچنے میں آسانی ہو، ہم عوام، حکومت سب سے معلومات مانگ رہے ہیں، چاہتے ہیں ریسکیو ورکرز تک بھی رسائی ملے کیونکہ تمام معلومات کی بنیاد پر جوابات تیار کرنے ہیں۔

دوران ملاقات سانحہ میں جاں بحق ہونے والے شہری عبدالحمید کی والدہ نے جسٹس آغا فیصل کو بتایا کہ میری بیٹے سے بات ہوئی تھی کہ رات تک گھر آجائےگا، ساڑھے 10 بجے بات ہوئی تو پتا چلا آگ لگ گئی ہے، بس نکل رہا ہوں، پھر وہ ایک بچے کو بچانے کیلئے رک گیااور ہمیں ٹکڑوں میں لاشیں ملی۔

ایک اور شہری کے بھائی عبدالعزیز نے بتایا کہ ساڑھے 10 بجے گل پلازہ پہنچا تو وہاں ایک گاڑی فائر بریگیڈ کی پہنچی تھی، ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہورہا تھا، ریسکیو کے لیے آخر میں آئے۔

جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ جائے وقوعہ پر ایمبولنسز موجود تھیں؟ اس پر عبدالعزیز نے بتایا کہ ایمبولینس موجود رہیں لیکن اندر کوئی نہیں گیا۔

جسٹس آغا فیصل نے سوال کیا کہ کس چیز سے آگ بجھائی جا رہی تھی؟ عبدالعزیز نے بتایا کہ پانی یا کیمیکل تھا لیکن آگ نہیں بجھ نہیں رہی تھی، جب آگ پر قابو پالیا گیا تو عمارت گرنا شروع ہوگئی تھی۔

جسٹس آغا فیصل نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا گل پلازہ کے دروازے کھلے تھے؟ شہری نے بتایا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ دروازے بند تھے جب کہ گل پلازہ کے صدر کہہ رہے تھے کہ دروازے کھلے تھے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *