تحریر: حافظ سعید احمد ربانی
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسلام جیسا کامل و مکمل دین محبت اور نفرت جیسی بنیادی فطری احساسات کے اصول و ضوابط سے تہی دامن ہو؟ ہوس پرستوں نے اپنی نفسانی خواہشات کو محبت کا نام دے کر اس کے لئے تمام تر راستے ہموار کرنے ہر ممکن کوشش کیا اور قانون سازی کے ذریعے ملکی و عالمی سطح پر نہ صرف اس ہوس پرستی کو نہ صرف جواز فراہم کیا گیا بلکہ اس کی تشہیر اور حوصلہ افزائی میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اسی سلسلے کی ایک کڑی 14 فروری ویلنٹائن ڈے ہے 14 فروری کو اس عنوان کے ساتھ منانے کی تاریخی پس منظر یہ ہے کہ 5ویں صدی عیسوی میں ایک پادری نے رومن شہنشاہ کی مخالفت کرتے ہوئے پسند کے جوڑوں کی شادی کروا دی جس پر اس پادری کو قتل کیا گیا اسی پادری کی یاد میں پوپ نے یہ دن منانے کا اعلان کر لیا جو کہ آج تک یوم محبت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے محبت ایک ایسی گہری فطری احساس ہے کہ ایک دن تو کیا صدیاں بھی محبت کی تشنگی بجھانے کے لئے کافی نہیں ہوں گے پھر ایک دن کو خاص کرنے کے پیچھے مخصوص ایجنڈا متحرک ہونے کے سوا اور کیا مقصد ہو سکتا تھا؟ ہر سال 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام پر مغرب ان کے نظریاتی حامی اور ان سے مرعوب اقوام کے ہاں فحاشی و عریانی کا ایک بازار گرم ہوتا ہے جس کے زیر اثر ہمارے بہت سے مسلمان بھی آ چکے ہیں محبت کا محبت بھرا عنوان اس لائق نفرت عمل پر چسپاں کرنے سے محبت نام ہی قابل نفرت بن چکی ہے کسی کی بہن بچی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے والے یہ بھول بیٹھے ہیں کہ ان کے اپنے گھروں میں بھی بہن یا بیٹی کی صورت میں عورت موجود ہے صنف نازک بھی اپنی عقلی ناپختگی کے باعث ایسے ہوس پرستوں پر اعتماد کر کے پوری زندگی عار کا طوق اپنے گلے ڈال دیتی ہیں یا پھر سیلفی اور ویڈیوز کے ذریعے عمر بھر بلیک میل رہتی ہیں اسلام غیرت اور پاکدامنی کا مذہب ہے حیاء اسلام کے تہتر شعبوں میں سے ایک اہم شعبہ ہے حیاء سے عاری شخص کسی بھی برائی میں عار محسوس نہیں کرتا اس لئے ایک مسلمان کو حیاء دار ہونا چاہیے کسی بھی غیر کی طرف نظر اٹھانے سے پہلے اپنے گھر میں موجود بہن بیٹیوں کا تصور کرے وگرنہ جو بوئے گا وہی کاٹنا پڑے گا مسلمان عورتوں کو باپردہ اور عفیفہ ہونا چاہیے وقتی خوشی اور ظاہری چمک کے پیچھے چل کر زندگی بھر پچھتانے کی بجائے اسلامی تعلیمات سے پیراستہ ہوکر دائمی خوشیوں کا راستہ اپنائیں ایک دن کی عیاشی اور بے راہ روی کو محبت نہیں کہا جا سکتا بلکہ محبت کا سب سے حسین بندھن نکاح ہے اور اس سے قبل کے تعلقات اور میل ملاپ دھوکے کے سوا کچھ نہیں کسی فلمی اداکارہ یا فاحشہ و فاجرہ کی پیروی کرنے کی بجائے حضرت خدیجہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما کی پاکیزہ سیرت کو اپنائیں اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابیاں اور خوشیاں مضمر ہیں۔



