کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
زندگی کی اصل خوشیاں اس وقت نظر آتی ہیں جب محروم اور مستحق طبقے کے چہروں پر مسکراہٹیں اور امید کے چراغ روشن ہوں اور یہی منظر بہاولنگر کے الفیصل پیلس میں منعقدہ 159 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی پروقار تقریب میں دیکھنے کو ملا، جہاں خوشیوں، دعاؤں اور مسکراہٹوں کا ایک دلکش منظر پیش ہوا۔ رواں ہفتے میاں محمد نواز شریف کے جان نثار ساتھی شفیق خان اور ایم پی اے رخسانہ شفیق کی دعوت پر جب مجھے اس پروگرام میں شرکت کا موقع ملا تو میں واقعی حیران رہ گیا کیونکہ یہ تقریب محض سرکاری کارروائی نہیں بلکہ احساس، خلوص اور اجتماعی خوشی کی بھرپور عکاسی کر رہی تھی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ”دھی رانی پروگرام“ کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ صرف ایک منتظم ہی نہیں بلکہ ایک ذمہ دار اور حساس ماں کا کردار ادا کر رہی ہیں؛ ایسی ماں جو اپنی بیٹیوں کو معاشی مجبوریوں کے اندھیروں میں تنہا نہیں چھوڑتی بلکہ انہیں وقار اور اعتماد کے ساتھ نئی زندگی کی دہلیز تک پہنچاتی ہیں۔ اس پروقار تقریب میں صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر پنجاب سہیل شوکت بٹ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی جبکہ پنجاب صاف پانی اتھارٹی کے چیئرمین چوہدری زاہد اکرم، ایم این اے میاں عالم داد لالیکا، ایم پی اے سہیل خاں زاہد کے علاوہ چشتیاں سے ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر چوہدری عبدالمجید جتالہ دیگر معزز شخصیات کی موجودگی نے اس اقدام کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور یوں محسوس ہوا جیسے پورا نظام ان بیٹیوں کی خوشیوں میں شریک ہے۔ ہر دلہن کو دو لاکھ روپے سلامی اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے فراہم کرنا محض مالی امداد نہیں بلکہ شفافیت، خودمختاری اور عزتِ نفس کی علامت ہے جبکہ عروسی ملبوسات اور پرتکلف ضیافت نے یہ ثابت کیا کہ اجتماعی شادی سادگی کے باوجود خوشیوں سے بھرپور ہو سکتی ہے اور ڈھول کی تھاپ پر نو بیاہتا جوڑوں کا پرتپاک استقبال اس امر کا اظہار تھا کہ یہ خوشی کسی ایک خاندان کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی خوشی ہے۔ ”دھی رانی پروگرام“ کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے بیٹی کی شادی کو معاشی بوجھ کے تصور سے نکال کر ریاستی ذمہ داری میں بدل دیا ہے، فضول رسومات اور دکھاوے کی روایت نے جہاں غریب والدین کو مشکلات میں مبتلا کیا وہاں اس پروگرام نے سادگی، مساوات اور اجتماعی ہم آہنگی کو فروغ دے کر مستحق خاندانوں کے وقار اور اعتماد کو بحال کیا۔ صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کا یہ کہنا کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماعی شادی منصوبہ ہے، اسی فلاحی عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت عوامی خدمت کو اولین ترجیح دے رہی ہے جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا نو بیاہتا جوڑوں کے لیے نیک تمناؤں اور مبارکباد کا پیغام اس حقیقت کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ قیادت ان خوشیوں میں دل سے شریک ہے۔ یہ تقریب صرف 159 شادیوں کی داستان نہیں بلکہ ایک نئے سماجی بیانیے کی ابتدا ہے، یہ اعلان ہے کہ بیٹی رحمت ہے، بوجھ نہیں اور جب ریاست ماں کا سایہ بن جائے تو خوشیاں جنم لیتی ہیں اور اگر یہی جذبہ، شفافیت اور تسلسل برقرار رہا تو ”دھی رانی پروگرام“ پنجاب میں سماجی فلاح، وقار اور امید کی ایک روشن مثال بن کر آنے والے وقتوں میں ہزاروں گھروں کو آباد کرنے کا وسیلہ بنتا رہے گا۔ یاد رہے، حقیقی ترقی اور خوشحالی صرف منصوبوں یا اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اس وقت ممکن ہے جب ریاست دل سے عوام کی فلاح کے لیے قدم اٹھائے، کمزوروں کی دستِ بازو بنے اور معاشرے میں مساوات، عزت اور امید کی فضا قائم کرے اور یہ پروگرام اس کی ایک روشن مثال ہے۔ بے شک، بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے کی بجائے معاشرے میں انہیں ”دھی رانی“ بنا کر پورے وقار کے ساتھ رخصت کرنا ہی اصل خدمتِ خلق اور فلاحی ریاست کی حقیقی تصویر ہے۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔



