دہشتگردی قومی مسئلہ ہے پوراپاکستان سامنا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان

featured
Share

Share This Post

or copy the link

وزےراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداءکے لواحقین کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیامِ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے منفی پروپیگنڈا کے ذریعے بلوچ نوجوانوں کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، تاہم حکومت اپنی قوم کو کسی لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلنے نہیں دے گی‘ ان خےالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خےال کرتے ہوئے کےا‘ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس کا سامنا پورا پاکستان کر رہا ہے، لہٰذا اس حساس معاملے کو سیاسی یا معاشی محرومیوں کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان کے سیاسی ایشوز اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن دہشت گردی ایک الگ اور سنگین چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی اور واضح حکمت عملی درکار ہے‘میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت نے کبھی بھی سیاسی مذاکرات سے انکار نہیں کیا‘ انہوں نے اپوزیشن اور سیاسی قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاآئیے سیاسی ڈائیلاگ کریں، انتخابی اصلاحات، بیوروکریسی، وسائل اور فنڈز کی منصفانہ تقسیم جیسے معاملات پر کھل کر بات کی جا سکتی ہے، مگر دہشت گردی کو ان امور سے نہیں جوڑا جا سکتا اسمبلی ہی وہ آئینی اور جمہوری فورم ہے جہاں تمام اختلافی اور عوامی مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے وزیراعلیٰ بلوچستان نے دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں، مزدوروں اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گرد عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور امن دشمنوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایک منظم انداز میں حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے غلط بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے۔ بندوق سے مسائل حل نہیں ہوتے، وزیراعلیٰ نے زور دیتے ہوئے کہا اور اس بات پر تاکید کی کہ تشدد اور بدامنی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید پیچیدگیوں کو جنم دیتی ہے۔میر سرفراز بگٹی نے سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فورسز اور شہریوں نے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور ان کی کاوشوں کی بدولت کئی بڑے خطرات کو بروقت ناکام بنایا گیا‘وزیراعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اربوں روپے کے منصوبوں پر کام جاری ہے، خصوصاً گوادر اور دیگر اہم علاقوں میں بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی کا عمل ایک تدریجی عمل ہے اور یہ تاثر درست نہیں کہ تمام علاقوں میں یکساں رفتار سے ترقی ممکن ہے‘انہوں نے مزید کہا کہ بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل پورے ملک میں موجود ہیں اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ محرومی کو جواز بنا کر معصوم جانوں کا ضیاع کسی صورت درست نہیںوزیراعلیٰ بلوچستان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ریاستی اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون جاری رکھیں اور کسی بھی قسم کے منفی بیانیے یا گمراہ کن پروپیگنڈا کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور ریاست کا مضبوط تعلق ہی پائیدار امن کی ضمانت ہے‘خطاب کے دوران میر سرفراز بگٹی نے شہداءکو خراج عقیدت پیش کیا اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین نہ صرف حقوق بلکہ ذمہ داریوں کی بھی بات کرتا ہے اور قومی مفاد سب سے مقدم ہے۔انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور خوشحالی کے سفر کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے مثبت اور تعمیری مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے ایوان میں ایک نظم بھی سنائی، جسے ارکان اسمبلی نے توجہ سے سنا

دہشتگردی قومی مسئلہ ہے پوراپاکستان سامنا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us