انڈیا کو مزید مسافر بردار طیاروں کی طلب، مگر کیا وہ خود انھیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

featured
Share

Share This Post

or copy the link

دنیا کی ہوا بازی کی مارکیٹ میں انڈیا تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انڈیا کی کمپنیاں انڈیگو اور ائیر انڈیا پہلے ہی 90 فیصد مارکیٹ پر قابض ہیں اور اگلی دہائی میں تقریباً 1500 مزید طیارے خریدنے کا آرڈر دے چکی ہیں، یہ رجحان مسافروں کی تعداد میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

اس توسیع کا انحصار بوئنگ اور ائیربس پر منحصر ہے، یہ کمپنیاں دنیا کے 86 فیصد طیارے فراہم کرتی ہیں۔ سنہ 2024 میں ان کی جانب سے طیارے فراہم کرنے میں تاریخی تاخیر ہوئی، اس کا اثر انڈیا کے آرڈرز پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اس صورت حال سے ایک پرانے سوال نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے: کیا انڈیا کو اپنے مسافر بردار طیارے خود بنانے چاہییں؟

یہ امکان اکتوبر میں توجہ کا مرکز بنا، جب انڈیا اور روس نے ماسکو میں ایس جے-100 مسافر طیارے بنانے کے ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے، اس سے ملک میں طیارہ سازی کی امیدیں بڑھ گئیں۔

لیکن کیا روس سے معاہدہ کوئی حل بھی فراہم کرے گا؟
ایس جے 100 دو انجنوں والا طیارہ ہے جو 103 مسافروں کے ساتھ اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ طیارہ یونائیٹڈ ائیرکرافٹ کارپوریشن (یو اے سی) بناتی ہے اور اس کے مطابق کئی روسی ائیرلائنز پہلے ہی یہ طیارہ استعمال کر رہی ہیں۔

دہلی اس طیارے کو گیم چینجر قرار دے رہا ہے اور مختصر فاصلوں کی پروازوں کے لیے اسے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن ماہرین اس منصوبے کی لاگت اور اس کے قابل عمل ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں، کئی باتیں تاحال غیر واضح ہیں۔ سب سے بڑا خدشہ تو یہ ہے کہ کیا روسی کمپنی انڈیا میں پیداوار کا نظام قائم کر کے اسے وسعت دے پائے گی یا نہیں۔

انڈیا کو مزید مسافر بردار طیاروں کی طلب، مگر کیا وہ خود انھیں بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us