Banner
Daily Sahafat Quetta
November 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خضدار: زیرو پوائنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحقسردار منظور کاکڑ کی آغا عبداللہ جان احمدزئی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیتیومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغامگر منصف جاگ رہا ہوعلامہ اقبالؒ: ایک ایسی شخصیت جسے کسی ایک تعارف میں قید نہیں کیا جا سکتاپاکستان عالمی مائننگ کمپنیوں کی میزبانی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تیارٹرمپ نے سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیامسلم باغ پولیس کی بروقت کارروائی، چوری کی واردات میں ملوث 3 ملزمان گرفتارمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں 8 سے 14 نومبر تک گرینڈ شمولیتی مہم چلائے گی، جمال شاہ کاکڑسکینہ عبداللہ خان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، عوامی اور خواتین کے مسائل پر گفتگوخضدار: زیرو پوائنٹ کے قریب ٹریفک حادثہ، موٹر سائیکل سوار جاں بحقسردار منظور کاکڑ کی آغا عبداللہ جان احمدزئی کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیتیومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغامگر منصف جاگ رہا ہوعلامہ اقبالؒ: ایک ایسی شخصیت جسے کسی ایک تعارف میں قید نہیں کیا جا سکتاپاکستان عالمی مائننگ کمپنیوں کی میزبانی اورغیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے تیارٹرمپ نے سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیامسلم باغ پولیس کی بروقت کارروائی، چوری کی واردات میں ملوث 3 ملزمان گرفتارمسلم لیگ (ن) بلوچستان میں 8 سے 14 نومبر تک گرینڈ شمولیتی مہم چلائے گی، جمال شاہ کاکڑسکینہ عبداللہ خان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات، عوامی اور خواتین کے مسائل پر گفتگو

یومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغام

یومِ علامہ اقبال: فکر، خودی اور تعمیرِ ملت کا پیغام
تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
9 نومبر برصغیر کے عظیم مفکر، شاعرِ مشرق، فلسفی اور مسلمانوں میں بیداریِ فکر پیدا کرنے والے عظیم رہنما ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یومِ پیدائش ہے۔ یہ دن محض ایک عظیم شاعر کی سالگرہ منانے کا موقع نہیں بلکہ ان کے افکار، فلسفۂ خودی، پیغامِ عمل اور مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داریوں پر غور کرنے کا دن بھی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری اور فکر کے ذریعے مسلمانوں کو غفلت، غلامی، مایوسی اور احساسِ کمتری سے نکل کر خود اعتمادی، علم، کردار اور عمل کی راہ اختیار کرنے کا درس دیا۔ علامہ محمد اقبالؒ کی شخصیت کئی پہلوؤں سے عظمت کی حامل تھی۔ وہ صرف شاعر نہیں تھے بلکہ ایک بلند پایہ فلسفی، قانون دان، مفکر اور سیاسی رہنما بھی تھے۔ انہوں نے اپنے کلام کے ذریعے ایسے خیالات پیش کیے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح اور بیداری پیدا کی۔ اقبالؒ کا سب سے اہم پیغام یہ تھا کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچانے، اپنی ذات پر اعتماد کرے اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنی تقدیر سنوارے۔ علامہ اقبالؒ کے فلسفے میں خودی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے نزدیک خودی غرور یا تکبر کا نام نہیں بلکہ اپنی پہچان، اپنی صلاحیتوں کے ادراک اور اعلیٰ مقصد کے لیے جدوجہد کا نام ہے۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو صرف ماضی پر فخر کرکے نہیں بلکہ علم، تحقیق، کردار اور مسلسل محنت کے ذریعے دوبارہ حاصل کریں۔ اقبالؒ کے نزدیک وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرسکتیں جو حالات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں اور اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہوجائیں اقبالؒ نوجوانوں کو قوم کا سرمایہ سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری میں نوجوانوں کے لیے امید، حوصلے اور عمل کا خصوصی پیغام موجود ہے۔ وہ نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دیتے تھے کیونکہ شاہین بلند پرواز، باہمت اور آزاد مزاج ہوتا ہے۔ آج کے نوجوانوں کے لیے اقبالؒ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہے۔ موجودہ دور میں تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اخلاق اور مضبوط کردار بھی ضروری ہیں۔ اگر نوجوان اقبالؒ کے پیغام کو سمجھ کر اپنی صلاحیتوں کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کریں تو وہ ملک و قوم کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو اتحاد اور اخوت کا درس بھی دیا۔ ان کے نزدیک قوموں کی طاقت صرف دولت یا وسائل میں نہیں بلکہ اتحاد، مشترکہ مقصد اور مضبوط کردار میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آج جب معاشرہ مختلف قسم کی تقسیموں اور اختلافات کا شکار ہے، اقبالؒ کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومی ترقی کے لیے باہمی احترام، برداشت اور اتحاد ضروری ہے۔ ہمیں ذاتی اور گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر ملک و قوم کی بہتری کے لیے سوچنا ہوگا۔ اقبالؒ کا ایک اہم پیغام علم اور تحقیق کی اہمیت بھی ہے۔ وہ مسلمانوں کو محض روایت کا پابند رہنے کے بجائے غور و فکر، تحقیق اور زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کی دعوت دیتے تھے۔ ان کے نزدیک اسلام ایک متحرک اور عملی نظامِ زندگی ہے جو انسان کو علم حاصل کرنے، کائنات پر غور کرنے اور مسلسل ترقی کی کوشش کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ آج کے جدید دور میں اقبالؒ کی یہ فکر نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکتی ہے۔ تحریک پاکستان کے حوالے سے بھی علامہ اقبالؒ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی شناخت کو واضح انداز میں اجاگر کیا۔ ان کے افکار نے مسلمانوں میں ایک الگ قومی شعور پیدا کیا اور انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے پر آمادہ کیا۔ اسی فکری بنیاد نے بعد میں قیامِ پاکستان کی جدوجہد کو مضبوط کیا۔ اس لیے علامہ اقبالؒ کو بجا طور پر پاکستان کے فکری معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یومِ اقبال مناتے ہوئے ہمیں صرف تقاریب، سیمینارز اور رسمی پروگراموں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہم نے اقبالؒ کے پیغام سے اپنی عملی زندگی میں کیا حاصل کیا ہے۔ کیا ہم علم کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں؟ کیا ہمارے نوجوان اپنے کردار اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی کوشش کررہے ہیں؟ کیا ہم قومی اتحاد کو مضبوط کررہے ہیں؟ اور کیا ہم اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری سے ادا کررہے ہیں؟ اگر ان سوالات کا جواب منفی ہے تو ہمیں اپنے رویوں اور ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ آج پاکستان کو درپیش مختلف سماجی، معاشی اور تعلیمی چیلنجز کے حل کے لیے اقبالؒ کی فکر سے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ خود اعتمادی، محنت، علم، تحقیق، اتحاد اور مضبوط کردار وہ بنیادی اصول ہیں جن پر ایک ترقی یافتہ اور باوقار قوم کی تعمیر ہوتی ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کو اقبالؒ کے افکار سے روشناس کرانے کے لیے تعلیمی اداروں، ادبی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ یومِ علامہ اقبال دراصل تجدیدِ عہد کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم قومیں خواب ضرور دیکھتی ہیں، مگر اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے مسلسل محنت اور جدوجہد بھی کرتی ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے مسلمانوں کو خواب بھی دیا، شعور بھی دیا اور عمل کا راستہ بھی دکھایا۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان کے افکار کو محض کتابوں اور تقریروں تک محدود رکھنے کے بجائے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔ علامہ اقبالؒ کا پیغام آج بھی زندہ اور قابلِ عمل ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے صحیح معنوں میں سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں نافذ کریں۔ اگر ہم علم، کردار، خود اعتمادی اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بنالیں تو یقیناً ہم ایک مضبوط، ترقی یافتہ اور باوقار پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہی یومِ اقبال کا حقیقی مقصد اور شاعرِ مشرق کو بہترین خراجِ عقیدت ہوگا۔
#siddiqmadani

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *