Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوابلوچستان کے کئی اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان، شمالی علاقوں میں سردی برقرار9 نومبر کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوابلوچستان کے کئی اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان، شمالی علاقوں میں سردی برقرار9 نومبر کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری

نفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکست

امریکی ریاس مشی گن کے انتخابی میدان سے اٹھنے والی ایک گونج نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کر لیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار کسی مسلمان سینیٹر نے کامیابی کے بعد پوڈیم پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا: “ہم نے ان شاء اللہ کو الحمدللہ میں بدل دیا ہے۔” یہ جملہ محض ایک سیاسی نعرہ یا لمحاتی جذبات کا اظہار نہیں تھا۔ یہ اس گہرے سیاسی، معاشی اور سفارتی بحران کا منطقی نتیجہ تھا جس میں حالیہ امریکی پالیسیوں نے پورے ملک کو دھکیل دیا تھا۔ برسوں سے جاری جارحانہ خارجہ پالیسی، مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی اور دنیا بھر سے چھیڑی جانے والی تجارتی جنگوں نے نہ صرف عالمی امن کو خطرے میں ڈالا، بلکہ امریکہ کے اندرونی ڈھانچے کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
انتخابی مہم کے دوران جب نفرت اور تقسیم کی سیاست کو عروج پر پہنچا دیا گیا، جب مخالفین پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور خوف کو ہتھیار بنا کر ووٹر کو ڈرایا گیا، تو عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے اس تقسیم کار بیانیے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے نفرت کے بجائے امید، اور تقسیم کے بجائے یکجہتی کا راستہ چنا۔ اس سیاسی تبدیلی کا سب سے بڑا محرک وہ معاشی بحران تھا جس نے عام امریکی شہری کی زندگی اجیرن بنا دی تھی۔ پٹرول کی قیمتوں میں تاریخی اضافہ، چار فیصد کے قریب پہنچتی مہنگائی اور اوسط امریکی خاندان پر پڑنے والا ہزاروں ڈالر کا اضافی سالانہ بوجھ اس حقیقت کا گواہ ہے کہ معاشی قوم پرستی کے کھوکھلے دعوے زمین پر بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔
جب وفاقی بجٹ کا خسارہ دو ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر جائے، اور سخت ترین محصولات کے باوجود تجارتی خسارہ کم ہونے کے بجائے ریکارڈ سطح کو چھونے لگے، تو ترقی کا پہیہ خود بخود سست پڑ جاتا ہے۔ دنیا بھر پر اندھا دھند ٹیرف عائد کرنے کی ضد کو بالآخر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے بھی غیر آئینی قرار دے کر حکومت کو بھاری رقوم سود سمیت واپس کرنے پر مجبور کیا۔ یہ انتظامیہ کے لیے صرف قانونی نہیں، اخلاقی ہزیمت بھی تھی۔ عوام نے یہ جان لیا کہ نعرے پیٹ نہیں بھرتے، اور نفرت سے روزگار نہیں ملتا۔ ووٹر نے روٹی، روزگار، صحت اور تعلیم کے سوال پر فیصلہ دیا، نہ کہ نعروں اور دھمکیوں پر۔
بین الاقوامی سطح پر سپر پاور کہلانے والے ملک کو شدید سفارتی تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے اپنے دیرینہ یورپی اور کینیڈین اتحادی بھی اس کی جنگ پسندی اور غیر متوقع فیصلوں سے تنگ آ کر اپنی معیشتوں کو امریکی اثرات سے آزاد کرنے کی حکمتِ عملی بنانے لگے۔ مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں میں یکطرفہ اور غیر منصفانہ موقف، اور غزہ کے مظلوم عوام کو بے دخل کرنے جیسی متنازع تجاویز کی حمایت نے عالمی برادری میں امریکہ کی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی دباؤ اور ہزیمت کا نتیجہ تھا کہ انتخابی شکست کے خوف سے سینیٹ کے انتخابات سے عین قبل اسرائیل کی اربوں ڈالر کی سالانہ فوجی امداد معطل کرنے کا ڈرامائی اعلان کرنا پڑا، لیکن تب تک پانی سر سے گزر چکا تھا۔ امریکی ووٹر اپنا فیصلہ کر چکا تھا۔
اس فتح کے پیچھے ایک اور بڑی طاقت بھی تھی — نوجوان نسل کی بیداری۔ نوجوان ووٹر نے نفرت کی سیاست کو رد کیا اور انصاف، برابری اور انسانی وقار کی سیاست کو گلے لگایا۔ سوشل میڈیا نے روایتی میڈیا کے جھوٹے بیانیے کو توڑ کر سچ کو گھر گھر پہنچایا۔ اسی طرح مشی گن کی مسلم کمیونٹی نے بھی اس بار محض ووٹر کا نہیں، بلکہ باشعور سیاسی قوت کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ مسلمان امریکہ میں مہمان نہیں، بلکہ اس جمہوریت کے برابر کے شہری ہیں، جنہیں اپنی آواز بلند کرنے اور قیادت کرنے کا پورا حق ہے۔ یہ کامیابی صرف ایک نشست کی کامیابی نہیں، بلکہ برسوں کی جدوجہد، صبر، تنظیم اور قربانیوں کا ثمر ہے۔
مڈٹرم انتخابات کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ عوام اب جنگی جنون اور معاشی تباہی کے مزید متحمل نہیں ہو سکتے۔ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں جگہوں پر آنے والی یہ بڑی تبدیلی واضح پیغام ہے کہ نفرت، ٹیرف کی جنگ اور دنیا کو بلڈوز کرنے کی سیاست اب مزید نہیں چلے گی۔ مشی گن کے ووٹرز نے تمام منفی پروپیگنڈے اور اپنے نمائندے کے خلاف کی جانے والی غلیظ مہم کو بالائے طاق رکھ کر تاریخ رقم کی۔ یہ کامیابی اس بات کی نوید ہے کہ جب خوف اور نفرت کی دیواریں حد سے زیادہ اونچی کر دی جائیں، تو شعور کا ایک جھونکا انہیں مسمار کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
دنیا نے دیکھ لیا کہ نفرت کی سیاست کا زوال ہو چکا ہے اور جنگی جنون کو شکست ہو چکی ہے۔ ان شاء اللہ کے طویل صبر اور جدوجہد نے بالآخر الحمدللہ کے شکرانے میں ڈھل کر یہ ثابت کر دیا کہ تاریخ ہمیشہ طاقتوروں کی نہیں، بلکہ ثابت قدم رہنے والوں کی لکھی جاتی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *