Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہواپنجگور: دو روزہ کتب میلے میں 10 لاکھ روپے کی کتابیں فروخت، طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکتصوبائی مشیر مینا مجید کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جارینفرت کی سیاست کا زوال اور جنگی جنون کی شکستقلات ، سنگداس پولیس چیک پوسٹ کیخلاف احتجاج کا الٹی میٹمٹرانسپورٹرز کا ہزار گنجی بس ٹرمینل کی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہ کرنے کا اعلانسنگداس پولیس پوسٹ پر مبینہ بھتہ وصولی کیخلاف کاروائی کا مطالبہتاریخ رو رہی ہےتاریخ کا خونی تسلسل، کابل 1978 سے کوئٹہ 2026 تکبولان: بجلی کا کرنٹ لگنے سے 9 سالہ بچہ جاں بحقسیوی: لونی روڈ پر ٹھیکیدار کے گھر کے قریب دستی بم حملہ، جانی نقصان نہیں ہوا

10 ہزار ملازمتوں سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ھوگا، پروفیسر حلیم صادق

10 ہزار ملازمتوں سے بلوچستان کا مسئلہ حل نہیں ھوگا، پروفیسر حلیم صادق
ہر سال لاکھوں نوجوان تعلیم مکمل کرکے روزگار کے منتظر رہتے ہیں، نوجوانوں کیلئے جامع روزگار پالیسی ناگزیر ہے۔صوبائی جنرل سیکرٹری
بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام پر خرچ کیے جائیں، عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ عوام پاکستان پارٹی
کوئٹہ : عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا ہے کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا حل صرف 10 ہزار ملازمتوں کے اعلان سے ممکن نہیں، کیونکہ صوبے میں ہر سال لاکھوں نوجوان مختلف تعلیمی اداروں سے تعلیم مکمل کرکے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں، جنہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو محض اعلانات اور وعدوں کے بجائے عملی اقدامات، روزگار کے مساوی مواقع اور بہتر مستقبل کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ ہے، یہاں گیس، معدنیات، ساحلی وسائل اور دیگر قدرتی ذخائر موجود ہیں، لیکن بدقسمتی سے صوبے کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ بلوچستان کے وسائل کو صوبے کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد میں مقامی آبادی کو ترجیح دینا ضروری ہے۔پروفیسر ڈاکٹر حلیم صادق نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیم، صحت، روزگار، پینے کے صاف پانی، بجلی، گیس اور بنیادی انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنائے بغیر ترقی کے دعوے مکمل نہیں ہوسکتے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کیلئے روزگار کے مستقل مواقع پیدا کرے، فنی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں کو فروغ دے اور صوبے کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام خیرات نہیں بلکہ اپنے وسائل میں جائز حصہ، بنیادی انسانی سہولیات، تعلیم، صحت اور باعزت روزگار چاہتے ہیں۔ صوبے کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب یہاں کے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق آگے بڑھنے کے مواقع ملیں اور بلوچستان کے وسائل کا حقیقی فائدہ یہاں کے عوام تک پہنچے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *