Banner
Daily Sahafat Quetta
October 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیروہڑی میں ایکسائز اینٹی نارکوٹکس پولیس کی بڑی کارروائی ایک کلو 800 گرام کرسٹل آئس برآمدبلوچستان میں ناکامی کے بعد دہشت گرد ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے تک محدود رہ گئے ہیں، تانیہ بازئیکوئٹہ میں کمسن بچے سے مبینہ زیادتی کا نامزد ملزم دو گھنٹے میں گرفتارلورالائی ٹیچنگ ہسپتال میں علاج کا نیا انقلابسینیٹ میں سرحدی تجارت کی بحالی اور 30 ہزار وفاقی ملازمتوں کا اعلان خوش آئند ہے، سینیٹر جان محمد بلیدیایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی: مریم نوازعوامی مسائل کا حل مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، میر سلیم کھوسہبلوچستان میں صحت کی سہولیات کی بہتری، مفت علاج کی فراہمی اور عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، بخت محمد کاکڑجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیروہڑی میں ایکسائز اینٹی نارکوٹکس پولیس کی بڑی کارروائی ایک کلو 800 گرام کرسٹل آئس برآمدبلوچستان میں ناکامی کے بعد دہشت گرد ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے تک محدود رہ گئے ہیں، تانیہ بازئیکوئٹہ میں کمسن بچے سے مبینہ زیادتی کا نامزد ملزم دو گھنٹے میں گرفتارلورالائی ٹیچنگ ہسپتال میں علاج کا نیا انقلابسینیٹ میں سرحدی تجارت کی بحالی اور 30 ہزار وفاقی ملازمتوں کا اعلان خوش آئند ہے، سینیٹر جان محمد بلیدیایک روپے کی بھی کرپشن ثابت ہوئی تو استعفیٰ دے دوں گی: مریم نوازعوامی مسائل کا حل مسلم لیگ (ن) کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، میر سلیم کھوسہبلوچستان میں صحت کی سہولیات کی بہتری، مفت علاج کی فراہمی اور عوامی مسائل کا حل ہماری اولین ترجیح ہے، بخت محمد کاکڑ

گلریز تبسمؔ ایک آواز جو خاموش ہوکر بھی گونجتی رہے گی

گلریز تبسمؔ ایک آواز جو خاموش ہوکر بھی گونجتی رہے گی
تحریر، شاکر خان
دنیا میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پہچان ان کے نام سے زیادہ ان کے کام سے ہوتی ہے۔ وہ اپنی زندگی میں جو نقوش چھوڑ جاتی ہیں، وقت کی گرد بھی انہیں دھندلا نہیں پاتی۔ ان کی آواز، ان کا فن اور ان کی تخلیقات آنے والی نسلوں کے لیے یادوں اور تاریخ کا سرمایہ بن جاتی ہیں۔ گلریز تبسمؔ بھی پشتو موسیقی کی ایسی ہی ایک شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی منفرد آواز، مخصوص اندازِ گائیکی اور فن سے غیر معمولی وابستگی کے ذریعے کئی دہائیوں تک سامعین کے دلوں میں جگہ بنائے رکھی۔
ان کی آواز میں ایک ایسی کشش تھی جو سننے والوں کو اپنی جانب متوجہ کرلیتی تھی۔ کبھی ان کے گیتوں میں محبت کی لطافت محسوس ہوتی، کبھی جدائی کا کرب سنائی دیتا، تو کبھی پشتون ثقافت، روایات اور مٹی سے محبت کے جذبات نمایاں ہوتے۔ انہوں نے ریڈیو، ٹیلی وژن، پشتو فلموں اور اسٹیج کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا اور ایک طویل فنی سفر طے کیا۔ گزشتہ روز 76 برس کی عمر میں ان کی وفات سے پشتو موسیقی کی دنیا ایک ایسے فن کار سے محروم ہوگئی جس نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سُر، لے اور آواز کے نام کردیا تھا۔
گلریز تبسمؔ کی زندگی محض ایک گلوکار کی داستان نہیں، بلکہ اس عہد کی موسیقی اور ثقافتی روایت کا ایک اہم حوالہ بھی ہے، جب فن کار اپنی محنت، ریاضت اور قدرتی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اپنی شناخت قائم کرتے تھے۔
موسیقی سے خاندانی وابستگی اور ابتدائی زندگی
گلریز تبسمؔ 1950ء میں ضلع صوابی کے تاریخی اور مردم خیز گاؤں مرغز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد استاد مہابت خان طبلے کے ماہر فن کار تھے، جبکہ ان کے چچا صحبت خان پشتو موسیقی کے معروف اور معتبر گلوکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ گھر میں موسیقی کا ماحول، فن سے وابستہ بزرگوں کی صحبت اور روایتی گائیکی سے قربت نے ان کے ذوق کو بچپن ہی سے جلا بخشی۔
ان کے لیے موسیقی کوئی اجنبی دنیا نہیں تھی، بلکہ یہ ان کے خاندانی ماحول اور ثقافتی ورثے کا حصہ تھی۔ انہوں نے اپنے بزرگوں کی فنی روایت کو نہ صرف اپنایا بلکہ اپنی آواز اور محنت کے ذریعے اسے ایک نئی پہچان دینے کی کوشش بھی کی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی گائیکی میں روایتی پشتو موسیقی کے رنگ نمایاں نظر آتے تھے۔
1969ء سے شروع ہونے والا فنی سفر
گلریز تبسمؔ نے 1969ء میں باقاعدہ طور پر موسیقی کی دنیا میں قدم رکھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن فن کاروں کی صلاحیتوں کو عوام تک پہنچانے کے اہم ذرائع تھے۔ انہوں نے اپنی سریلی آواز کے ذریعے ریڈیو اور ٹیلی وژن پر جگہ بنائی اور جلد ہی موسیقی کے شائقین میں پہچانے جانے لگے۔
ان کا فنی سفر تقریباً 46 برس تک جاری رہا۔ اس دوران انہوں نے لوک گیتوں، غزلوں، فلمی نغموں اور مختلف روایتی اصنافِ موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کی گائیکی میں سادگی، روانی اور جذبات کی سچائی تھی۔ وہ الفاظ کے مفہوم اور شاعری کے احساس کو اپنی آواز میں اس انداز سے ڈھالتے تھے کہ گیت محض موسیقی کا ایک ٹکڑا نہیں رہتا بلکہ سننے والے کے احساسات سے جڑ جاتا تھا۔
اسٹیج کی دنیا میں منفرد مقام
گلریز تبسمؔ کی فنی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو اسٹیج گلوکاری تھی۔ ان کے بقول، انہوں نے پاکستان اور بیرونِ ملک تقریباً دس ہزار اسٹیج پروگراموں میں شرکت کی۔ یہ تعداد ان کی غیر معمولی مصروفیت اور طویل فنی سرگرمیوں کی عکاس ہے۔
پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی موسیقی کی محفلوں میں ان کی شرکت سامعین کے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث ہوتی تھی۔ وہ صرف پشتو ہی نہیں بلکہ سرائیکی، ہندکو اور فارسی زبانوں میں بھی گیت پیش کرتے تھے۔ مختلف زبانوں میں گائیکی کی یہ صلاحیت ان کی فنی وسعت اور موسیقی سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
اسٹیج پر ان کی کامیابی کا ایک اہم سبب حاضرین کے مزاج کو سمجھنے کی صلاحیت تھی۔ وہ محفل کی نوعیت، سامعین کی پسند اور موقع کی مناسبت سے گیتوں کا انتخاب کرتے تھے۔ ان کی آواز میں اتار چڑھاؤ، اندازِ ادائیگی اور سامعین سے رابطے کی خوبی نے انہیں اسٹیج کا مقبول فن کار بنا دیا تھا۔
اسی عوامی مقبولیت کے باعث پشاور میں انہیں ’’اسٹیج کے بادشاہ‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جانے لگا۔ یہ لقب ان کے طویل اسٹیج کیریئر اور عوامی پذیرائی کا مظہر تھا۔ انہوں نے مختلف محفلوں میں اپنی گائیکی کے ذریعے لوگوں کو محظوظ کیا اور پشتو موسیقی کے روایتی رنگوں کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
پشتو غزل اور روایتی اصناف سے وابستگی
گلریز تبسمؔ کی گائیکی کا دائرہ صرف لوک گیتوں تک محدود نہیں تھا۔ وہ پشتو غزل سے بھی خصوصی دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ غزل پشتو شاعری کی ایک اہم اور مقبول صنف ہے، جس میں انسانی جذبات اور احساسات کو خوب صورتی سے بیان کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے متعدد غزلیں ریکارڈ کروائیں۔ ان کے فنی سفر کا ایک قابلِ ذکر پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے ایک ٹیلی وژن پروگرام کے لیے بیک وقت بیس غزلیں ریکارڈ کروانے کا تجربہ کیا۔
اس کے علاوہ انہوں نے پشتو شاعری کی روایتی اصناف، مثلاً سربیرہ، ټپې، چاربیتې اور بدلې میں بھی گائیکی کی۔ یہ اصناف پشتون معاشرت، لوک دانش، جذبات اور ثقافتی تاریخ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ان اصناف سے ان کی وابستگی اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ پشتو موسیقی کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ثقافتی ورثہ سمجھتے تھے۔
پشتو فلمی موسیقی میں خدمات
پشتو فلمی صنعت میں بھی گلریز تبسمؔ نے اپنی آواز کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کے مطابق، انہوں نے تقریباً 120 فلموں کے لیے گیت گائے۔ یہ ان کے فنی سفر کا ایک اہم حصہ تھا، جس نے انہیں ریڈیو اور اسٹیج سے آگے فلمی دنیا میں بھی شناخت عطا کی۔
فلمی موسیقی کے دوران انہوں نے معروف موسیقار رفیق شنواری کے ساتھ بھی کام کیا، تاہم ان کا زیادہ تر کام موسیقار ایس ٹی سنی کے ساتھ رہا۔ ان کے متعدد گیتوں کے بول معروف شاعر امیر غلام صادقؔ نے تحریر کیے۔ شاعری، دھن اور آواز کے اس امتزاج نے ان کے کئی گیتوں کو فلمی موسیقی کے شائقین میں مقبولیت دلائی۔
پشتو فلمی موسیقی ایک زمانے میں عوامی تفریح اور ثقافتی اظہار کا اہم ذریعہ تھی۔ گلریز تبسمؔ ان فن کاروں میں شامل تھے جنہوں نے اس دور میں اپنی آواز کے ذریعے فلمی صنعت کو یادگار نغمے دیے۔
گلوکاری کے ساتھ اداکاری کا تجربہ
گلریز تبسمؔ نے اپنی صلاحیتوں کو صرف گلوکاری تک محدود نہیں رکھا بلکہ اداکاری کے میدان میں بھی کام کیا۔ انہوں نے پشتو فلموں اور ٹیلی وژن ڈراموں میں مختلف کردار ادا کیے۔ ان کے بعض کرداروں کو ناظرین کی جانب سے پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔
ان کے ایک قریبی دوست، جو فلم پروڈیوسر تھے، نے انہیں ایک فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔ تاہم یہ فلم تجارتی اعتبار سے کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ اس کے باوجود گلریز تبسمؔ کو اپنی اداکاری کی صلاحیتوں پر اعتماد تھا اور ان کی خواہش تھی کہ انہیں مستقبل میں گلوکاری کے ساتھ اداکاری کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے۔
اعزازات اور فنی خدمات کا اعتراف
ایک طویل فنی سفر کے دوران گلریز تبسمؔ کو مختلف اعزازات اور اسناد سے نوازا گیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومتِ پاکستان کی جانب سے صدارتی اعزاز بھی ملا۔ تاہم اس اعزاز کے سال کے حوالے سے ان کے مختلف بیانات میں 2002ء اور 2006ء کا ذکر ملتا ہے، جس کی مستند ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔
پاکستان ٹیلی وژن کے پروڈیوسر مرحوم عالم زیب عامر نے بھی ان کی فنی خدمات کو سراہتے ہوئے پشاور میں ان کی تاج پوشی کی۔ اسی طرح پشتو فلموں کے معروف فن کاروں بدر منیر اور طارق شاہ نے کراچی میں ان کی عزت افزائی کے لیے ایک بڑے پروگرام کا اہتمام کیا۔
یہ اعزازات اس بات کی علامت تھے کہ ان کی فنی خدمات کو مختلف حلقوں میں تسلیم کیا گیا۔ ان کی پہچان صرف ایک گلوکار کی نہیں تھی بلکہ وہ پشتو موسیقی کی اس روایت کے نمائندہ تھے جس نے کئی نسلوں تک عوامی ثقافت کو متاثر کیا۔
ایک فن کار کا خاندانی ورثہ
گلریز تبسمؔ اپنے خاندان کی موسیقی سے وابستگی کو اپنی شناخت کا اہم حصہ سمجھتے تھے۔ ان کے چچا صحبت خان پشتو موسیقی کے معروف نام تھے اور ان کے مطابق، صحبت خان کے متعدد گیتوں کی ریکارڈنگ بھارت اور یورپ میں بھی محفوظ تھی۔
ان کے خاندان کے دیگر افراد نے بھی موسیقی کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ ان کے ایک چچا زاد بھائی نے اردو فلموں کی موسیقی ترتیب دی، جن میں ’’ستاروں کی دنیا‘‘ اور ’’عشق‘‘ شامل ہیں۔ معروف قوالی ’’میرا کوئی نہیں تیرے سوا‘‘ کی کمپوزیشن بھی انہی سے منسوب کی جاتی ہے۔ ان کے ایک دوسرے چچا زاد بھائی جعفر حسین کلاسیکی موسیقی کے استاد تھے اور ریڈیو و ٹیلی وژن کے لیے متعدد گیتوں کی دھنیں ترتیب دے چکے تھے۔
یوں ان کا خاندان موسیقی کی مختلف اصناف اور شعبوں سے وابستہ رہا۔ گلریز تبسمؔ کو اس بات پر فخر تھا کہ ان کے بزرگوں نے فن کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں سے نام پیدا کیا، تاہم انہیں اس بات کا افسوس بھی تھا کہ ان کے بعد خاندان میں کوئی دوسرا فرد موسیقی کے شعبے میں آگے نہیں آیا۔
ان کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا محمد فیاض تبسمؔ ہیں۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت اور کفالت کو خصوصی اہمیت دیتے تھے۔ ان کا بیٹا حافظِ قرآن ہے، جس پر انہیں فخر تھا۔ بظاہر وہ چاہتے تھے کہ ان کے خاندان کی فنی روایت بھی آگے بڑھے، مگر انہوں نے اپنی اولاد کی تعلیم اور مستقبل کو بھی ہمیشہ اہمیت دی۔
روایتی موسیقی کے بدلتے رنگ اور ان کا مؤقف
گلریز تبسمؔ کی شخصیت کا ایک دلچسپ پہلو موسیقی کے جدید رجحانات کے حوالے سے ان کا نقطۂ نظر تھا۔ وہ پرانی موسیقی کو روح کی غذا قرار دیتے تھے اور جدید موسیقی میں بڑھتے ہوئے شور اور سادگی کے فقدان پر تنقید کرتے تھے۔ ان کے نزدیک موسیقی کی اصل خوب صورتی بلند آواز، تیز دھنوں یا جدید سازوں میں نہیں بلکہ سُر، لے، شاعری اور احساس کی ہم آہنگی میں پوشیدہ ہے۔
وہ سمجھتے تھے کہ ایک اچھا گیت وہی ہوتا ہے جو سننے والے کے دل پر اثر کرے اور جسے بار بار سننے کے باوجود اس کی دل کشی برقرار رہے۔ ان کا یہ مؤقف ان کے اپنے فنی مزاج اور روایتی موسیقی سے وابستگی کی ترجمانی کرتا تھا۔
2015ء میں گلوکاری سے کنارہ کشی
تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط فنی سرگرمیوں کے بعد گلریز تبسمؔ نے 2015ء میں گلوکاری سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔ ان کے مطابق، عمر کے تقاضوں اور بڑھاپے کے باعث انہوں نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ تاہم وہ اپنے طویل فنی سفر سے مطمئن تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ موسیقی نے انہیں عزت، شہرت اور معاشی آسودگی فراہم کی۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جو کچھ حاصل کیا، اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھتے تھے۔ ان کی گفتگو سے یہ تاثر ملتا تھا کہ وہ اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ اپنے فن سے وابستہ یادوں اور عوام کی محبت کو بھی قیمتی سرمایہ تصور کرتے تھے۔
گلریز تبسمؔ کی رخصتی اور پشتو موسیقی کا نقصان
گلریز تبسمؔ کا انتقال پشتو موسیقی کے لیے ایک اہم نقصان ہے۔ ان کی وفات کے ساتھ ایک ایسے فن کار کا سفر تمام ہوا جس نے اپنی آواز کو کئی دہائیوں تک عوامی جذبات اور ثقافتی روایت کے اظہار کا ذریعہ بنائے رکھا۔
وہ اس نسل سے تعلق رکھتے تھے جس نے ریڈیو کے سنہری دور سے لے کر ٹیلی وژن، فلمی موسیقی اور جدید اسٹیج تک تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے مختلف ادوار میں سامعین سے تعلق قائم رکھا اور پشتو زبان کے گیتوں کو عوامی سطح پر مقبول بنانے میں حصہ لیا۔
ان کی زندگی ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی زبان اور ثقافت کی شناخت صرف کتابوں اور تاریخی حوالوں سے قائم نہیں رہتی بلکہ فن کار، شاعر، گلوکار اور موسیقار بھی اس کے امین ہوتے ہیں۔ وہ اپنی آواز اور تخلیقات کے ذریعے معاشرے کی خوشیوں، دکھوں، محبتوں اور روایات کو محفوظ کرتے ہیں۔
آج گلریز تبسمؔ جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی ریکارڈ شدہ آواز، فلمی نغمے، غزلیں اور اسٹیج کی محفلوں سے وابستہ یادیں ان کے فن کی موجودگی کا احساس دلاتی رہیں گی۔
وقت گزرنے کے ساتھ نسلیں بدلتی ہیں، چہرے اوجھل ہوجاتے ہیں اور بہت سی آوازیں خاموشی میں گم ہوجاتی ہیں، لیکن فن کی دنیا میں بعض نام ایسے ہوتے ہیں جنہیں فراموش کرنا آسان نہیں ہوتا۔ گلریز تبسمؔ بھی انہی فن کاروں میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی آواز سے ایک عہد کی نمائندگی کی۔
مرغز کی سرزمین سے اٹھنے والی یہ سُریلی آواز اب خاموش ہوچکی ہے، مگر اس کے گیت پشتو موسیقی کے دامن میں محفوظ رہیں گے۔ ان کی زندگی کا حاصل یہی ہے کہ انہوں نے اپنے فن کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی اور اپنی زبان و ثقافت کی خدمت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔
گلریز تبسمؔ چلے گئے، مگر ان کی آواز کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا؛ وہ اپنے گیتوں میں، اپنی دھنوں میں اور ان لوگوں کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے جنہوں نے کبھی ان کی آواز سن کر خوشی محسوس کی تھی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *