Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
صحافیوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا، میاں اشتیاق علیچیف آفیسر محیب اللہ بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی سے لورالائی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسینبسم اللہ خان لونی، چھ سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنماناصرآباد میں تین روز سے بجلی بند، پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی، حاجی حسن ناصرروہڑی: بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام، بزرگ خاتون کا احتجاجشاہراہوں پر دوڑتے متحرک بم اور ہماری غفلتحب میں پانی کی ضلع سے باہر ترسیل پر پابندی، تمام سابقہ اجازت نامے منسوخدہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستانفیلڈ مارشل امن کے پیامبر بن کر تہران گئے، میری موجودگی ضروری نہیں تھی خواجہ آصف کا مولانا کو جواببینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد بڑھا دی گئی، رپورٹ ایف ایم یو کو دینا لازم قرارصحافیوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا، میاں اشتیاق علیچیف آفیسر محیب اللہ بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی سے لورالائی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسینبسم اللہ خان لونی، چھ سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنماناصرآباد میں تین روز سے بجلی بند، پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی، حاجی حسن ناصرروہڑی: بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام، بزرگ خاتون کا احتجاجشاہراہوں پر دوڑتے متحرک بم اور ہماری غفلتحب میں پانی کی ضلع سے باہر ترسیل پر پابندی، تمام سابقہ اجازت نامے منسوخدہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، وزیر اعلیٰ بلوچستانفیلڈ مارشل امن کے پیامبر بن کر تہران گئے، میری موجودگی ضروری نہیں تھی خواجہ آصف کا مولانا کو جواببینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ کی حد بڑھا دی گئی، رپورٹ ایف ایم یو کو دینا لازم قرار

خیبر پختونخوا؛ تحریک انصاف حکومت میں ہونیوالی قانون سازی کا جائزہ لینے کا فیصلہ

خیبر پختونخوا حکومت نے تحریک انصاف کے دورِ اقتدار میں صوبائی اسمبلی سے منظور کیے گئے قوانین کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے محکمہ قانون نے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

کمیٹی صوبائی اسمبلی سے منظور ہونے والے 74 قوانین کا جائزہ لے گی اور آئندہ سات روز میں اپنی تفصیلی رپورٹ اور سفارشات اعلیٰ حکام کو پیش کرے گی، جس کی روشنی میں مستقبل کے لائحہ عمل کا تعین کیا جائے گا۔

جائزے میں 20 مختلف صوبائی محکموں، پراسیکیوشن، جامعات اور میڈیکل ٹیچنگ اداروں سے متعلق قانون سازی شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی کے ارکان کے اختیارات اور مراعات سے متعلق قوانین کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ قانونی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کیا جا سکے۔

مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا ثمر ہارون بلور کے مطابق تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں متعدد قوانین عجلت اور غیر شفاف طریقے سے منظور کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین کا ازسرِنو جائزہ لینا اور ضروری اصلاحات کرنا حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *