Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13, 13 سال قید کی سزاجے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیاحیوانی جبلت اور انسانی شعور: بقاء کی جنگ کا فلسفہمیرٹ پر اصلاحات سے قوم پرست جماعتیں خائف کیوں ہیں؟ میر ظہور بلیدی کا سوالصحافیوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا، میاں اشتیاق علیچیف آفیسر محیب اللہ بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی سے لورالائی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسینبسم اللہ خان لونی، چھ سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنماناصرآباد میں تین روز سے بجلی بند، پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی، حاجی حسن ناصرروہڑی: بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام، بزرگ خاتون کا احتجاجشاہراہوں پر دوڑتے متحرک بم اور ہماری غفلتبیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13, 13 سال قید کی سزاجے ڈی وینس کا محسن رضائی کو خط، ٹرمپ نے ایران کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے سے انکار کردیاحیوانی جبلت اور انسانی شعور: بقاء کی جنگ کا فلسفہمیرٹ پر اصلاحات سے قوم پرست جماعتیں خائف کیوں ہیں؟ میر ظہور بلیدی کا سوالصحافیوں کے حقوق، تحفظ اور وقار کے لیے متحد ہونا ہوگا، میاں اشتیاق علیچیف آفیسر محیب اللہ بلوچ کی ذاتی دلچسپی اور نگرانی سے لورالائی میں صفائی ستھرائی کی صورتحال میں بہتری، عوامی حلقوں کا خراجِ تحسینبسم اللہ خان لونی، چھ سال بعد بھی یادوں میں زندہ ایک مخلص سیاسی، قبائلی اور سماجی رہنماناصرآباد میں تین روز سے بجلی بند، پینے کے پانی کی قلت بھی پیدا ہوگئی، حاجی حسن ناصرروہڑی: بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام، بزرگ خاتون کا احتجاجشاہراہوں پر دوڑتے متحرک بم اور ہماری غفلت

روہڑی: بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام، بزرگ خاتون کا احتجاج

روہڑی: بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کا الزام، بزرگ خاتون کا پریس کلب کے سامنے احتجاج، ایس ایس پی سکھر سے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
سکھر (رپورٹ: اسلم سومرو) روہڑی کے علاقے لوکوشیڈ کے ممبراڻي محلے کی رہائشی بزرگ خاتون شاہینہ عباسی نے اپنے نوجوان بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے اور جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرانے کے خلاف روہڑی پریس کلب کے سامنے اپنی نوجوان بیٹی انیلا کے ہمراہ احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران خاتون نے اعلیٰ پولیس حکام سے اپیل کی کہ ان کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کا نوٹس لیا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کرکے انصاف یقینی بنایا جائے احتجاج کرنے والی شاہینہ عباسی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے 27 سالہ بیٹے وقاص احمد کی تقریباً تین سال قبل 50 سالہ شادی شدہ خاتون مسماۃ مافیا سے شادی ہوئی تھی، جس کے بعد سے ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گھریلو معاملات کے باعث ان کے بیٹے کو مسلسل پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، تاہم ان کے مطابق معاملہ اس وقت سنگین صورت اختیار کرگیا جب تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر جلا دیا گیا شاہینہ عباسی کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر جلائے جانے کے واقعے کے نتیجے میں ان کے بیٹے کی تولیدی صلاحیت متاثر ہوئی ہے اور وہ اب اولاد پیدا کرنے کے قابل نہیں رہا۔ انہوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل چھان بین کی جائے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے بزرگ خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ گزشتہ رات روہڑی پولیس نے ان کے بیٹے وقاص احمد کو ایک جھوٹے مقدمے میں گرفتار کرلیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے ہی اپنے بیٹے کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ واقعے کے باعث پریشان ہیں اور اب گرفتاری نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ مقدمے کی نوعیت اور گرفتاری کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے اور کسی بھی بے گناہ شخص کے ساتھ ناانصافی نہ ہونے دی جائے شاہینہ عباسی نے ایس ایس پی سکھر سے پرزور مطالبہ کیا کہ ان کے بیٹے کو مبینہ طور پر جلانے کے واقعے اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، خاندان کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے معاملے کا جائزہ لیا جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے انصاف کی فراہمی اور معاملے کو قانون کے مطابق حل کرنے کی اپیل کی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *