Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ٹی این ایف جے کے زیر اہتمام یومِ خاتونِ جنت ٔ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیاجماعتی مؤقف کی مؤثر ترجمانی کے لیے اطلاعاتی شعبے کو فعال بنانا ہوگا، مولانا عبدالرحمن رفیقای ران، ام ریکہ اور تیسری عالمی جنگ کون کس کو سمجھنے میں ناکام رہا؟مسلم لیگ ہاؤس لاہور میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے اہم اجلاس، ق لیگ نے کمر کس لیسکھر یونین آف جرنلسٹس کا آزادیٔ صحافت کی تحریک میں بھرپور شرکت کا اعلاناحمد شاہ بہار کی اہلیہ انتقال کر گئیں، کوئٹہ میں فاتحہ خوانی جاریخان کوٹ شھلیانی میں بیگم نصرت بھٹو کی 15ویں برسی کے موقع پر دعائیہ تقریبکوکیاں والا اور 219 رب میں پتنگ بازی کا مبینہ بڑھتا رجحان، انتظامیہ خاموش کیوں؟فرخ ممتاز وڑائچ کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر شہریوں کا ردعمل، الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیامیرپورخاص میں پولیو کے عالمی دن پر وہیل چیئر کرکٹ میچ، گلستان معذورین کی ٹیم 10 وکٹوں سے کامیابٹی این ایف جے کے زیر اہتمام یومِ خاتونِ جنت ٔ عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیاجماعتی مؤقف کی مؤثر ترجمانی کے لیے اطلاعاتی شعبے کو فعال بنانا ہوگا، مولانا عبدالرحمن رفیقای ران، ام ریکہ اور تیسری عالمی جنگ کون کس کو سمجھنے میں ناکام رہا؟مسلم لیگ ہاؤس لاہور میں بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے اہم اجلاس، ق لیگ نے کمر کس لیسکھر یونین آف جرنلسٹس کا آزادیٔ صحافت کی تحریک میں بھرپور شرکت کا اعلاناحمد شاہ بہار کی اہلیہ انتقال کر گئیں، کوئٹہ میں فاتحہ خوانی جاریخان کوٹ شھلیانی میں بیگم نصرت بھٹو کی 15ویں برسی کے موقع پر دعائیہ تقریبکوکیاں والا اور 219 رب میں پتنگ بازی کا مبینہ بڑھتا رجحان، انتظامیہ خاموش کیوں؟فرخ ممتاز وڑائچ کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر شہریوں کا ردعمل، الزامات کو بے بنیاد قرار دے دیامیرپورخاص میں پولیو کے عالمی دن پر وہیل چیئر کرکٹ میچ، گلستان معذورین کی ٹیم 10 وکٹوں سے کامیاب

ای ران، ام ریکہ اور تیسری عالمی جنگ کون کس کو سمجھنے میں ناکام رہا؟

ای ران، ام ریکہ اور تیسری عالمی جنگ کون کس کو سمجھنے میں ناکام رہا؟

کالم نگار: ایس ایم مرموی

دنیا میں جنگیں صرف میزائلوں سے نہیں لڑی جاتیں بعض جنگیں غلط اندازوں انا کے پہاڑوں اور طاقت کے نشے میں بھی لڑی جاتی ہیں تاریخ کا ایک دلچسپ سبق یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنے حریف کی کمزوریوں کا حساب تو لگا لیتی ہیں مگر اس کے عزم برداشت اور مزاحمت کی صلاحیت کو ناپنے میں غلطی کر جاتی ہیں پھر ایک دن انہیں احساس ہوتا ہے کہ جس ملک کو وہ نقشے پر چند لکیروں سے محدود سمجھ رہی تھیں اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ، ایک قومی شناخت اور مزاحمت کا ایک پیچیدہ نظام موجود ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے سوال یہ نہیں کہ کون زیادہ طاقتور ہے سوال یہ ہے کہ طاقت کا استعمال اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنے میں کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے امریکہ کے پاس جدید ترین جنگی طیارے، بحری بیڑے، جدید ٹیکنالوجی اور دنیا بھر میں پھیلا ہوا فوجی اثرورسوخ ہے اسرائیل کے پاس جدید دفاعی نظام انٹیلی جنس نیٹ ورک اور طاقتور اتحادیوں کی حمایت موجود ہے۔ دوسری طرف ایران ہے جو کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی محاصرے جیسے حالات کا سامنا کرتا آیا ہے بظاہر یہ مقابلہ غیر مساوی ہے لیکن جنگوں کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ غیر مساوی مقابلوں کے نتائج ہمیشہ طاقت کے تناسب سے نہیں نکلتے۔
امریکی حکمتِ عملی کے بنیادی سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ کیا کسی ریاست کی اعلیٰ قیادت اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اس کی سیاسی مزاحمت ختم کی جا سکتی ہے یہ سوال نیا نہیں۔ عراق، افغانستان اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں مختلف حالات اور مختلف نتائج کے باوجود ان تجربات نے یہ واضح کیا کہ فوجی کارروائی کے ذریعے کسی حکومت کو کمزور کرنا ایک بات ہے مگر اس کے بعد مستحکم سیاسی نظام قائم کرنا بالکل دوسری بات ایران کے معاملے میں بھی یہی سوال اہم ہے یکم اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے ایک تجزیے میں یورپی امور کے مرکز OSW نے لکھا کہ امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے ایران کو اپنے مطلوبہ سیاسی نتائج قبول کرنے پر مجبور کرنے میں ناکام رہے جبکہ ایرانی نظام نے قیادت کے نقصان کے باوجود اپنا انتظامی اور سیاسی تسلسل برقرار رکھا بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط دکھائ دے رہے ہیں اس تجزیے کے مطابق ایران نے اپنے مخالفین کو فیصلہ کن فوجی شکست دینے کے بجائے ان کے لیے جنگ کی قیمت بڑھانے کی حکمتِ عملی اختیار کی یہاں امریکہ کے لیے اصل سوال پیدا ہوتا ہے اگر جدید ترین ہتھیار کسی ملک کے بنیادی سیاسی فیصلوں کو تبدیل نہ کر سکیں تو پھر فتح کا معیار کیا ہوگا؟
کیا فتح صرف تباہ ہونے والی تنصیبات کی تعداد ہے؟ کیا مخالف فوج کو پہنچنے والا نقصان فتح کہلائے گا؟ یا اصل کامیابی یہ ہے کہ جنگ کے اختتام پر مطلوبہ سیاسی مقاصد حاصل بھی ہوں؟۔یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب جنگ کے میدان سے زیادہ سفارت کاری کی میز پر تلاش کرنا ہوں گے۔
ایران کی طاقت کا تجزیہ کرتے وقت دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے پہلی انتہا یہ کہ ایران کو ناقابلِ شکست سمجھ لیا جائے اور دوسری یہ کہ امریکی عسکری برتری کو ایران کے فوری خاتمے کی ضمانت قرار دے دیا جائے ایران کی مزاحمت کے پیچھے کئی عوامل ہیں اس کا جغرافیہ، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں، علاقائی تعلقات، دفاعی حکمتِ عملی اور طویل عرصے سے پابندیوں میں رہنے کا تجربہ اسے ایک ایسا حریف بناتے ہیں جسے محض فضائی حملوں سے زیر کرنا آسان نہیں۔
لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے طویل جنگ معیشت کو کمزور کرتی ہے، شہری زندگی کو متاثر کرتی ہے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچاتی ہے اور عوام کے لیے مشکلات بڑھاتی ہے پابندیوں اور جنگی دباؤ کا بوجھ بالآخر عام شہریوں کو بھی اٹھانا پڑتا ہے اس لیے ایران کی مزاحمت کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی تمام پالیسیوں کو درست قرار دے دیا جائے کسی ریاست کی خودمختاری کا احترام اور اس کی حکومت کے ہر اقدام کی حمایت دو الگ باتیں ہیں۔
ایران کے حامی اسے امریکی بالادستی کے خلاف مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں ناقدین اس کی علاقائی سرگرمیوں اور اندرونی سیاسی صورتِ حال پر سوال اٹھاتے ہیں ایک سنجیدہ تجزیہ ان دونوں پہلوؤں کو دیکھے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ امریکہ دنیا کی بڑی عسکری اور معاشی طاقتوں میں شامل ہے، مگر طاقت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے اگر کسی جنگ کا مقصد خطرات کم کرنا اپنے اتحادیوں کا تحفظ کرنا اور خطے میں استحکام پیدا کرنا ہے تو پھر اس مقصد کے حصول کا جائزہ بھی انہی پیمانوں پر لیا جانا چاہیے۔
اگر جنگ کے نتیجے میں خطہ مزید غیر مستحکم ہو تیل کی ترسیل متاثر ہو اتحادی ممالک عدم تحفظ محسوس کریں اور مخالف ریاست پہلے سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کر لے تو کیا اسے مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے؟ اکتوبر 2026 کے آغاز میں شائع ہونے والی OSW کی رپورٹ نے آبنائے ہرمز اور توانائی کی ترسیل کو اس تنازع کے اہم محاذ قرار دیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اور امریکہ کی کشمکش اب صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہی اس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی قیمتوں اور علاقائی سلامتی تک پھیل چکے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک طاقتور ریاست کو اپنے فیصلوں کے نتائج پر غور کرنا پڑتا ہے کیونکہ جنگ شروع کرنے کا فیصلہ سیاسی قیادت کرتی ہے، مگر اس کی قیمت اکثر وہ شہری ادا کرتے ہیں جن کا جنگ کے فیصلوں میں کوئی کردار نہیں ہوتا۔
اس تنازعے کا ایک اہم پہلو اسرائیل کی سلامتی اور فلسطین کا مستقبل ہے اسرائیل اپنی سلامتی کو ایران کی عسکری اور جوہری صلاحیتوں سے جوڑتا ہے جبکہ ایران فلسطینی کاز کی حمایت کو اپنی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔
لیکن اس پورے تنازع میں ایک بنیادی سوال اکثر پس منظر میں چلا جاتا ہے فلسطینی عوام کو کب انصاف ملے گا؟کیا مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن صرف فوجی طاقت کے ذریعے قائم ہو سکتا ہے؟ کیا فلسطینیوں کے سیاسی حقوق، آزادی، سلامتی اور باوقار زندگی کے مسئلے کو حل کیے بغیر خطے میں دیرپا استحکام ممکن ہے؟ بیت المقدس کی آزادی بہت سے مسلمانوں کی دینی اور جذباتی آرزو ہے اس آرزو کا احترام اپنی جگہ لیکن اسے محض جنگی نعروں یا یقینی پیش گوئیوں سے پورا ہوتا ہوا قرار نہیں دیا جا سکتا اس کے لیے سیاسی حکمتِ عملی، عالمی سفارت کاری، فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ اور ایک قابلِ عمل امن کی ضرورت ہے۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ تیسری عالمی جنگ لازماً فلسطین کی آزادی پر منتج ہوگی تو اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ اس جنگ کی انسانی قیمت کیا ہوگی اور اس کے پھیلاؤ کو کیسے روکا جائے گا۔ امید رکھنا انسانی حق ہے، مگر امید کو یقینی خبر بنا دینا دانش مندی نہیں۔
آج سوشل میڈیا پر یہ دعوے عام ہیں کہ چند دنوں میں تیسری عالمی جنگ شروع ہونے والی ہے، دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی اور ایک فریق مکمل فتح حاصل کرے گا ایسے دعوے جذبات کو ضرور گرماتے ہیں لیکن ان کی بنیاد جانچنا ضروری ہے۔
علاقائی جنگ اور عالمی جنگ میں فرق ہے۔ عالمی جنگ کی صورت میں متعدد بڑی طاقتیں براہِ راست ایک دوسرے کے خلاف عسکری کارروائیوں میں شریک ہو سکتی ہیں مختلف خطوں میں محاذ کھل سکتے ہیں اور عالمی معیشت شدید بحران کا شکار ہو سکتی ہے ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم کے وسیع ہونے کا خطرہ حقیقی ہے مگر خطرے کی موجودگی اس بات کا ثبوت نہیں کہ عالمی جنگ کسی متعین دن یا چند روز میں شروع ہو جائے گی۔
۹یکم اکتوبر 2026 کے OSW تجزیے کے مطابق مکمل پیمانے پر جنگ کی فوری واپسی ناگزیر نہیں کیونکہ دونوں جانب اس کے اخراجات اور خطرات موجود ہیں۔ تاہم تنازع کے بنیادی اسباب حل نہ ہونے کے باعث کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس لیے دانش مندی یہ نہیں کہ ہر خبر کو قیامت کی آمد قرار دے دیا جائے بلکہ یہ ہے کہ سفارتی سرگرمیوں، عسکری نقل و حرکت علاقائی ردِعمل اور عالمی معیشت پر اثرات کا مسلسل جائزہ لیا جائے۔
یہاں سب سے اہم سوال عالمِ اسلام سے متعلق ہے۔ اگر مسلمان ممالک فلسطین کے معاملے پر مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں تو ان کی عملی حکمتِ عملی کیا ہے؟ اگر وہ خطے میں امن چاہتے ہیں تو سفارتی کوششوں میں ان کا کردار کتنا مؤثر ہے؟ اور اگر وہ بیرونی مداخلت کے خلاف ہیں تو کیا وہ اپنے اختلافات کم کرکے کوئی مشترکہ راستہ نکال سکتے ہیں؟
مسلم دنیا صرف ایک جذباتی نعرے سے متحد نہیں ہو سکتی اس کے لیے مشترکہ مفادات، اقتصادی تعاون سیاسی اعتماد اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام ضروری ہے ایران اور خلیجی ممالک کے تعلقات بھی اسی امتحان سے گزر رہے ہیں کسی ایک ملک کی سلامتی دوسرے ملک کی تباہی پر قائم کرنے کی کوشش پورے خطے کو عدم استحکام میں مبتلا کر سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے بھی یہ صورتِ حال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے پاکستان کے ایران کے ساتھ سرحدی اور علاقائی تعلقات ہیں، خلیجی ممالک کے ساتھ گہرے معاشی روابط ہیں اور وہاں لاکھوں پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں اس لیے کسی وسیع جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچنے کا خدشہ محض سیاسی بحث نہیں، ایک حقیقی معاشی اور انسانی مسئلہ بھی ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو فتح کس کی ہوگی؟
امریکہ اپنی فوجی برتری کا حوالہ دے سکتا ہے اسرائیل اپنے دفاعی مفادات کی بات کر سکتا ہے ایران اپنی مزاحمت اور خودمختاری کو کامیابی قرار دے سکتا ہے مگر ان دعوؤں کا حتمی فیصلہ تاریخ اور زمینی حقائق کریں گے نہ کہ جنگ کے دوران جاری ہونے والے بیانات میرے نزدیک فتح کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس کے کتنے طیارے محفوظ رہے کس کی کتنی تنصیبات تباہ ہوئیں یا کس نے زیادہ سخت بیان دیا اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ جنگ کے بعد خطہ پہلے سے زیادہ محفوظ ہوا یا نہیں عام شہریوں کی زندگی بہتر ہوئی یا نہیں، اور فلسطینی عوام کو انصاف کے قریب لایا گیا یا نہیں۔
اگر ایک طرف فوجی کامیابی کے دعوے ہوں اور دوسری طرف شہر تباہ، خاندان بے گھر، معیشتیں برباد اور نسلیں نفرت کے حوالے ہو جائیں تو ایسی فتح کے مفہوم پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ طاقتور ہونا اور درست ہونا ایک ہی بات نہیں آخری بات جنگ کے نعروں سے آگے بھی ایک دنیا ہے دنیا آج جس موڑ پر کھڑی ہے وہاں کسی ایک فریق کی فتح کے اعلان سے زیادہ اہم جنگ کے پھیلاؤ کو روکنا ہے ایران کو سمجھنا ضروری ہے امریکہ کی حکمتِ عملی کا تجزیہ ضروری ہے اسرائیل کی سلامتی کے خدشات کو سمجھنا بھی ضروری ہے مگر ان سب کے درمیان فلسطینیوں ایرانی شہریوں اور پورے خطے کے عام انسانوں کو فراموش کرنا سب سے بڑی غلطی ہوگی۔
ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم فلسطین کی آزادی کی امید رکھیں مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں اور طاقت کے غیر منصفانہ استعمال پر سوال اٹھائیں لیکن ہمیں یہ ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی کہ غیر مصدقہ پیش گوئیوں کو حقیقت بنا کر پیش نہ کریں اور جنگ کو کسی مقدس فتح کا آسان راستہ نہ سمجھیں۔
ممکن ہے ایران کی مزاحمت عالمی طاقتوں کے اندازوں کو بدل دے ممکن ہے سفارت کاری کوئی نیا راستہ نکال لے اور یہ بھی ممکن ہے کہ غلط فیصلے ایک بڑے بحران کو جنم دے دیں مستقبل کا فیصلہ ابھی ہمارے سامنے مکمل طور پر واضح نہیں۔
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ امریکہ کا سورج غروب ہوگا یا ایران کی طاقت بڑھے گی اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس کشمکش کے بعد دنیا میں انصاف کا سورج طلوع ہوگا؟ کیونکہ اگر طاقت کا توازن بدل جائے مگر مظلوم کی حالت نہ بدلے اگر حکمران بدل جائیں مگر عوام کی تقدیر نہ بدلے اور اگر جنگ ختم ہو جائے مگر نفرت زندہ رہے تو پھر ہمیں اپنی فتح کے تصور پر بھی سوال اٹھانا چاہیے۔
میری امید ہے کہ بیت المقدس سمیت فلسطین کے مظلوم عوام کو آزادی، امن اور انصاف نصیب ہو خطے کے ممالک اپنی خودمختاری کے ساتھ محفوظ رہیں اور عالمی طاقتیں یہ سمجھ سکیں کہ دنیا ہمیشہ بندوق کی نوک پر نہیں چلائی جا سکتی

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *