Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میڈیا فورم ضلع کوئٹہ کے عہدیداروں کا اعلان ، شاھین بارانزئی صدر ، بلال چترالی جنرل سیکرٹری، نعیم بلوچ فنانس سیکرٹری ہوگئےغیر آئینی اقدامات سے پارلیمنٹ کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے،مولانا عبدالقادر لونیروہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے کا واقعہ، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی سکھر کا جائے حادثہ کا دورہ، 2 افراد جاں بحق، 4 زخمیشمائل ترین ایڈووکیٹ کا دورۂ سریاب، مقامی آبادی سے گھل مل کر عوامی رابطے اور مثبت مکالمے کی مثال قائم کردیTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2095/28-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2104/28-10-2026اسلام آباد: ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ پشین چیمبر آف کامرس کے پیٹرن اِن چیف محمد آصف خان ترین کو اعزازی شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ایف ایف سی کی جانب سے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف جلد احتجاجی مظاہرے کی کال دی جائے گی، کاشف حیدریہری پور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن ہوگا، سفارش نہیں چلے گی، رقیہ نوازبلوچستان میڈیا فورم ضلع کوئٹہ کے عہدیداروں کا اعلان ، شاھین بارانزئی صدر ، بلال چترالی جنرل سیکرٹری، نعیم بلوچ فنانس سیکرٹری ہوگئےغیر آئینی اقدامات سے پارلیمنٹ کے اختیارات اور عدلیہ کی آزادی سلب ہو چکی ہے،مولانا عبدالقادر لونیروہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے کا واقعہ، چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی سکھر کا جائے حادثہ کا دورہ، 2 افراد جاں بحق، 4 زخمیشمائل ترین ایڈووکیٹ کا دورۂ سریاب، مقامی آبادی سے گھل مل کر عوامی رابطے اور مثبت مکالمے کی مثال قائم کردیTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2095/28-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2104/28-10-2026اسلام آباد: ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ پشین چیمبر آف کامرس کے پیٹرن اِن چیف محمد آصف خان ترین کو اعزازی شیلڈ پیش کر رہے ہیں۔ایف ایف سی کی جانب سے سال 2026 کی تیسری سہ ماہی کے مالیاتی نتائج کا اعلان عوام دشمن پالیسیوں کیخلاف جلد احتجاجی مظاہرے کی کال دی جائے گی، کاشف حیدریہری پور میں ملاوٹ مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن ہوگا، سفارش نہیں چلے گی، رقیہ نواز

موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش عالمی جنگ

تحریر :حسن عباس

موجودہ دور تو ایک سائنسی دور ہے اس دور میں تحقیق کرنا تخلیق کرنا ناممکن نہیں رہا اس دور میں جہاں انسان کی جگہ مشینیں لے رہی ہیں اور جیسے کسی زمانے میں سوچنے سے سب مل جایا کرتا تھا آج بھی آپ سوچیں تو وہ ہوجاتا ہے آپ کو شاپنگ کے لیے باہر نہیں جانا پڑتا جیسے شاپنگ مالز ریسٹورنٹس آپ کے دروازے کے پاس میں ہی موجود ہیں ہر چیز ایک کلک سے گھر بیٹھے مل جاتی ہے مگر کبھی ہم نے سوچا ہے ہماری صحت کے لیے اتنا جدید دور بھی مفید نہیں پتھروں کا دور انسانی صحت کے لیے بہتر تھا گردوگبار اور آلودگی سے پاک تھا آج کے اس دور میں ہم نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے مگر اپنے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کوئی فارمولا نہیں بنا سکے کہیں ایسا تو نہیں مشینوں کو انسان کا نعمل بدل بنانے کے لیے انسان کا خاتمہ کرنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے کہیں ہماری شفاف آب ہوا میں سوچ سمجھ کر زہر گھولا جا رہا ہے عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی نے ذہن میں کئی سوالات پیدا کر دئیے ہیں اور انہیں سوالوں نے لکھنے پر مجبور کیا ہے ہر سال اکتوبر میں کراچی کی شاموں میں خنکی اتر آتی تھی اس سال اکتوبر میں بھی سورج سوا نیزے پر ہے؛ سندھ میں جہاں دیہاتوں کی شامیں اگست میں ہی سرد ہوتی تھیں وہ اکتوبر کے آدھے گزر جانے کے بعد بھی گرم ہیں لگتا ہے شامیں اداس ہو گئی ہیں ملک کے دیگر شہروں کی حالت بھی بدلی بدلی سی ہے گرم سرد اسی برس لاہور میں سموگ نے سانس لینا مشکل بنا دیا تھا جبکہ ہمارے تھرپارکر میں قحط اب یہ سارہ معاملہ ایک خبر نہیں رہا بلکہ معمول بن چکا ہے شاید یہ موسم کی ناراضگی نہیں، یہ زمین کا احتجاج ہے اور یہ احتجاج اب ناقابل برداشت حدوں کو چھو رہا ہے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) نے مارچ 2026 میں اپنی رپورٹ State of the Global Climate 2025 جاری کی تھی ، جس نے دنیا بھر کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اس رپورٹ کے مطابق ہم جس سیارے پر بستے ہیں، اس کا انرجی بیلنس بگڑ چکا ہے زمین جتنی حرارت خارج کرتی ہے، اس سے کہیں زیادہ جذب کر رہی ہے اس بحران کی شدت کو سمجھنے کے لیے تازہ ترین سائنسی اعداد و شمار دیکھنا ضروری ہیں 2024 انسانی تاریخ کا گرم ترین سال تھا، جس میں اوسط عالمی درجہ حرارت صنعتی انقلاب سے پہلے کے مقابلے میں 1.60 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا اسی طرح ۔ 2025 بھی دوسرا یا تیسرا گرم ترین سال رہا جس میں اضافہ 1.47 ڈگری رہا یوں مسلسل تین سال (2023، 2024، 2025) تک زمین 1.5 ڈگری کی حد کو عبور کر چکی ہے سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ 1971 سے 2010 تک زمین 0.20 ڈگری فی عشرہ گرم ہو رہی تھی، لیکن 2011 سے 2025 تک یہ رفتار دوگنی ہو کر 0.40 ڈگری فی عشرہ ہو گئی ہے اس رفتار سے ہم 2028 تک مستقل طور پر 1.5 ڈگری کی حد پار کر لیں گے، یعنی پیرس معاہدے کے طے شدہ ہدف سے 10 سال پہلے مئی 2025 میں ہوائی کی ماؤنا لوا لیبارٹری میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ماہانہ اوسط مقدار تاریخ میں پہلی بار 430.5 پی پی ایم (پارٹس پر ملین) تک پہنچ گئی صنعتی دور سے پہلے یہ مقدار 280 پی پی ایم تھی صرف سال 2024 میں اس میں 3.75 پی پی ایم کا اضافہ ہوا، جو آج تک کا سب سے بڑا سالانہ اضافہ ہے گلوبل کاربن پراجیکٹ کے مطابق 2025 میں صرف فوسل فیول سے 38.1 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہوئی، جو ایک نیا عالمی ریکارڈ ہے اگر تمام گرین ہاؤس گیسوں کو شامل کیا جائے تو یہ مقدار 2024 میں 53.2 ارب ٹن تک پہنچ چکی ہے اب اس ساری صورتحال کا ذمہ دار کون ہے یقیناً انسان جو اپنی زندگی کی دوڑ میں یا یوں کہوں کہ لالچ کی لڑائی میں اتنا اندھا ہو گیا ہے کہ اسے اپنے ارد گرد کے ماحول کا پتہ ہی نہیں یہ فقط میں ہی نہیں کہتا لی گئی معلومات کے مطابق ایک ادارہ آئی پی سی سی (IPCC) اپنی چھٹی رپورٹ میں واضح کر چکا ہے کہ موجودہ موسمیاتی تبدیلی کا 100 فیصد ذمہ دار انسان ہے اس کے محرکات کو سائنسی طور پر اس طرح تقسیم کیا جاتا ہے دنیا کی 87 فیصد CO2 کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے پیدا ہوتی ہے بجلی کی پیداوار، بھاری صنعتیں اور گھریلو استعمال ہے ہر سال 12 ملین ہیکٹر جنگلات کا صفایا ہو رہا ہے ہم سب جانتے بھی ہیں کہ ایک درخت اپنی زندگی میں 1 ٹن تک CO2 جذب کرتا ہے جب ہم اسے کاٹتے ہیں تو نہ صرف یہ قدرتی فلٹر ختم ہوتا ہے بلکہ اس میں ذخیرہ شدہ کاربن بھی فضا میں شامل ہو جاتا ہے ہمارے ماحول کے دشمن ہم خود ہی ہیں اقوام متحدہ کے مطابق زراعت اور جنگلات کے کٹاؤ کو ملا کر یہ دنیا کے ایک چوتھائی اخراج کے برابر ہے جبکہ سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں، بحری جہاز اور ہوائی جہاز صرف سڑک ٹرانسپورٹ توانائی سے متعلقہ CO2 کا 12 فیصد پیدا کرتی ہے جبکہ سیمنٹ، اسٹیل، کھاد اور کیمیکل کی صنعتیں صرف سیمنٹ کی صنعت دنیا کے 4 فیصد اخراج کی ذمہ دار ہے مویشیوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس، جو 12 سال میں CO2 سے 80 گنا زیادہ حرارت پیدا کرتی ہے، اور کھادوں سے نکلنے والی نائٹرس آکسائیڈ، جو 265 گنا زیادہ مضر ہے ہم بس ذائقوں کی دنیا میں گم رہتے ہیں اور ہماری لا علمی سے دنیا کی 30 فیصد خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جس کا اخراج میں حصہ 8 سے 10 فیصد ہے یہ بہت ہی تکلیف دہ بات ہے کہ جرمن واچ کے کلائمیٹ رسک انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی اخراج میں ہمارا حصہ 1 فیصد سے بھی کم، یعنی 0.9 فیصد ہے ہم اس کی قیمت 2022 کے تباہ کن سیلاب کی صورت میں ادا کر چکے ہیں جس سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے جبکہ 2024 اور 2025 میں سندھ اور پنجاب میں ہیٹ ویو سے سینکڑوں اموات اور سمندر کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت جس سے کراچی کے ساحل کو خطرہ ہے،یہ سب اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ہم اس جنگ میں سب سے کم قصوروار ہیں، لیکن سب سے زیادہ سزا بھگت رہے ہیں موسمیاتی تبدیلی تقدیر نہیں، تدبیر کا مسئلہ ہے اس کے لیے ہمیں تین سطحوں پر بیک وقت کام کرنا ہوگاحکومت کو فوری طور پر فوسل فیول سبسڈی ختم کر کے قابل تجدید توانائی پر منتقل ہونا ہوگا پاکستان میں سولر اور ونڈ کی بے پناہ صلاحیت پر کام کرنا ہوگا ہمیں 2030 تک اپنی 60 فیصد بجلی اسی سے بنانے کا ہدف رکھنا چاہیے دوسرا، شجرکاری کو ایک سرکاری مہم سے نکال کر ایک قومی عبادت بنانا ہوگا ایک نیا درخت 10 سال میں جتنا کاربن جذب کرتا ہے، ایک پرانا محفوظ درخت ایک سال میں اس سے زیادہ جذب کر لیتا ہے اس لیے پرانے جنگلات کا تحفظ نئے لگانے سے زیادہ اہم ہے ہمیں زمین کی گود پھولوں سے بھرنی ہوگی ہمیں
ہمارے شہروں کو کنکریٹ کے جنگل سے سبز شہروں میں بدلنا ہوگا دوسری جانب حکومت کو ایک قانون بنانا ہوگا کہ ہر نئی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 20 فیصد جگہ جنگل کے لیے مختص کرنی ہوگی زراعت میں کلائمیٹ اسمارٹ طریقے، کم پانی والی فصلیں اور بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے ہر ضلع میں منصوبے بنانے ہونگے حکومت کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل ڈھونڈنا پڑے گا متاثر ہونے والے لوگوں کے لیے سھولیات پیدا کرنی پڑیں گی اور ہمیں بھی بدلنا ہوگا ہمیں اپنے درختوں؛ دریاؤں اور سمندروں کی خود حفاظت کرنی پڑے گی اور ماحول خراب کرنے والی چیزوں کی مخالفت کرنی پڑے گی اور ماحول دشمن صنعتی نظام کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے یکجہ ہونا پڑے گا کیونکہ
ریاستیں تب ہی بدلتی ہیں جب فرد بدلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے گھر میں بجلی کی کھپت 10 فیصد کم کرنا، خوراک ضائع نہ کرنا، پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال، الیکٹرک پر چلنے والی گاڑیوں کا استعمال کرنا ہوگا یہ چھوٹے عمل نہیں اگر پاکستان کے 24 کروڑ عوام میں سے صرف 1 کروڑ لوگ بھی یہ کریں تو سالانہ لاکھوں ٹن اخراج کم ہو سکتا ہے زمین بخار میں مبتلا ہے اور اس کا تھرمامیٹر 1.60 ڈگری کو چھو رہا ہے یہ بخار خود نہیں اترے گا اس کے لیے ہمیں بطور قوم، بطور حکومت اور بطور فرد اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ورنہ تاریخ ہمیں اس نسل کے طور پر یاد رکھے گی جس کے پاس موقع بھی تھا، علم بھی تھا، مگر عمل نہیں تھا

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *