Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
23 ستمبر پشتون کلچر ڈے: تاریخی تسلسل، سنجیدگی اور قومی شناخت کا پائیدار پیغامجمعہ خان پر تشدد کا فوری نوٹس، ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ، بلوچستان میڈیا فورمقرآن سے وابستگی ہی ہماری دینی و اخروی کامیابی کی ضمانت ہے، شیخ الحدیث مولانا عبدالعزیزعوامی مسائل بارے متعلقہ ادارے مشترکہ کارروائیاں یقینی بنائیں ،مہراللہ بادینیکسی بھی بچے کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہنے دیا جائے،ذیشان لاشاریپولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،بخت کاکڑپشتون کلچر ڈے ثقافتی و علمی تشخص اجاگر کرنے کا دن ہے،سردار منظور کاکڑمحاذ آرائی اور انتقامی سیاست ملک کو کمزور کر رہی ہے، قاری مہراللہعوام کو بے دخل کرنے کے بجائے تحفظ فراہم کیا جائے، عبدالقادر لونیملاوٹی خوراک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، حبیب اللہ خان23 ستمبر پشتون کلچر ڈے: تاریخی تسلسل، سنجیدگی اور قومی شناخت کا پائیدار پیغامجمعہ خان پر تشدد کا فوری نوٹس، ملوث افراد کی گرفتاری کا مطالبہ، بلوچستان میڈیا فورمقرآن سے وابستگی ہی ہماری دینی و اخروی کامیابی کی ضمانت ہے، شیخ الحدیث مولانا عبدالعزیزعوامی مسائل بارے متعلقہ ادارے مشترکہ کارروائیاں یقینی بنائیں ،مہراللہ بادینیکسی بھی بچے کو پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہنے دیا جائے،ذیشان لاشاریپولیو ورکرز اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،بخت کاکڑپشتون کلچر ڈے ثقافتی و علمی تشخص اجاگر کرنے کا دن ہے،سردار منظور کاکڑمحاذ آرائی اور انتقامی سیاست ملک کو کمزور کر رہی ہے، قاری مہراللہعوام کو بے دخل کرنے کے بجائے تحفظ فراہم کیا جائے، عبدالقادر لونیملاوٹی خوراک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، حبیب اللہ خان

23 ستمبر پشتون کلچر ڈے: تاریخی تسلسل، سنجیدگی اور قومی شناخت کا پائیدار پیغام

تحریر: عارفہ صدیق ایڈوکیٹ

23 ستمبر کا دن پشتون قوم کے لیے محض ایک روایتی تقریب یا سالانہ دن نہیں، بلکہ یہ اپنی ہزاروں سالہ تاریخ، شاندار تہذیب، ادب، فلسفہ اور سماجی اخلاقیات سے تجدیدِ عوف کا ایک اہم عالمگیر موقع ہے۔ یہ دن جہاں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقیم پشتون قوم کو اپنی قدیم جڑوں اور ثقافتی ورثے سے منسلک رکھتا ہے، وہاں یہ وقت کے تلخ تقاضوں اور بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات کے تناظر میں اپنی قومی ذمہ داریوں اور اجتماع? شعور کا سنجیدگی سے ادراک کرنے کا بھی متقاضی ہے۔۔ پشتون ثقافت کے لیے ایک مخصوص عالمی دن مقرر کرنے کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں مگر اس کی بنیادیں انتہائی مستحکم اور بصیرت افروز ہیں۔ 2015 میں کوئٹہ کے مقام پر ‘پشتو عالمی ادبی کانفرنس’ منعقد ہوئی، جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ممتاز ادیبوں، شاعروں، دانشوروں، صحافیوں اور مو¿رخین نے شرکت کی۔ اسی کانفرنس کے دوران ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی پیش کردہ تاریخی تجویز کو نامور سیاسی رہنما نصراللہ خان زہری کے ذریعے کانفرنس کے ایوان میں پیش کیا گیا۔اس تجویز کا مقصد ایک ایسا دن مقرر کرنا تھا جو دنیا بھر میں منتشر پشتون قوم کو ایک ثقافتی اور فکری نقطے پر جمع کر سکے۔ کانفرنس میں موجود اہلِ علم و دانش نے اس تجویز پر سیر حاصل غور و خوض کیا اور بالآخر متفقہ طور پر 23 ستمبر کو ہر سال عالمی ’پشتون کلچر ڈے‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کے بعد سے ہر سال 23 ستمبر کو پختونخوا وطن، بالخصوص کوئٹہ، پشاور، کابل سمیت دنیا کے دیگر تمام ان ممالک میں جہاں پشتون آباد ہیں، یہ دن شایانِ شان انداز میں منایا جاتا ہے۔پشتون ثقافت دنیا کی ان چند نایاب تہذیبوں میں سے ایک ہے جس کا اپنا ایک غیر تحریری مگر انتہائی مضبوط اخلاقی و سماجی ضابطہ حیات ہے، جسے پشتونولی کہا جاتا ہے۔ پشتون ثقافت صرف کپڑوں کے رنگوں، موسیقی یا فنون تک محدود نہیں بلکہ یہ انسان دوستی، رواداری اور بلند اخلاقی قدروں کا مجموعہ ہے۔ زبان صرف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ قوم کے حافظے اور تاریخی تسلسل کا نام ہے۔ رحمان بابا، خوشحال خان خٹک اور پیر روشان کی فکری روایت پشتو ادب کی بنیاد ہے، جو انسان دوستی اور امن کا درس دیتی ہے۔ پشتون معاشرے میں مہمان کو خدا کی رحمت سمجھا جاتا ہے۔ بغیر کسی رنگ، نسل، مذہب یا سیاسی تفریق کے مہمان کی عزت، طعام اور تحفظ کی ذمہ داری پشتون روایات کا روشن باب ہے۔ مسائل کو تصادم کے بجائے گفتگو، مشاورت اور انصاف کے لوک نظام یعنی ’جرگہ‘ کے ذریعے حل کرنا پشتون تہذیب کا قدیم ترین جمہوری اور مصالحتی مظاہرہ ہے۔ دشمنی کو ختم کرنے، معافی مانگنے اور امن قائم کرنے کے لیے ’ننواتے‘ کی روایت پشتون معاشرے میں عفو و درگزر اور رواداری کی عظیم مثال ہے۔ روایتی واسکٹ، فنکارانہ کڑھائی والی دستار (پگڑی)، سادہ و باوقار شال اور کلاسک خوسے اس ثقافت کے بصری حسن اور شناختی علامات ہیں۔ پشتون کلچر ڈے منانے کا بنیادی مقصد ہرگز یہ نہیں کہ کسی دوسری قوم، زبان یا ثقافت پر برتری ثابت کی جائے یا ان کے ساتھ مقابلہ کیا جائے۔ اس کا اصل مقصد اپنی تاریخی شناخت کو تحفظ دینا، اپنی ماں بولی کی ترویج کرنا، اور نئی نسل کو ان کی شاندار تاریخ سے جوڑے رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دن بین الاقوامی برادری کے سامنے پشتون قوم کی امن، رواداری، اور عدم تشدد پر مبنی واقعی اور مثبت تصویر پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔اس وقت پشتونخوا وطن، بالخصوص جنوبی پشتونخوا میں درپیش حالات انتہائی تشویشناک اور دردناک ہیں۔ دہائیوں سے جاری بدامنی، دہشت گردی، ناگہانی سانحات، معاشی بدحالی اور قتل و غارت گری کے بادل چائے ہوئے ہیں۔ ایسے دلیرانہ مگر غمزدہ حالات میں 23 ستمبر کو محض غیر ضروری نمائش، شورو غوغا یا سطحی خوشیوں کے ساتھ منانے کے بجائے سادگی، سنجیدگی اور احترام سے منانا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔کوئٹہ میں کوئٹہ پریس کلب، پشتو اکیڈمی اور مختلف سیاسی و ادبی تنظیموں کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی تقریبات کو ایک تعمیری اور فکری موڑ دیا جانا چاہیے۔ اس ضمن میں درج ذیل
پہلوو¿ں پر توجہ مرکوز ہونی چاہیے: پریس کلب اور تعلیمی اداروں میں ایسے علمی مباحثے منعقد ہوں جہاں پشتو زبان کو تعلیمی و سرکاری سطح پر نافذ کرنے اور خطے میں پائیدار امن کی بحالی پر تجاویز پیش کی جائیں۔شہدائے امن و سانحات کے متاثرین سے یکجہتی: تمام ناگہانی واقعات اور بدامنی کا شکار ہونے والے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا عملی مظاہرہ کیا جائے۔ نئی نسل کو بندوق اور تشدد کے کلچر سے دور کر کے کتاب، قلم، ریسرچ اور تاریخ کی طرف راغب کیا جائے تا کہ وہ اپنی تہذیب پر فخر کرتے ہوئے ایک روشن مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔پشتون ثقافت کی روح میں محبت، امن اور احترامِ انسانیت کا درس پوشیدہ ہے۔ مشکل اور کٹھن حالات میں اپنی ثقافت کو سادگی اور بیداریِ فکر کے ساتھ یاد رکھنا ہی زندہ قوموں کا شیوہ ہوتا ہے۔ 23 ستمبر کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ طوفانوں کے درمیان بھی اپنی زبان، تاریخ، اور مثبت اقدار کو تھامے رکھنا ہی اصل قومی و ثقافتی پاسداری ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *