Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعالشاہد ۔ پردۂ سیمیں کا روشن چراغتم کوئی کام کیوں نہیں کرتے؟ہائی جیکنگ سازش کا سیاہ داستان قسط4لاش ایک مذمت سوپٹرول ریلیف عوام دوست حکومتی پالیسی کا روشن باباخبارات کا بے دریغ استعمال اور بے حرمتیبلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشنز، کمانڈر سمیت 9 دہشتگرد ہلاکپی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیاسوراب میں مسلح افراد کی ناکہ بندی، بس اور مزدا ڈرائیور سمیت لے گئےوزیراعظم ریلیف اسکیم، سستے پیٹرول کیلئے ڈیجیٹل نظام فعال

پی ٹی آئی ممکنہ لانگ مارچ کیخلاف کیس؛ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف درخواست پر دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔

چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا شہاب علی شاہ اور آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے 2022 اور 2024 میں پی ٹی آئی کے احتجاج سے متعلق ویڈیوز عدالت میں چلانے کی اجازت طلب کی۔ عدالت نے وقفے کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے ویڈیوز صرف ایک مرتبہ چلانے کی اجازت دی۔

عدالت میں چلائی گئی ویڈیوز کے حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی کے احتجاج کے دوران سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور سرکاری مشینری استعمال ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جلسے یا ریلی کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت احتجاج کے حق کو تسلیم کرتی ہے تاہم یہ حق قانون اور آئین کے دائرے میں استعمال ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق ممکنہ احتجاج کے پیش نظر سیکیورٹی انتظامات اور کنٹینرز لگانا حکومت کا اختیار ہے۔

درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ممکنہ لانگ مارچ سے شہریوں کی زندگی، بچوں کی تعلیم اور دیگر بنیادی حقوق متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی مطالبات کے لیے احتجاج نہیں کیا جاسکتا اور عدالت کو ممکنہ صورتحال کے پیش نظر مناسب احکامات جاری کرنے چاہئیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا سے بھی سوالات کیے اور پوچھا کہ اگر کوئی غیر قانونی یا غیر آئینی اجتماع ہوتا ہے تو کیا اسے روکا جائے گا؟ آئی جی خیبرپختونخوا نے جواب دیا کہ غیر قانونی سرگرمی کی صورت میں اسے روکا جائے گا۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ اگر ان کے دائرہ اختیار میں کوئی غیر قانونی اور غیر آئینی اجتماع ہو تو اسے روکا جائے اور مظاہرین کو منتشر کیا جائے۔

دلائل مکمل ہونے اور آئی جی خیبرپختونخوا کا بیان حلفی ریکارڈ پر لینے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے ممکنہ لانگ مارچ اور احتجاج کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *