Banner
Daily Sahafat Quetta
September 9, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ، سنیچنگ کی وارداتوں میں ملوث ملزم پسٹل اور موٹر سائیکل سمیت گرفتارکوئٹہ ، تھانہ شالکوٹ کے مقدمے میں مطلوب اشتہاری ملزم گرفتارکوئٹہ، سول اسپتال میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا دعوی بے بنیاد، انکوائری رپورٹ جاریتربت ، اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی مسلح افراد نے چھین لیامریکہ کی سازشوں سے عالم اسلام بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ ،غیر قانونی کرش پلانٹ کیخلاف کارروائی ،13افراد گرفتارتعلیم کے معیار اور نوجوانوں کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،ظہور بلیدیکمپنی میں شفافیت، پیشہ ورانہ نظم و نسق اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے، سرفراز بگٹیبورڈ آف ریونیو بلوچستان کی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس، ریکارڈ کی فراہمی اور مکمل تعاون کی ہدایتتعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، قرۃ العین مگسیکوئٹہ ، سنیچنگ کی وارداتوں میں ملوث ملزم پسٹل اور موٹر سائیکل سمیت گرفتارکوئٹہ ، تھانہ شالکوٹ کے مقدمے میں مطلوب اشتہاری ملزم گرفتارکوئٹہ، سول اسپتال میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا دعوی بے بنیاد، انکوائری رپورٹ جاریتربت ، اسسٹنٹ کمشنر تمپ کی سرکاری گاڑی مسلح افراد نے چھین لیامریکہ کی سازشوں سے عالم اسلام بدامنی اور خانہ جنگی کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیکوئٹہ ،غیر قانونی کرش پلانٹ کیخلاف کارروائی ،13افراد گرفتارتعلیم کے معیار اور نوجوانوں کے مستقبل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا،ظہور بلیدیکمپنی میں شفافیت، پیشہ ورانہ نظم و نسق اور مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے، سرفراز بگٹیبورڈ آف ریونیو بلوچستان کی ٹیم کے ساتھ اہم اجلاس، ریکارڈ کی فراہمی اور مکمل تعاون کی ہدایتتعلیم کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، قرۃ العین مگسی

ہائی جیکنگ سازش کی سیاہ داستان۔قسط1

محترم قارئین، میں نے آنکھ ُاس معاشرے میں کھولی جہاں ہر لمحہ غیر متوقع حالات جنم لیتے تھے۔ زندگی غیر یقینی تھی اور ہر دن کا گزر جانا گویا ایک دشوار مرحلہ سر کرنے کے مترادف تھا۔ اگرچہ میرا تعلق ایک خوش حال خاندان سے تھا اور پیدائش کے اعتبار سے مجھے وہ تمام سہولتیں میسر تھیں جو کسی کو میسر ہو سکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود میں نے کبھی خود کو کسی پر بوجھ نہیں بننے دیا۔ چنانچہ محض 12 برس کی کم عمری میں، تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار اختیار کر لیا۔ تاہم حالات ایسے رخ اختیار کر گئے کہ میں اپنی تعلیم مکمل نہ کر سکا۔میں نے افغانستان میں کمیونسٹ افواج کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور وہاں تین سال گزارنے کے بعد اپنے علاقے واپس آ گیا۔ سنہ 1981ء میں میں نے ملازمت کے لیے درخواست دی اور افغان مہاجرین کی تنظیم میں کیمپ کمانڈر کی حیثیت سے منتخب ہو گیا۔ چار برس تک افغان مہاجرین کے ساتھ کام کرنے کے بعد میں نے ملازمت تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ میرے ذہنی سکون اور گرد و پیش کے حالات اس بات کا تقاضا کر رہے تھے۔ طویل جدوجہد اور سخت آزمائشوں کے بعد آخرکار مجھے کراچی میں محکمہ کسٹمز میں ملازمت مل گئی۔گھر کے حالات اس حد تک پیچیدہ ہو چکے تھے کہ پُرسکون زندگی گزارنا دشوار ہو گیا تھا۔ مجھے اس بات کا بھی شدید اندیشہ لاحق تھا کہ میرے اہل خانہ اور بچے ان حالات کے باعث اذیت میں مبتلا ہیں۔ چنانچہ ان کی بھلائی اور اپنی زندگی میں سکون کی امید لیے، میں 22 فروری 1985ء کو کراچی منتقل ہو گیا اور اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔میں نے اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے جدوجہد شروع کی یعنی ایک پُرامن زندگی گزارنا اور اپنے بچوں کو بہتر تعلیم فراہم کرنا۔ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے مجھے بے پناہ محنت کرنا پڑی، مگر رفتہ رفتہ مجھے یوں محسوس ہونے لگا کہ میری زندگی درست سمت میں گامزن ہو چکی ہے۔ لیکن یہ سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ محض. چاربرس گزرے تھے کہ ایک شدید آفت نے مجھے آ لیا۔ میں اپنی زندگی میں مصروف تھا کہ اچانک سب کچھ تہ و بالا ہو گیا۔ پُرسکون زندگی کے حصول کے لیے کی گئی میری تمام کاوشیں اور قربانیاں اس وقت رائیگاں گئیں جب میں نے اپنی دنیا کو اپنی آنکھوں کے سامنے بکھرتے دیکھا۔یہ 27 مارچ 1988ء کی شام تھی ،وہ شام جس نے میری زندگی میں روشنی اور تاریکی کے درمیان حدِ فاصل قائم کر دی۔ میں ایئرپورٹ پر اپنی شام کی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا کہ شام 06:30 منٹ پر ایک فوجی میرے پاس آیا اور بتایا کہ اسسٹنٹ کلکٹر نے مجھے بلایا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ مجھے وی آئی پی لاؤنج جانا ہو گا۔ میں اسسٹنٹ کلکٹر کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب ہم ایئرپورٹ کے ایپرن(Apron) پر پہنچے تو ایک دو دروازوں والی پجیرو تیزی سے ہماری طرف آئی اور ہمارے قریب آ کر رک گئی۔ میرے اسسٹنٹ کلکٹرڈاکٹر آفاق نے مجھے بتایا کہ وہ ہمیں VIP لاؤنج کی طرف لے جائیں گے۔ ڈاکٹر آفاق نے سر ہلایا اور گاڑی میں اگلی نشست پر بیٹھ گئے۔ میں ان کے پیچھے پچھلی نشست پر بیٹھ گیا، اس بات سے بالکل بے خبر تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ VIP لاؤنج قریب ہی تھا، چنانچہ تھوڑے ہی فاصلے کے بعد گاڑی رک گئی اور ڈاکٹر آفاق اتر گئے۔ جیسے ہی وہ گاڑی سے باہر نکلے، گاڑی اچانک تیزی سے روانہ ہو گئی۔میں ابھی گاڑی میں ہی موجود تھا کہ فوراً میرے دونوں ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں، میرے سر پر نیلے رنگ کی ٹوپی چڑھا دی گئی اور پھر میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ میں نہ کچھ دیکھ سکتا تھا اور نہ ہی ٹھیک طرح سانس لے پا رہا تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد ہتھکڑیاں اور آنکھوں کی پٹی کھول دی گئیں اور مجھے ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی میں ڈال دیا گیا۔ یہ کوٹھڑی بے حد اذیت ناک تھی۔ اس کی پیمائش اندازاً چھ بائی آٹھ فٹ تھی۔ اندر صرف ایک کمبل موجود تھا اور دروازے کے قریب ایک کرسی رکھی گئی تھی۔ یہ کوٹھڑی خوف اور گھٹن سے بھرپور تھی۔تلاشی کے بعد مجھ سے ایک ٹیلیفون، ایک گھڑی اور 30 روپے نقدی لے لیے گئے۔ مجھے ایک ملائیشین رنگ کا شلوار قمیض دیا گیا اور اسے پہننے کا حکم دیا گیا۔ اسی جگہ مجھ سے سب سے پہلا سوال یہ کیا گیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے۔میں نے نہایت سادگی اور ایمانداری سے جواب دیا”اگر اچکزئی ہونا جرم ہے تو میں اس جرم کا مرتکب ہوں۔”تاہم، میری گرفتاری کی اصل وجہ ایک سازش تھی، جس کا تعلق ایک طیارہ اغوا کرنے کے منصوبے سے تھا۔ 12 مارچ 1988ء کو کراچی سے کوئٹہ جانے والے ایک طیارے کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد جو شخص گرفتار ہوا، وہ ہمارے گاؤں اور قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک اچکزئی تھا۔ چنانچہ جب مجھے اس طیارہ اغوا کے واقعے کا خیال آیا تو مجھے اندازہ ہوا کہ شاید میری گرفتاری کی وجہ بھی یہی ہو سکتی ہے۔ میں سوچنے لگا کہ اگر واقعی کوئی الزام تھا تو اس کی تفتیش اس انداز سے کیوں کی جا رہی ہے۔ ابھی میں انہی خیالات میں گم تھا کہ چند افسران میرے پاس آئے اور بتایا کہ انہیں میرے گھر کی تلاشی لینی ہے۔ انہوں نے میرے گھر والوں کے نام دریافت کیے تاکہ تلاشی کے وقت میرے اہل خانہ مزاحمت نہ کریں۔ میں نے اپنے چھوٹے بھائی کا نام بتایا اور اس کے نام ایک پیغام لکھا کہ وہ میری بیوی اور بچوں کو ایک طرف رکھے اور پولیس کو گھر کی تلاشی لینے دے۔اس مختصر گفتگو کے بعد مجھے ایک ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا۔ اسی رات 10 بجے مجھے دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں تین افسر بیٹھے ہوئے تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی مجھ سے سوالات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں نے ایک پستول طیارے میں لے جانے میں مدد دی، جس کے ذریعے ملزم منان نے طیارہ اغوا کیا۔ یہ تفتیش تین سے چار گھنٹے جاری رہی۔ اسی دوران چار افراد ایک شخص کو لے کر آئے جسے میں نے کبھی پہلے نہیں دیکھا تھا۔اس شخص نے اندر آتے ہی کہا”ہاں، یہی وہ آدمی ہے۔”میں اس بات پر سخت حیران ہوا اور جو کچھ ہو رہا تھا اس پر شدید تشویش میں مبتلا ہو گیا۔ میں نے جاننا چاہا کہ یہ شخص کون ہے اور معاملہ کیا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ سیکیورٹی اہلکار ہے جسے میں مبینہ طور پر 7 مارچ 1988ء کو لی مارکیٹ لے کر گیا تھا، جہاں طیارہ اغوا کرنے کے منصوبے پر اجلاس ہوا تھا۔ ان باتوں نے مجھے شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔اس سب کے باوجود میں جانتا تھا کہ یہ سب محض الزامات ہیں۔ میرا ضمیر مطمئن تھا، میری نیت صاف تھی اور مجھے پورا یقین تھا کہ یہ سب میرے خلاف ایک سازش ہے۔ سچ میں بے پناہ طاقت ہوتی ہے۔ چاہے ساری دنیا انسان کے خلاف ہو جائے، سچ ہی وہ واحد قوت ہے جو انسان کو ہر مصیبت اور آزمائش کا سامنا کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ میں اس وقت نہایت سکون اور اعتماد کے ساتھ ان افسران سےبات کر رہا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر وہ ایک بھی ایسا شخص پیش کر دیں جو یہ ثابت کر دے کہ میں کبھی ان افرادچاہے وہ جھاڑو دینے والا ہو یا انسپکٹر کے ساتھ ملا ہوں، تو وہ مجھے مجرم سمجھ سکتے ہیں۔ مگر میری کسی بات پر یقین نہ کیا گیا۔ مجھے دوبارہ اسی کوٹھڑی میں واپس ڈال دیا گیا۔29مارچ کو ایک شخص کو میری کوٹھڑی میں لایا گیا، جس کے بارے میں کچھ وقت بعد معلوم ہوا کہ اس کا نام مشتاق مسیح تھا اور وہ ائیرپورٹ پر صفائی دینے والا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ کیا میں ہی وہ شخص ہوں۔ اس نے جواب دیا:”نہیں، یہ آدمی نہیں ہے۔”اس جواب پر اسے سخت تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور گھسیٹ کر میری کوٹھڑی سے باہر لے جا کر اس کی اپنی کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا، جو میری کوٹھڑی کے قریب ہی تھی۔ آج بھی مجھے اس کی خوف زدہ آنکھیں یاد ہیں۔ اس کی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ حلقے تھے، وہ انتہائی کمزور اور خستہ حال نظر آ رہا تھا۔تین دن بعد، 2 اپریل کی صبح دس بجے، مجھے دوبارہ آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ہاتھ پیچھے کی طرف ہتھکڑیاں لگا کر ایک گاڑی میں بٹھایا گیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے کے بعد مجھے اتارا گیا اور سیڑھیاں چڑھنے کا حکم دیا گیا۔ اوپر پہنچ کر مجھے ایک نشست پر بٹھایا گیا اور ہاتھ پیچھے بندھے ہونے کے باوجود مجھے مزید نشست کے ساتھ باندھ دیا گیا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *