Banner
Daily Sahafat Quetta
September 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تعیناتی سے متعلق متنازع مواد نشر کرنے پر صحافی بلال غوری گرفتارحماد اظہر کی گرفتاری سیاسی انتقام اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے، پاکستان تحریک انصافیوم دفاع؛ مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب، پاک فضائیہ کے کیڈٹس نے فرائض سنبھال لیےلاہور : پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر گرفتاروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی میر غلام دستگیر بادینی سے تعزیتفتنہ قادیانیت تاریخ اسلام میں سب سے بڑا ارتدادی فتنہ ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ہے،سیدال خان ناصرمستونگ میں زمینداروں کے باغات کی مبینہ کٹائی، تشویش کی لہرکوئٹہ ریلوے میں بڑا انکشاف، اسٹیشن ماسٹر سمیت 3 ملازمین گرفتارگنداواہ میں کوٹڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ ناکامنیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا کی تعیناتی سے متعلق متنازع مواد نشر کرنے پر صحافی بلال غوری گرفتارحماد اظہر کی گرفتاری سیاسی انتقام اور فسطائیت کی بدترین مثال ہے، پاکستان تحریک انصافیوم دفاع؛ مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُروقار تقریب، پاک فضائیہ کے کیڈٹس نے فرائض سنبھال لیےلاہور : پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر گرفتاروزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی میر غلام دستگیر بادینی سے تعزیتفتنہ قادیانیت تاریخ اسلام میں سب سے بڑا ارتدادی فتنہ ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ6 ستمبر ہماری قومی تاریخ کا ناقابل فراموش دن ہے،سیدال خان ناصرمستونگ میں زمینداروں کے باغات کی مبینہ کٹائی، تشویش کی لہرکوئٹہ ریلوے میں بڑا انکشاف، اسٹیشن ماسٹر سمیت 3 ملازمین گرفتارگنداواہ میں کوٹڑہ پولیس اسٹیشن پر حملہ ناکام

6 ستمبر، شہیدوں کے لہو کا قرض کون ادا کرے گا؟

کالم ندیم ملک

6 ستمبر آتا ہے تو پاکستان کے پرچم کے ساتھ بہت سے چہرے بھی ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں۔ وہ چہرے جن پر جوانی تھی، آنکھوں میں خواب تھے، گھروں میں مائیں تھیں، بہنیں تھیں، بیویاں تھیں، بچے تھے، مگر جب وطن کی حفاظت کا وقت آیا تو ان سب رشتوں، خواہشوں اور خوابوں سے بڑھ کر انہیں پاکستان عزیز ہوگیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیز، اپنی جان، وطن کے نام کردی۔ یہی وجہ ہے کہ 6 ستمبر محض یومِ دفاع نہیں، یہ یومِ شہداء بھی ہے، یومِ قربانی بھی ہے اور ہم سب کے لیے یومِ احتساب بھی ہے یہ دن ہم سے ایک سوال کرتا ہے اور یہ سوال شاید کسی بھی توپ، ٹینک یا میزائل سے زیادہ طاقتور ہے۔ سوال یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کے لیے اپنا آج قربان کردیا، ہم نے ان کے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟ کیا ہم نے اس ملک کو وہ پاکستان بنانے کی کوشش کی جس کے لیے ایک سپاہی نے سرحد پر اپنا خون دیا تھا؟ کیا ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟ کیا ہم نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ہم شہیدوں کے وارث ہیں؟
1965ء میں جب پاکستان کی سرحدوں پر خطرہ منڈلایا تو وطن کے بہادر سپوتوں نے اپنے مورچے سنبھال لیے۔ انہیں معلوم تھا کہ جنگ میں موت کسی بھی لمحے سامنے آسکتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ ان کے گھروں میں کوئی ان کا انتظار کررہا ہے۔ کسی ماں کی دعائیں ان کے ساتھ تھیں، کسی بیوی کی امید ان سے وابستہ تھی، کسی بچے کو یقین تھا کہ اس کا باپ واپس آئے گا، مگر جب فرض اور زندگی میں انتخاب کا وقت آیا تو انہوں نے فرض کو منتخب کیا
یہی شجاعت ہے
شجاعت یہ نہیں کہ انسان کے دل میں خوف پیدا نہ ہو۔ شجاعت یہ ہے کہ خوف کے باوجود انسان اپنے فرض سے پیچھے نہ ہٹے۔ موت سامنے کھڑی ہو اور انسان اپنے مقصد کو موت سے بڑا سمجھ لے۔ ہمارے شہداء نے یہی کیا۔ انہوں نے دشمن کی گولیوں کا سامنا کیا، اپنی جانیں قربان کیں اور پاکستان کی سرحدوں کو اپنے خون سے محفوظ کیا شہادت کا تصور اسلام میں انتہائی بلند ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں شہداء کے بارے میں بتاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اس زندگی کا شعور نہیں۔ سورۂ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔ یہ صرف تسلی نہیں، ایمان کا ایک عظیم تصور ہیں۔ دنیا کی آنکھ شہید کے جسم کو دیکھتی ہے، قرآن اس کی ایک ایسی زندگی کی خبر دیتا ہے جو ہماری ظاہری نگاہ سے اوجھل ہے۔ یہی یقین انسان کو قربانی کے لیے تیار کرتا ہے۔ یہی یقین اسے موت کے خوف سے بلند کرتا ہے
رسول اکرم ﷺ نے بھی شہادت کی عظمت بیان فرمائی۔ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق جنت میں داخل ہونے والا کوئی شخص دنیا میں واپس آنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آکر اللہ کی راہ میں شہید ہونا چاہے گا۔ اس حدیث میں شہادت کی عظمت اور اس کے اجر کا اندازہ کیا جاسکتا ہے
مگر شہادت کو صرف ایک جنگی واقعہ سمجھ لینا کافی نہیں۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک شہید کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے۔ جب سپاہی میدان میں شہید ہوتا ہے تو اس کے ساتھ صرف ایک زندگی ختم نہیں ہوتی، اس کے خاندان کی زندگی کا پورا نقشہ بدل جاتا ہے۔ ماں کا بیٹا چلا جاتا ہے، بیوی کا شوہر چلا جاتا ہے، بچوں کا باپ چلا جاتا ہے اور بہن کا بھائی چلا جاتا ہے۔ وہ لوگ باقی زندگی اپنے پیارے کی یاد کے ساتھ گزارتے ہیں
ہم ان خاندانوں کے دکھ کو چند الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے کسی شہید کی ماں سے پوچھیں کہ شہادت کیا ہوتی ہے۔ اس ماں سے پوچھیں جس نے اپنے بیٹے کو جوانی میں دفن کیا۔ کسی شہید کے بچے سے پوچھیں کہ باپ کی کمی کیا ہوتی ہے۔ کسی شہید کی بیوہ سے پوچھیں کہ زندگی کا سفر اکیلے طے کرنا کیا ہوتا ہے۔ شاید تب ہمیں اندازہ ہو کہ ایک سپاہی کی شہادت صرف ایک لمحے کی قربانی نہیں بلکہ اس کے خاندان کے لیے پوری زندگی کا امتحان ہے اسی لیے شہید کے خاندانوں کا احترام محض ایک رسمی تقاضا نہیں بلکہ قومی فریضہ ہے۔ ان کے بچوں کی تعلیم، ان کی معاشی ضروریات، ان کی عزت اور ان کے مستقبل کی فکر ریاست اور معاشرے دونوں کی ذمہ داری ہے۔ شہید کے خاندان پر احسان نہیں کیا جاتا، بلکہ اس قوم کا قرض ادا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے لیے اس خاندان نے اپنا سب سے قیمتی سرمایہ قربان کیا افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر شہداء کو صرف 6 ستمبر یا یومِ شہداء کے موقع پر یاد کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر لگاتے ہیں، چند جذباتی جملے لکھتے ہیں، ملی نغمے سنتے ہیں اور پھر زندگی معمول پر آجاتی ہے۔ مگر شہید کی قربانی کا اصل تقاضا اس سے کہیں بڑا ہے
شہید کی تصویر پر پھول رکھنا آسان ہے، شہید کے اصولوں پر چلنا مشکل ہے
شہید کے لیے تقریر کرنا آسان ہے، اپنی ذات کی قربانی دینا مشکل ہے
شہید کو سلام کرنا آسان ہے، اپنے مفاد کے خلاف جاکر ملک کے مفاد کا ساتھ دینا مشکل ہے
یہی وجہ ہے کہ 6 ستمبر صرف جشن کا دن نہیں ہونا چاہیے، یہ خود احتسابی کا دن بھی ہونا چاہیے
ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کررہے ہیں؟ کیا ہم قانون کا احترام کرتے ہیں؟ کیا ہم رشوت، سفارش اور بدعنوانی کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں؟ کیا ہم جھوٹ کے بجائے سچ بولنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہیں کرتے؟ کیا ہم اپنے بچوں کو وہ پاکستان دینے کی کوشش کررہے ہیں جس کا خواب ہمارے شہداء نے دیکھا تھا؟
ایک سپاہی سرحد پر دشمن کا مقابلہ کرتا ہے، مگر وطن کے اندر بھی کئی محاذ ہیں۔ جہالت ایک دشمن ہے، غربت ایک چیلنج ہے، کرپشن ایک زہر ہے، ناانصافی ایک خطرہ ہے، نفرت اور تعصب قوم کو اندر سے کمزور کرتے ہیں۔ اگر ہم ان مسائل کے خلاف اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو صرف سرحدوں کی حفاظت کافی نہیں ہوگی
پاکستان کا دفاع صرف بندوق سے نہیں ہوتا، کردار سے بھی ہوتا ہے
ایک استاد جب اپنے شاگرد کو دیانت، علم اور کردار سکھاتا ہے تو وہ بھی پاکستان کی حفاظت کررہا ہوتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جب مریض کی خدمت کو کاروبار پر ترجیح دیتا ہے تو وہ بھی وطن کی خدمت کررہا ہوتا ہے۔ ایک سرکاری افسر جب میرٹ اور انصاف کو سفارش پر فوقیت دیتا ہے تو وہ بھی قومی دفاع میں اپنا حصہ ڈال رہا ہوتا ہے۔ ایک صحافی جب دباؤ کے باوجود سچ لکھتا ہے تو وہ بھی اپنے محاذ پر کھڑا ہوتا ہے۔ ایک تاجر جب امانت اور دیانت سے کاروبار کرتا ہے تو وہ بھی ریاست کو مضبوط کرتا ہے۔ ایک طالب علم جب محنت کرکے علم حاصل کرتا ہے تو وہ مستقبل کے پاکستان کو مضبوط کرتا ہے
علامہ محمد اقبال نے قوموں کی زندگی میں خودی، عمل، یقین اور بلند مقصد کو بنیادی حیثیت دی۔ اقبال کا شاہین محض ایک پرندہ نہیں، ایک کردار کی علامت ہے؛ ایسا کردار جو بلندیوں کو دیکھتا ہے، مشکلات سے گھبراتا نہیں اور مقصد کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرتا ہے۔ ہمارے شہداء بھی بلند مقصد کی ایسی ہی مثالیں ہیں۔ انہوں نے اپنی ذات سے بلند ہوکر وطن کو ترجیح دی
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے قوم کو ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کا درس دیا۔ یہ تین الفاظ آج بھی پاکستان کے استحکام کی بنیاد ہیں۔ ایمان ہمیں یقین دیتا ہے، اتحاد ہمیں طاقت دیتا ہے اور نظم و ضبط ہمیں کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر قوم متحد ہو، ادارے مضبوط ہوں، قانون کی بالادستی ہو اور ہر شخص اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرے تو کوئی طاقت اسے آسانی سے کمزور نہیں کرسکتی
آج جنگ کا میدان بدل چکا ہے۔ سرحد پر دشمن کے مقابلے کے ساتھ ساتھ ہمیں فکری، معاشی، اخلاقی اور اطلاعاتی محاذوں پر بھی چیلنجز کا سامنا ہے۔ جھوٹ، افواہ، نفرت، انتشار اور بے یقینی معاشروں کو اندر سے کمزور کرسکتے ہیں۔ ہمیں ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے تحقیق کرنا ہوگی، ہر اختلاف کو دشمنی سمجھنے کے بجائے برداشت پیدا کرنا ہوگی اور ہر اختلافِ رائے کو غداری کا نام دینے کے بجائے دلیل کے ساتھ جواب دینا ہوگا
ایک مضبوط قوم وہ ہوتی ہے جو اختلاف کے باوجود متحد رہتی ہے
6 ستمبر ہمیں یہی سبق دیتا ہے ہمیں اپنے شہداء کی قربانی کو سیاسی تقسیم سے بلند رکھنا ہوگا۔ شہید کسی ایک جماعت، گروہ یا طبقے کا نہیں ہوتا۔ شہید پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ اس کا خون کسی سیاسی جھنڈے کا رنگ نہیں دیکھتا، وہ سبز ہلالی پرچم کے لیے بہتا ہے۔ اس لیے شہداء کو بھی تقسیم کرنا اور ان کی قربانی کو سیاسی بحث کا حصہ بنانا ان کے مقام کے ساتھ انصاف نہیں
شہید کی قبر خاموش ہوتی ہے مگر اس کی قربانی بولتی ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں قربانی سے بنتی ہیں۔وہ ہمیں بتاتی ہے کہ آزادی مفت میں نہیں ملتی
وہ ہمیں بتاتی ہے کہ وطن کی حفاظت صرف فوجی وردی پہننے والے کا فرض نہیں بلکہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے آج جب ہم اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہیں، بازاروں میں چلتے ہیں، اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہماری اس آزادی کے پیچھے بے شمار قربانیاں ہیں۔ کسی نے اپنا بیٹا دیا، کسی نے اپنا شوہر دیا، کسی نے اپنا بھائی دیا اور کسی نے اپنی جان دی یہ ملک صرف نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر نہیں یہ لاکھوں قربانیوں کا حاصل ہے یہ ماؤں کی دعاؤں کا حاصل ہے یہ شہداء کے خون کا حاصل ہے یہ بزرگوں کے خوابوں کا حاصل ہے اور اس ملک کو محفوظ رکھنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ پاکستان سے محبت صرف جذبات کا نام نہیں۔ محبت عمل کا نام ہے۔ اگر ہم پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں پاکستان کے قانون سے محبت کرنی ہوگی۔ اگر ہم شہداء سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں ان کے خاندانوں کا احترام کرنا ہوگا۔ اگر ہمیں وطن کی سلامتی عزیز ہے تو ہمیں قومی اتحاد کو مضبوط کرنا ہوگا۔ اگر ہمیں اپنے بچوں کا مستقبل عزیز ہے تو ہمیں تعلیم اور کردار پر توجہ دینا ہوگی 6 ستمبر ہمیں ماضی کی عظمت یاد دلاتا ہے، مگر مستقبل کی ذمہ داری بھی سونپتا ہے یہ دن ہمیں بتاتا ہے کہ سرحد پر کھڑا سپاہی اپنا فرض ادا کرچکا، اب ہم اپنے اپنے مورچوں میں کھڑے ہوں
صحافی کا مورچہ سچ ہے
استاد کا مورچہ علم ہے
ڈاکٹر کا مورچہ خدمت ہے
جج کا مورچہ انصاف ہے
افسر کا مورچہ دیانت ہے
طالب علم کا مورچہ محنت ہے
اور عام شہری کا مورچہ قانون کی پاسداری اور قومی ذمہ داری ہے
جب ہر پاکستانی اپنے مورچے میں ایمانداری سے کھڑا ہوگا تو پاکستان کا دفاع مزید مضبوط ہوگا
ہمیں 6 ستمبر کو صرف یہ عہد نہیں کرنا چاہیے کہ ہم بیرونی دشمن کا مقابلہ کریں گے، بلکہ یہ عہد بھی کرنا چاہیے کہ ہم اپنے اندر کی کمزوریوں کا مقابلہ کریں گے۔ ہم کرپشن کے خلاف کھڑے ہوں گے، ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائیں گے، جہالت کے خلاف علم پھیلائیں گے، نفرت کے مقابلے میں محبت اور اتحاد کو فروغ دیں گے اور اپنے ملک کے اداروں کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے کیونکہ دشمن ہمیشہ سرحد کے دوسری طرف نہیں ہوتا۔ کبھی دشمن ہماری اپنی کمزوری بھی ہوتا ہے جب قوم تقسیم ہوجائے تو دشمن طاقتور ہوجاتا ہے جب ادارے کمزور ہوجائیں تو دشمن طاقتور ہوجاتا ہے جب نوجوان مایوس ہوجائیں تو دشمن طاقتور ہوجاتا ہے جب سچ دب جائے تو دشمن طاقتور ہوجاتا ہے
اور جب قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو بھول جائے تو دشمن سب سے زیادہ طاقتور ہوجاتا ہے اس لیے شہداء کو یاد رکھنا بھی قومی دفاع کا حصہ ہے لیکن یاد رکھنے کا مطلب صرف ان کے نام یاد رکھنا نہیں، ان کے مقصد کو زندہ رکھنا ہے
ہمیں ان کے خوابوں کا پاکستان بنانا ہوگا
ایسا پاکستان جہاں انصاف ہو
ایسا پاکستان جہاں تعلیم ہو
ایسا پاکستان جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو
ایسا پاکستان جہاں غریب کی آواز بھی سنی جائے
ایسا پاکستان جہاں نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس نہ ہوں ایسا پاکستان جہاں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھا جائے ایسا پاکستان جہاں قومی مفاد ذاتی مفاد سے بلند ہو شاید یہی شہیدوں کے لہو کا اصل تقاضا ہے 6 ستمبر کی صبح جب سورج طلوع ہوتا ہے تو مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ اسی سرزمین پر کتنے ایسے جوان سو رہے ہیں جنہوں نے سورج کو دوبارہ دیکھنے کی خواہش اپنے دل میں لیے بغیر وطن کے لیے جان دے دی۔ ان کے گھروں میں شاید آج بھی ان کی تصویریں لگی ہوئی ہیں۔ ان کی ماؤں کی آنکھیں شاید آج بھی دروازے کی طرف دیکھتی ہوں۔ ان کے بچے شاید آج بھی اپنے باپ کو یاد کرتے ہوں
ہمیں ان کے دکھ کا اندازہ شاید کبھی نہ ہوسکے
مگر ہم ان کی قربانی کی قدر ضرور کرسکتے ہیں
ہم ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہوسکتے ہیں
ہم اپنے کردار کو بہتر بنا سکتے ہیں
ہم پاکستان کو مضبوط بنا سکتے ہیں
یہی ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت ہوگا
شہید کو آنسوؤں سے زیادہ کردار کی ضرورت ہے
شہید کو نعروں سے زیادہ عمل کی ضرورت ہے
شہید کو تصویروں سے زیادہ اس پاکستان کی ضرورت ہے جس کے لیے اس نے جان دی
آج 6 ستمبر کے دن ہمیں شہداء کے سامنے کھڑے ہوکر صرف سلام نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایک سوال بھی کرنا چاہیے کہ اے وطن کے محافظ! تو نے اپنا آج ہمارے کل کے لیے قربان کردیا، کیا ہم نے تیرے کل کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کیا؟
یہ سوال شاید ہماری روح کو بے چین کرےاور ہونا بھی چاہیے کیونکہ اگر شہید کا خون ہمیں بے چین نہیں کرتا تو پھر ہماری قومی یادداشت میں کہیں نہ کہیں کوئی بہت بڑی کمی ہے
شہید نے اپنا خون دے کر پاکستان کی سرحد پر ایک لکیر کھینچی تھی
اب ہمیں اپنے کردار سے پاکستان کے اندر ایک لکیر کھینچنی ہے
ایک طرف سچ ہوگا، دوسری طرف جھوٹ
ایک طرف انصاف ہوگا، دوسری طرف ظلم
ایک طرف دیانت ہوگی، دوسری طرف کرپشن
ایک طرف اتحاد ہوگا، دوسری طرف نفرت
ایک طرف پاکستان ہوگا، دوسری طرف ذاتی مفاد
ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہم کس طرف کھڑے ہیں
6 ستمبر کا دن ہمیں یہ انتخاب یاد دلاتا ہے
ہمیں اپنے شہداء کی قبروں سے یہ سبق لینا ہوگا کہ زندگی مختصر ہوسکتی ہے، مگر کردار ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ جسم مٹی میں مل جاتا ہے، مگر قربانی تاریخ کا حصہ بن جاتی ہے۔ انسان دنیا سے چلا جاتا ہے، مگر اس کا عمل آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتا رہتا ہے
یہی شہادت کی عظمت ہے
یہی شجاعت کی پہچان ہے
یہی وطن سے وفاداری ہے
اور یہی 6 ستمبر کا حقیقی پیغام ہے 6 ستمبر کو صرف یومِ دفاع نہ منائیں، اسے یومِ عہد بنائیں۔ عہد کریں کہ ہم پاکستان کو مضبوط کریں گے، اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کریں گے، قانون کا احترام کریں گے، شہداء کے خاندانوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، اپنے بچوں کو علم اور کردار دیں گے اور ہر اس سوچ کا مقابلہ کریں گے جو پاکستان کو کمزور کرتی ہے کیونکہ سرحد پر جان دینے والے شہداء اپنا فرض ادا کرچکے ہیں
اب ہماری باری ہے
وہ اپنا خون دے چکے ہیں
اب ہمیں اپنا کردار دینا ہے
وہ پاکستان کے لیے مر گئے
اب ہمیں پاکستان کے لیے جینا ہے اور شاید یہی وہ لمحہ ہے جب 6 ستمبر ایک تاریخ سے نکل کر ہمارے ضمیر کی آواز بن جاتا ہے
شہداء ہمیں پکار رہے ہیں
ان کی قبریں خاموش ہیں، مگر ان کا لہو بول رہا ہے
وہ ہم سے صرف ایک بات کہہ رہا ہے:
پاکستان کو کبھی کمزور مت ہونے دینا
پاکستان کو نفرت کی نذر مت ہونے دینا
پاکستان کو بدعنوانی کے ہاتھوں تباہ مت ہونے دینا
پاکستان کو ناانصافی کے سامنے جھکنے مت دینا
اور سب سے بڑھ کر، پاکستان کو اپنے کردار سے مضبوط بنانا
کیونکہ یہ وطن صرف ہمارا نہیں، ان شہداء کی امانت بھی ہے جنہوں نے اپنا سب کچھ دے کر ہمیں یہ ملک، یہ آزادی اور یہ پرچم عطا کیا
6 ستمبر گزر جائے گا، تقریبات ختم ہوجائیں گی، ملی نغمے خاموش ہوجائیں گے، پرچم اپنے معمول کے مقام پر واپس آجائے گا، مگر شہداء کا سوال باقی رہے گا
اور اس سوال کا جواب ہمیں اپنی زندگی سے دینا ہوگا
انہوں نے پاکستان کے لیے جان دی، ہم پاکستان کے لیے کیا دے رہے ہیں؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *