Banner
Daily Sahafat Quetta
September 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
شالکوٹ تھانے پر دستی بم حملہ، ایک پولیس اہلکار اور راہ گیر زخمیچمن میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے پُروقار ریلی کا انعقادعلم، ذہانت کاری،تحقیق و جستجو کے نئے زاویے وامکانات اے آئی Ai اور خوف کے درمیان انسان کا مستقبل !!!یومِ دفاع و شہدا: عظمتِ لوح و قلم اور خونِ وفا کی آفاقی داستانشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز – 1965 کی فضائی جنگاٹک سیمنٹ فیکٹری حب کا مستحق غریب خاندان کیلئے گھر کی تعمیر کا آغازعوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، محمد علی جمالیبڑیچ اور نورزئی قبائل کے درمیان قتل کا تصفیہ، فریقین میں صلح ہوگئیملک شدید معاشی بحران، انتظامی ابتری اور داخلی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیکندھ کوٹ میں مبینہ سیاہ کاری کے الزام پر شوہر نے بیوی کو قتل کردیاشالکوٹ تھانے پر دستی بم حملہ، ایک پولیس اہلکار اور راہ گیر زخمیچمن میں یومِ دفاعِ پاکستان کے حوالے سے پُروقار ریلی کا انعقادعلم، ذہانت کاری،تحقیق و جستجو کے نئے زاویے وامکانات اے آئی Ai اور خوف کے درمیان انسان کا مستقبل !!!یومِ دفاع و شہدا: عظمتِ لوح و قلم اور خونِ وفا کی آفاقی داستانشہداء کا لہو، شاہینوں کی پرواز – 1965 کی فضائی جنگاٹک سیمنٹ فیکٹری حب کا مستحق غریب خاندان کیلئے گھر کی تعمیر کا آغازعوام کے جان و مال اور عزت و آبرو کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے، محمد علی جمالیبڑیچ اور نورزئی قبائل کے درمیان قتل کا تصفیہ، فریقین میں صلح ہوگئیملک شدید معاشی بحران، انتظامی ابتری اور داخلی چیلنجز کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیکندھ کوٹ میں مبینہ سیاہ کاری کے الزام پر شوہر نے بیوی کو قتل کردیا

یومِ دفاع و شہدا: عظمتِ لوح و قلم اور خونِ وفا کی آفاقی داستان

6 ستمبر محض ایک تقویمی تاریخ یا تقریب کا نام نہیں، بلکہ یہ ملتِ اسلامیہ کے جرات مندانہ وجود، غیر متزلزل ایقان اور جذبہ شہادت کی وہ روشن علامت ہے جو تاریخِ عالم کے اوراق پر آبِ زر سے رقم ہو چکی ہے۔ 1965ئ کی وہ تاریک رات جب باطل نے اپنے تمام تر شکوہِ ظاہری، عددی برتری اور تکبرِ فرعونی کے ساتھ عرضِ پاک کی سرحدوں پر شب خون مارا، تو اس وقت شجاعت و بسالت کا ایک ایسا آتشیں فلاقِ اعظم نمو پذیر ہوا جس نے دشمن کے تمام تر شومِ ارادوں کو خاکِ سیاہ میں ملا دیا۔ یہ دن ا±ن سرفروشوں، غازیوں اور گلفروشِ وفا شہدا کی لازوال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنی جوانیاں، اپنے خواب اور اپنے حیات آفریں مسکن اس مٹی کی حرمت و پاسبانی پر قربان کر دیے۔ جنگِ ستمبر کے ہولناک معرکوں، جیسے چو±نڈہ کے عظیم ترین ٹینکوں کے معرکے اور بی آر بی نہر کی دفاعی فصیل پر، ہمارے پاسبانوں نے جس فولادی عزم، پختہ ایمانی قوت اور جراتِ رندانہ کا مظاہرہ کیا، اس نے جدید ملٹری تاریخ کے تمام مروجہ اصولوں کو یکسر مسترد کر دیا۔ وہ میدانِ کارزار میں محض بارود سے نہیں بلکہ نعرہ تکبیر، ح±بِ وطن کے والہانہ جذبے اور شوقِ شہادت کی ناقابلِ تسخیر درع پہن کر اترے تھے۔ شہدا کا ہر قطرہ خون اس سرزمین کے ذرے ذرے کے لیے صیقل ثابت ہوا، جس نے مملکتِ خداداد پاکستان کے طول و عرض کو وہ تحفظ اور استحکام بخشا جو آج بھی صرصرِ حوادث کے سامنے سدِ سکندری بنا ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب دشمن لاہور کے لالہ زاروں اور سوات کے کہساروں کو تسخیر کرنے کے زعمِ باطل میں آگے بڑھا، تو ہمارے شاہینوں، بحری پاسبانوں اور زمینی مجاہدوں نے شجاعت کی وہ داستانیں تخلیق کیں جو ان کے ناموں کو آسمانِ رفعت پر ہمیشگی کا مقام عطائ کر گئیں۔ پاکستان کا ہر وہ شہید جو خاک کے آغوش میں سویا، وہ دراصل حیاتِ جاویدانی کے اس اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہوا جہاں خوف، اندیشہ اور زوال کا کوئی گزر نہیں۔یہ دن ہمیں اس عہدِ وفا کی تجدید کا درس دیتا ہے کہ جو چراغِ ح±ریت ان شہدا نے اپنے مقدس خون سے روشن کیا ہے، اس کی لو کو آنے والی نسلیں اپنی محنت، اتحاد، یکجہتی اور بیداری کے ذریعے مدام روشن رکھیں گی۔ شہید کی موت دراصل قوم کی زندگی کا پیش خیمہ ہوتی ہے، اور 6 ستمبر کا یہ پیغام محض ماضی کی سحر انگیز یادگار نہیں بلکہ ہمارے حال کی ضمانت اور انوارِ مستقبل کا روشن مثال ہے۔ جب تک اس مٹی میں شہدا کے خون کی مہک موجود ہے، اس وطن پر کبھی زوال کی سیاہی مسلط نہیں ہو سکتی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *