Banner
Daily Sahafat Quetta
September 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جے یو آئی ضلع کوئٹہ کا تنظیمی اجلاس 3 ستمبر کو طلب، عوامی مسائل اور آئندہ لائحہ عمل پر غور ہوگا،عبدالرحمن رفیقکوئٹہ میں ریلوے کے ملازمین اسٹیشن کا سامان کباڑی میں بیچتے ہوئے پکڑے گئےسینئر صحافی ضمیر حسین بھٹو کی سالگرہ، نوڈیرو پریس کلب میں تقریبہائی کورٹ کا چیف آفیسر بابو سکندر علی تنیو کے حق میں فیصلہ،میونسپل کارپوریشن اوستا محمد میں عہدہ برقراراسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ آمد، بلوچستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتمستونگ: کھڈکوچہ میں جھڑپ، قومی شاہراہ بندٹائمز اسکوائر چاقو حملہ: بینک آف امریکا کی نائب صدر اور حملہ آور خاتون ہلاکصوبوں کا قیام دو تہائی اکثریت سے مشروط، آزاد کشمیر انتخابات پرامن رہے: اعظم نذیر تارڑمرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کی ہڑتال کے اعلان سے لاتعلقی، تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ قابلِ قبول نہیں، کاشف حیدریسابق ڈی جی ہیلتھ پاکستان ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کی سالگرہ، مداحوں کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہارجے یو آئی ضلع کوئٹہ کا تنظیمی اجلاس 3 ستمبر کو طلب، عوامی مسائل اور آئندہ لائحہ عمل پر غور ہوگا،عبدالرحمن رفیقکوئٹہ میں ریلوے کے ملازمین اسٹیشن کا سامان کباڑی میں بیچتے ہوئے پکڑے گئےسینئر صحافی ضمیر حسین بھٹو کی سالگرہ، نوڈیرو پریس کلب میں تقریبہائی کورٹ کا چیف آفیسر بابو سکندر علی تنیو کے حق میں فیصلہ،میونسپل کارپوریشن اوستا محمد میں عہدہ برقراراسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ آمد، بلوچستان کی سیاسی قیادت سے ملاقاتمستونگ: کھڈکوچہ میں جھڑپ، قومی شاہراہ بندٹائمز اسکوائر چاقو حملہ: بینک آف امریکا کی نائب صدر اور حملہ آور خاتون ہلاکصوبوں کا قیام دو تہائی اکثریت سے مشروط، آزاد کشمیر انتخابات پرامن رہے: اعظم نذیر تارڑمرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کی ہڑتال کے اعلان سے لاتعلقی، تنظیم کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ قابلِ قبول نہیں، کاشف حیدریسابق ڈی جی ہیلتھ پاکستان ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا کی سالگرہ، مداحوں کی جانب سے نیک تمناؤں کا اظہار

عدالت کے کھلے دروازے اور انصاف لاپتہ

محمدنسیم رنزوریار

عدالت کے کھلے دروازے اور انصاف لاپتہ

قارئین کرام، پاکستان کا عدالتی نظام ایک ایسا المیہ پیش کرتا ہے جہاں عالی شان عمارتیں، بھاری بھرکم آئینی کتابیں اور کھلے دروازے تو موجود ہیں لیکن انصاف ایک نایاب جنس بن چکا ہے۔ تاریخ کے صفحات کی اوراق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ 7اکتوبر 1958ء کو جب ملک میں پہلا مارشلا نافذ ہوا، تو جسٹس منیر کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے “نظریہ ضرورت” کو جنم دے کر انصاف کے قتل عام کی بنیاد رکھی۔ دوسو سال پرانے ہانس کیلسن کے آئینی نظریے کو توڑ مروڑ کر ایک غاصب کے حق میں فیصلہ دینا اس بات کا ثبوت تھا کہ عدالت کے دروازے بظاہر مظلوموں کے لیے کھلے تھے مگر اندر سے انصاف غائب ہو چکا تھا۔ اس تاریخی موڑ نے ملک میں آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اور بعد میں انعام اللہ خان کیس اور بگو کیس جیسے فیصلوں میں اسی شقی القلب نظریے کو بار بار دہرایا گیا۔
انصاف کی اسی گمشدگی کا ایک اور ہولناک ثبوت ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہے جہاں 4 اپریل 1979ء کو ملک کے منتخب وزیراعظم کو ایک ایسے مقدمے میں تختہ دار پر چڑھا دیا گیا جس کی قانونی حیثیت پر آج بھی سوالیہ نشان قائم ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین کے ذاتی تعصبات اور سپریم کورٹ کے چار تین کے متنازعہ تناسب نے یہ ثابت کیا کہ انصاف کے ایوانوں میں قانون سے زیادہ شخصیات کے بغض اور پسِ پردہ طاقتوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔ بعد ازاں خود اس فیصلے میں شامل بعض ججوں نے اپنے ضمیر کے بوجھ تلے دب کر اعتراف کیا کہ ان پر فیصلے کے لیے شدید بیرونی دباؤ تھا۔ انصاف کے نام پر کیا جانے والا یہ بھیانک مذاق محض ایک مثال نہیں بلکہ ہمارے عدالتی نظام کا وہ تاریک باب ہے جو آج بھی سائلین کے لیے ایک عبرت کا نشان بنا ہوا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں سب سے عجیب و غریب اور عبرتناک کیسز میں سے ایک “غلام مصطفیٰ بمقابلہ ریاست” کا ہے، جس نے ہمارے انصاف کی سست روی اور کھوکھلے پن کی قلعی مکمل طور پر کھول کر رکھ دی۔ غلام مصطفیٰ اور اس کے بھائی کو قتل کے ایک مقدمے میں نامزد کیا گیا، لیکن ماتحت عدالتوں سے ہوتی ہوئی جب یہ اپیل سپریم کورٹ پہنچی تو ججز نے ان کی بے گناہی ثابت ہونے پر انہیں برأت کا حکم دیا۔ مگر المیہ کی انتہا یہ ہے کہ جب اکتوبر 2016ء میں سپریم کورٹ نے ان کی برأت کا فیصلہ سنایا تو پتہ چلا کہ دونوں بھائیوں کو سال قبل یعنی مئی 2015ء میں ہی پھانسی دی جا چکی تھی۔ بے گناہی کا یہ عدالتی پروانہ اس وقت جاری ہوا جب دونوں ملزمان قبر کی آغوش میں جا چکے تھے، جو اس بات کا دندان شکن ثبوت ہے کہ یہاں عدالت کے دروازے تو بے شک کھلے رہتے ہیں مگر وہاں پہنچنے والا انصاف اکثر دم توڑ چکا ہوتا ہے۔اس ابتر صورتحال کی سب سے بڑی وجہ عدالتوں میں التواء کا وہ پہاڑ ہے جس کے نیچے کروڑوں انسانوں کی امیدیں دفن ہو چکی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کی اعلیٰ و ماتحت عدالتوں میں 22 لاکھ سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، جن میں سے صرف سپریم کورٹ میں 50 ہزار سے زائد کیسز فیصلے کے منتظر ہیں۔ عدالتوں میں “تاریخ پر تاریخ” کا یہ سلسلۂ روز و شب نسل در نسل چلتا ہے، جہاں ایک سائل اپنی جوانی میں مقدمہ دائر کرتا ہے اور اس کا پوتا بڑھاپے میں بھی عدالتی چکر کاٹ رہا ہوتا ہے۔ “دیوانی مقدمہ” کی اصطلاح خود اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ انسان کی عقل و عمر دونوں اس کی پیروی میں ختم ہو جاتی ہیں مگر حتمی فیصلہ نہیں آتا۔ اس تاخیر کی بنیادی وجوہات میں ججوں کی شدید کمی، فرسودہ نوآبادیاتی قوانین، بار اور بینچ کی سیاست اور سائلین سے رشوت و تحائف سمیٹنے کا نظام شامل ہے۔
عدالتی نظام کی اس زبوں حالی میں وکیلوں کی ہڑتالیں اور نوآبادیاتی دور کا نظامِ شہادت بھی ایک بڑا ذریعہ ہے۔ 1872ء کا قانونِ شہادت اور 1898ء کا ضابطہِ فوجداری آج کی 21ویں صدی کی جدید ضروریات کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ جھوٹے گواہوں کی منڈی عدالتوں کے باہر کھلے عام لگتی ہے جہاں چند سو روپوں کے عوض کسی بھی بے گناہ کو قاتل یا چور ثابت کیا جا سکتا ہے، اور عدالتیں تکنیکی شواہد کے نام پر حقیقت سے آنکھیں چرائے رکھتی ہیں۔ دوسری طرف بااثر اور سرمایہ دار طبقے کے لیے یہی عدالتیں رات کے بارہ بجے بھی کھل جاتی ہیں اور ان کے لیے تمام تر قانونی پیچیدگیاں لمحوں میں حل ہو جاتی ہیں، جبکہ ایک عام غریب سائل کے لیے ضابطے کی ایک ایک شق لوہے کی دیوار بن جاتی ہے۔ یہ دوہرا معیار انصاف کے لفظ کو اک مذاق بنا چکا ہے۔
ان تمام تر تلخ حقائق، تاریخی شواہد اور دل دہلا دینے والی مثالوں سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کی آزادی صرف زبانی جمع خرچ اور دکھاوے کی حد تک محدود ہے۔ جب تک 1860ء کے فرسودہ نوآبادیاتی قوانین کو تبدیل نہیں کیا جاتا، ججوں کے احتساب کے نظام کو شفاف نہیں بنایا جاتا، اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مقدمات کے فیصلے کے لیے ایک معقول وقت مقرر نہیں کیا جاتا، تب تک عدالت کے بھاری بھرکم دروازے تو یوں ہی کھلے رہیں گے لیکن ان کے اندر سے انصاف یونہی غائب اور لاپتہ رہے گا، اور عوام کا قانون پر سے اعتماد ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے گا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *