Banner
Daily Sahafat Quetta
August 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، چاکر صدیق بلوچریاست مخالف عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، سرفراز بگٹیاوگرا کا ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاریبلوچستان میں باغات کاٹنا اور نقل مکانی کی باتیں ریاستی ناکامی ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیضلع اوستہ محمد کی طالبات کے لیے حکومت بلوچستان کا شاندار اقدام، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاگیہ خان بلیدی کے لیے سکول بس منظورجی ایچ کیو راولپنڈی میں ترک مسلح افواج کے 104 ویں یومِ فتح کی تقریب کا انعقادآرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ: استنبول میں اہم اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سہ فریقی مذاکراتپمز آتشزدگی میں نومولود بچوں کی اموات پر پوری قوم سوگوار ہے، رئیس پرویز علی بھنبھرواسلامی نظام کے نفاذ سے ملک میں امن و انصاف قائم ہوسکتا ہے، مولانا عبدالقادر لونیبلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے گی، میر سلیم کھوسہباشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، چاکر صدیق بلوچریاست مخالف عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، سرفراز بگٹیاوگرا کا ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاریبلوچستان میں باغات کاٹنا اور نقل مکانی کی باتیں ریاستی ناکامی ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیضلع اوستہ محمد کی طالبات کے لیے حکومت بلوچستان کا شاندار اقدام، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاگیہ خان بلیدی کے لیے سکول بس منظورجی ایچ کیو راولپنڈی میں ترک مسلح افواج کے 104 ویں یومِ فتح کی تقریب کا انعقادآرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ: استنبول میں اہم اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور سہ فریقی مذاکراتپمز آتشزدگی میں نومولود بچوں کی اموات پر پوری قوم سوگوار ہے، رئیس پرویز علی بھنبھرواسلامی نظام کے نفاذ سے ملک میں امن و انصاف قائم ہوسکتا ہے، مولانا عبدالقادر لونیبلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز کی جائے گی، میر سلیم کھوسہ

بلوچستان اسمبلی نے تیزاب گردی کے قانون کا جائزہ لینے کی قرارداد منظور کرلی

بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں تیزاب گردی کے قانون کاجائزہ وتیزاب کی نقل وحمل سے متعلق ضابطہ کار سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کرلی ۔پیر کے بلوچستان اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت منعقدہوا اجلاس میں رکن اسمبلی شاہدہ رئوف نے ارکان اسمبلی غزالہ گولہ، راحیلہ حمیددرانی ،مینا مجید بلوچ، ام کلثوم، سلمیٰ کاکڑ، صفیہ بی بی کی جانب سے قرارداد پیش کی۔قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے شاہدہ رف نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب سے حملے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ تیزاب سے حملہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر سنگین حملہ ہے۔ یہ واقعہ ایک فرد پر نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس، تحفظ اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین حملہ ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب سے حملوں جیسے سنگین جرائم کے واقعات وقتا فوقتا رونما ہوتے رہے ہیں، تاہم اس نوعیت کے جرائم کی مثر روک تھام اور ملزمان کو قرارِ واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر کوئی جامع، مثر اور مخصوص قانون موجود نہیں۔یہی قانونی خلا ایسے گھنانے جرائم کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایسے جرائم سے متاثرہ فرد کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور نجی زندگی پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کے ازالے کے لیے قانون سازی انتہائی ناگزیر ہے۔قرارداد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ فوری طور پر تیزاب سے حملوں سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ضروری ترامیم کرائے یا تیزاب سے حملوں سے متعلق ایک جامع، مثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نیا قانون بنایا جائے، جس میں تیزاب سے حملے کے مرتکب افراد کے لیے سخت سے سخت سزا، متاثرین کی فوری اور مثر بحالی، جس میں مفت اور معیاری طبی علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی اور مناسب مالی امداد شامل ہو۔قرارداد میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ تیزاب کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے لیے سخت ضابط کار اور نگرانی کا نظام بھی واضح کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد باوقار انداز میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی اور وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان کے باقی صوبوں میں تیزاب سے حملوں سے متعلق قوانین موجود ہیں، لیکن بلوچستان میں اس طرح کا موثر قانون موجود نہیں۔صوبائی وزرا نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت بہت جلد تیزاب سے حملوں کے حوالے سے قانون سازی کرے گی۔قرارداد پر بات چیت کرتے ہوئے ارکان اسمبلی علی مدد جتک، فرح عظیم شاہ ،راحیلہ حمیددرانی ،بخت محمد کاکڑ نے کہاکہ یہ قرارداد پہلے لائی جانی چاہیے تھی ،ڈاکٹرماہ نور کے ساتھ جو واقعہ ہوا وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس حوالے سے سخت نوٹس لیا تھا تیزاب گردی کیلئے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں ،سزا و جزا اور قانون سازی سے ایسے واقعات کو روکا جاسکتاہے ،تیزاب سے انسان کی شناخت چھیننے کی کوشش کی کوئی بھی معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔ایوان میں بحث و مباحثے کے بعد جب ڈپٹی سپیکر نے قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کی تو ایوان نے اکثریتِ رائے سے قرارداد کی منظوری دے دی۔ See less

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *