Banner
Daily Sahafat Quetta
August 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نوشکی ،کمسن بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری قابل تحسین ہے ،بابر یوسفزئیعوام کی خدمت کیلئے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا ،گورنر بلوچستانپشتون قومی جرگہ پشتون اولس کے مسائل کا حل ہے ،مقررینمنگی ڈیم حادثہ ،تحقیقاتی کمیشن نے گواہان کیلئے واٹس ایپ اور ای میل سہولت متعارف کروادیبلوچستان اسمبلی نے تیزاب گردی کے قانون کا جائزہ لینے کی قرارداد منظور کرلیبلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ میں غیر رجسٹرڈ کھلے خشک دودھ کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 دکانیں سیل، 6 افراد گرفتارتربت میں لائبریری کا قیام علم و آگہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، میر ظہور بلیدیخواتین کی فلاح و بہبود حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، ڈاکٹر ربابہ بلیدیوزیراعلیٰ بلوچستان سے اہم شخصیات کی ملاقاتیں، صوبائی امور پر تبادلہ خیالنوشکی ،کمسن بچی کے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری قابل تحسین ہے ،بابر یوسفزئیعوام کی خدمت کیلئے سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا ،گورنر بلوچستانپشتون قومی جرگہ پشتون اولس کے مسائل کا حل ہے ،مقررینمنگی ڈیم حادثہ ،تحقیقاتی کمیشن نے گواہان کیلئے واٹس ایپ اور ای میل سہولت متعارف کروادیبلوچستان اسمبلی نے تیزاب گردی کے قانون کا جائزہ لینے کی قرارداد منظور کرلیبلوچستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں،وزیراعلیٰ بلوچستانکوئٹہ میں غیر رجسٹرڈ کھلے خشک دودھ کے خلاف کریک ڈاؤن، 5 دکانیں سیل، 6 افراد گرفتارتربت میں لائبریری کا قیام علم و آگہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، میر ظہور بلیدیخواتین کی فلاح و بہبود حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، ڈاکٹر ربابہ بلیدیوزیراعلیٰ بلوچستان سے اہم شخصیات کی ملاقاتیں، صوبائی امور پر تبادلہ خیال

بلوچستان اسمبلی نے تیزاب گردی کے قانون کا جائزہ لینے کی قرارداد منظور کرلی

بلوچستان اسمبلی نے صوبے میں تیزاب گردی کے قانون کاجائزہ وتیزاب کی نقل وحمل سے متعلق ضابطہ کار سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کرلی ۔پیر کے بلوچستان اسمبلی کااجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی زیر صدارت منعقدہوا اجلاس میں رکن اسمبلی شاہدہ رئوف نے ارکان اسمبلی غزالہ گولہ، راحیلہ حمیددرانی ،مینا مجید بلوچ، ام کلثوم، سلمیٰ کاکڑ، صفیہ بی بی کی جانب سے قرارداد پیش کی۔قرارداد ایوان میں پیش کرتے ہوئے شاہدہ رف نے ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب سے حملے کے واقعے کی مذمت کی اور کہا کہ تیزاب سے حملہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر سنگین حملہ ہے۔ یہ واقعہ ایک فرد پر نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس، تحفظ اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین حملہ ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب سے حملوں جیسے سنگین جرائم کے واقعات وقتا فوقتا رونما ہوتے رہے ہیں، تاہم اس نوعیت کے جرائم کی مثر روک تھام اور ملزمان کو قرارِ واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر کوئی جامع، مثر اور مخصوص قانون موجود نہیں۔یہی قانونی خلا ایسے گھنانے جرائم کی روک تھام میں بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔قرارداد میں کہا گیا کہ ایسے جرائم سے متاثرہ فرد کی جسمانی، ذہنی، نفسیاتی اور نجی زندگی پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن کے ازالے کے لیے قانون سازی انتہائی ناگزیر ہے۔قرارداد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ فوری طور پر تیزاب سے حملوں سے متعلق موجودہ قوانین کا جائزہ لے کر ضروری ترامیم کرائے یا تیزاب سے حملوں سے متعلق ایک جامع، مثر اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نیا قانون بنایا جائے، جس میں تیزاب سے حملے کے مرتکب افراد کے لیے سخت سے سخت سزا، متاثرین کی فوری اور مثر بحالی، جس میں مفت اور معیاری طبی علاج، پلاسٹک سرجری، نفسیاتی معاونت، قانونی اور مناسب مالی امداد شامل ہو۔قرارداد میں یہ بھی سفارش کی گئی کہ تیزاب کی خرید و فروخت اور نقل و حمل کے لیے سخت ضابط کار اور نگرانی کا نظام بھی واضح کیا جائے تاکہ متاثرہ افراد باوقار انداز میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں اور مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام ہو سکے۔صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی اور وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ پاکستان کے باقی صوبوں میں تیزاب سے حملوں سے متعلق قوانین موجود ہیں، لیکن بلوچستان میں اس طرح کا موثر قانون موجود نہیں۔صوبائی وزرا نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ صوبائی حکومت بہت جلد تیزاب سے حملوں کے حوالے سے قانون سازی کرے گی۔قرارداد پر بات چیت کرتے ہوئے ارکان اسمبلی علی مدد جتک، فرح عظیم شاہ ،راحیلہ حمیددرانی ،بخت محمد کاکڑ نے کہاکہ یہ قرارداد پہلے لائی جانی چاہیے تھی ،ڈاکٹرماہ نور کے ساتھ جو واقعہ ہوا وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس حوالے سے سخت نوٹس لیا تھا تیزاب گردی کیلئے بلوچستان میں کوئی جگہ نہیں ،سزا و جزا اور قانون سازی سے ایسے واقعات کو روکا جاسکتاہے ،تیزاب سے انسان کی شناخت چھیننے کی کوشش کی کوئی بھی معاشرہ اجازت نہیں دیتا۔ایوان میں بحث و مباحثے کے بعد جب ڈپٹی سپیکر نے قرارداد رائے شماری کے لیے پیش کی تو ایوان نے اکثریتِ رائے سے قرارداد کی منظوری دے دی۔ See less

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *