Banner
Daily Sahafat Quetta
August 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ریاست پشتونوں کے آئینی حقوق تسلیم کرے، محمود خان اچکزئیپاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقررپاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگادکی میں گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا، 3 سگے بھائی جاں بحق، ایک شخص زخمینواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اسپیکر کی ملاقاتآبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو پہلے وعدے پورے کرنا ہوں گے، ایران کا دوٹوک مؤقفمقامی اخبارات بدترین بحران کا شکار ہیں،بلوچستان میڈیا فورمپشتون جرگہ مثبت تبدیلی اور امن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے،سید صادق آغانئے صوبے قومی ضرورت، بلوچستان میں نئی اکائیوں کا قیام ناگزیرکچے کے علاقے میں دو گروپوں کے درمیان خونریز تصادم ، 8 افراد جاں بحق، 3 زخمیریاست پشتونوں کے آئینی حقوق تسلیم کرے، محمود خان اچکزئیپاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقررپاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگادکی میں گاڑی پر آئی ای ڈی دھماکا، 3 سگے بھائی جاں بحق، ایک شخص زخمینواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اسپیکر کی ملاقاتآبنائے ہرمز کھولنے کیلئے امریکا کو پہلے وعدے پورے کرنا ہوں گے، ایران کا دوٹوک مؤقفمقامی اخبارات بدترین بحران کا شکار ہیں،بلوچستان میڈیا فورمپشتون جرگہ مثبت تبدیلی اور امن کا پیش خیمہ بن سکتا ہے،سید صادق آغانئے صوبے قومی ضرورت، بلوچستان میں نئی اکائیوں کا قیام ناگزیرکچے کے علاقے میں دو گروپوں کے درمیان خونریز تصادم ، 8 افراد جاں بحق، 3 زخمی

لاہور میں موسیقی، ذوق اور ذائقے کا نیا باب کیفے موزارٹ کا شاندار افتتاح بدست ملک محمد احمد خان سپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب نے کیا

منشاقاضی
حسبِ منشا

شہرِ لاہور اپنی تاریخی عمارتوں، ادبی محفلوں، فنونِ لطیفہ اور ذائقوں کی رنگا رنگ دنیا کے باعث ہمیشہ سے ایک زندہ تہذیبی شہر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی روایت میں ایک نئے اور دلکش اضافہ “کیفے موزارٹ” (Café Mozart) کے نام سے سامنے آیا، جہاں ذائقے کے ساتھ موسیقی، جمالیات اور کلاسیکی فنون کی فضا کو یکجا کرنے کا تصور پیش کیا گیا ان خیالات کا اظہار مہمان خصوصی سپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب ملک محمد احمد خان نے اپنے کلیدی خطاب میں کیا ۔ آپ نے عجوبہ ء روزگار شخصیت جن کے خوبصورت خیال کو ہم پیکرِ کیفے موزارٹ میں دیکھ رہے ہیں ، میری مراد پروفیسر ڈاکٹر عامر رفیق سے ہے جنہوں نے کیفے موزراٹ کی شاندار افتتاحی تقریب ماڈل ٹاؤن، لاہور کا پرشکوہ اہتمام کیا ہے اور خوبصورت شخصیات کو مدعو کیا ہے ۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ
کیفے کا نام ہی اس کے مزاج کی ایک خوبصورت ترجمانی کرتا ہے۔ عظیم موسیقار موزارٹ کی یاد سے منسوب یہ نام اس امر کی علامت محسوس ہوتا ہے کہ یہاں محض کھانے پینے کی روایت نہیں بلکہ موسیقی، فن اور ذوقِ جمال کو بھی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ موسیقی کے استاد بھی یہاں دیکھ رہا ہوں اور فنون لطیفہ کی ہر اصناف سے انصاف کرنے والے مصور و خطاط بھی موجود ہیں ۔ ملک محمد احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ افتتاحی دعوت نامے میں بھی کلاسیکی موسیقی کے سازوں اور سروں کو نمایاں کرتے ہوئے ایک ایسی فضا کی عکاسی کی گئی ہے جہاں ذائقہ اور نغمہ ایک دوسرے میں گھلتے محسوس ہوں۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ
لاہور میں کیفے کلچر پہلے ہی ایک مضبوط سماجی اور ثقافتی روایت بن چکا ہے، تاہم ہر نیا کیفے اپنے ماحول، پیش کش اور تصور کے ذریعے اس روایت میں ایک نئی جہت پیدا کرتا ہے۔ کیفے موزارٹ کا تصور ھی اسی تناظر میں قابلِ توجہ ہے، جہاں نام، تزئین، موسیقی اور کلاسیکی جمالیات کو ایک مربوط تجربے کی صورت دینے کی خواہش نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ دعوت نامے میں دکھایا گیا موزارٹ کا کلاسیکی مجسمہ اس تصور کو مزید معنی عطا کرتا ہے، گویا ماضی کے عظیم فن اور عصرِ حاضر کی کیفے ثقافت کے درمیان ایک علامتی پل قائم کیا گیا ہو۔
افتتاحی تقریب کی نقابت کی باگ ڈور موزراٹ کلچرل ہاؤس کی سیکرٹری جنرل ثمینہ اشرف کے ہاتھ میں تھی اور خطبہ ء استقبالیہ ادارے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عامر رفیق جن کی مقناطیسی شخصیت بڑے بڑوں کو یہاں کھینچ لاتی ہے ۔ ڈاکٹر عامر رفیق نے بتایا کہ کیفے موزراٹ کا انعقاد ماڈل ٹاؤن جیسے پُرسکون اور معروف علاقے میں کیا گیا ہے، جو لاہور کی شہری زندگی میں اپنی شائستہ فضا اور تہذیبی شناخت کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ تقریب میں ترکی سے معروف ماہرِ عمرانیات فضیلتِ مآب ڈاکٹر کمال آیدن کو بھی ڈاکٹر عامر رفیق نے ارادت و عقیدت کے چراغوں کی لو میں جب ان کا خیر مقدم کیا تو ڈاکٹر کمال آیدن کے چہرے پر ان کا باطنی حسن چاندنی کی طرح پھیل گیا ۔ وہ اتنی بڑی شخصیت ہیں کہ ان پر ایک مکمل کالم لکھا جائے گا ۔ ڈاکٹر سید رضا عباس زیدی کا اخلاص اور حمزہ چوھدری کا احساس اعتماد کے رشتے کو پائیدار کرتا ہے اس کے علاوہ ملک کے نامور مصور و خطاط ڈاکٹر شفیق فاروقی اور ملک کی ممتاز مصورہ عظمٰی نذیر نے بھی شرکت کی اور کیفے موزراٹ کے ماحول کو سراہتے ہوئے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر عامر رفیق اور آپ کے رفقا کی کارکردگی کے حُسن کی تعریف کی ۔ مسرور الحق لودھی جیسے عظیم انسان جن کی مشاورت کسی بھی مشن کی کامیابی کی کلید ثابت ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر سلطان محمود وہ خوش اطوار انسان ہیں جن کی موجودگی ماحول میں آسودگی پیدا کرتی ہے ۔ کیفے موزراٹ کا یہ دورانیہ دوپہر سے رات تک جاری رہا اور افتتاحی پروگرام نے مہمانوں کو ایک ایسے ماحول میں خوش آمدید کہا جہاں کلاسیکی موسیقی کے بصری استعارے، مدھم روشنیوں اور نفیس آرائشی انداز نے کیفے کے مجموعی تاثر کو نمایاں کیا۔
کیفے موزارٹ کی گرینڈ اوپننگ محض ایک کاروباری سرگرمی کے بجائے ایک ایسے ثقافتی تصور کے آغاز کی علامت بھی قرار دی جا سکتی ہے جس میں کھانے، گفتگو، موسیقی اور جمالیاتی احساس کو ایک ہی تجربے میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسے مقامات شہری معاشرت میں صرف کھانے کی جگہیں نہیں رہتے بلکہ ملاقات، مکالمے، تخلیقی اظہار اور یادوں کی تشکیل کے مراکز بھی بن جاتے ہیں۔
موزراٹ کا حوالہ اس پورے تصور کو ایک خاص معنوی رنگ دیتا ہے۔ موسیقی کی دنیا میں موزارٹ کا نام تخلیقی آزادی، حسنِ ترتیب اور لازوال دھنوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیئے “کیفے موزارٹ” کا نام ایک ایسے مقام کا تصور پیش کرتا ہے جہاں زندگی کی روزمرہ مصروفیات کے درمیان انسان کچھ لمحے ٹھہر کر ذائقے، گفتگو اور موسیقی کے حسن سے لطف اندوز ہو سکے۔ خیال تھا کہ ابھی موسیقی کے استاد سید ظہیر رضوی کی انگلیوں کی پوروں پر موسیقی کی دھنیں رقصاں ہوں گی اور ہم ہمہ تن گوش تھے ۔ سید ظہر رضوی جیسے موسیقار جو اہنے دل کی دھڑکنوں سے موسیقی کی دھنیں ترتیب پاتے ہیں ان کے ہزاروں شاگرد پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔ ان کے لہجے کی شائستگی اور شگفتگی کا حسین امتزاج ماحول کا رنگ بدل دیتا ہے ۔ ڈاکٹر عامر رفیق کے حسنِ انتخاب کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر عامر رفیق نے آخر میں مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ
لاہور کے بدلتے ہوئے شہری منظرنامے میں کیفے موزارٹ کا آغاز اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جدید شہری زندگی میں لوگ اب محض سہولت نہیں بلکہ تجربہ، ماحول اور احساس بھی تلاش کرتے ہیں۔ ایک خوبصورت کیفے وہی ہوتا ہے جہاں میز پر رکھی ہوئی ایک پیالی کافی، پس منظر میں بجتی ہوئی ایک دھن اور سامنے بیٹھے دوستوں کی گفتگو مل کر ایک ایسی یاد تخلیق کر دیں جو وقت گزرنے کے باوجود ذہن میں باقی رہے۔
یوں کیفے موزارٹ، لاہور میں اپنے افتتاح کے ساتھ شہر کی کیفے ثقافت میں ایک نئے ذوق کا اضافہ بن کر سامنے آیا—ایسا ذوق جس کے پس منظر میں موسیقی ہے، جس کے ماحول میں جمالیات ہے اور جس کے تصور میں ایک ایسی شہری محفل کا خواب پوشیدہ ہے جہاں ذائقہ صرف زبان کو نہیں بلکہ روح کو بھی چھو سکے۔ آسٹیرین قونصلیٹ لاھور کی نمائندگی ان کے پرائیویٹ سیکرٹری جناب مظفر علی نے کی ، جن کے انکسار میں افتخار اور گفتگو میں شہد و شیریں کی کشید پائی جاتی ہے ۔ عالمی مصور و خطاط پروفیسر ڈاکٹر شفیق فاروقی کی شناسائی ترک دوستوں سے آشنائی میں بدل گئی اور ڈاکٹر کمال آیدن صاحب سے دیر تک مکالمہ رہا وہ اسلام آباد سے تشریف لائے تھے بصری فنکار مصور و خطاط ہارون الرشید جن کے دستِ ہنر سے نکلا ہوا موزراٹ کا پورٹریٹ مہمان خصوصی ملک محمد احمد خان کے دستِ مبارک سے ڈاکٹر عامر رفیق کو پیش کرنا تھا وہ اپنی والدہ ماجدہ کی ناگہانی وفات پر تشریف نہ لا سکے ۔ ڈاکٹر
عامر رفیق نے آپ کی والدہ مرحومہ کے لیئے دعا بھی کی ۔ اور اب ھارون الرشید اگلے ہفتے موزراٹ کا پورٹریٹ رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے دستِ مبارک سے موزراٹ کلچرل ہاؤس کے سربراہ ڈاکٹر عامر رفیق کو پیش کریں گے ۔ آخر میں لذتِ کام و دہن کے اسباب جس طرح کیفے موزراٹ کے عملے نے شائستگی اور مہمان نوازی کی منتہا کو چھوتی ہوئی محبت اور ارادت کی قندیلوں کی روشنی میں قرینے اور سلیقے سے میزوں پر چن دیئے اس کے لیئے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ۔

سلیقہ انتہا کا چاہیئے موتی پرونے کو

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *