Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندیدنیا میں بدامنی کے پیچھے امریکی پالیسیوں کا کردار ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقبائیک، رکشا، 800 سی سی تک گاڑیوں کیلیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کا اعلانجماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات، حکومت نے مزید مہلت مانگ لیزبیر خان کاکڑ پی ٹی آئی کوئٹہ ایسٹ کے صدر منتخب، پی ٹی آئی بلوچستان کی مبارکبادگڈانی کشتی حادثے میں 6 ماہی گیر ڈوب گئے، 3 کو بچا لیا گیاشاہرگ کی کوئلہ کان میں بڑا حادثہ، 6 کانکن تاحال اندر پھنسےکوئٹہ میں بلڈنگ کوڈ کی خلاف ورزی پر 11 عمارتیں اور پلازے سیلپاکستان تحریک انصاف میں اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئےبلوچستان کے عوام کی نئے صوبے کے قیام کی پُر زور حمایتبلوچستان کے سرکاری کالجز میں تقریبات اور تنظیمی سرگرمیوں پر پابندی

54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 217 پروبیشنری افسران کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ

54ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے 217 پروبیشنری افسران کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز کا دورہ

سول سروسز اکیڈمی لاہور کے 54ویں کامن ٹریننگ پروگرام (CTP) سے تعلق رکھنے والے 217 پروبیشنری افسران پر مشتمل وفد نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد بی آئی ایس پی کے وژن، مینڈیٹ، ادارہ جاتی نظام اور سماجی تحفظ کے اہم پروگراموں کے بارے میں تفصیلی آگاہی حاصل کرنا تھا۔
چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد اور ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر عصمت نواز نے پروبیشنری افسران کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں خیرمقدم کیا۔ وفد سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے پاکستان کے فلیگ شپ سماجی تحفظ پروگرام کے طور پر ارتقائی سفر، خواتین کی خودمختاری اور مالی شمولیت کے فروغ میں اس کے اہم کردار پر روشنی ڈالی۔
*چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے وژن کے مطابق قائم کیا گیا، جبکہ اس پروگرام کی بنیاد صدر آصف علی زرداری نے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی ایک منفرد خصوصیت یہ ہے کہ گھرانے کی خاتون کو مستحق قرار دے کر براہِ راست امداد کی حق دار بنایا گیا، جس سے خواتین سماجی تحفظ کے نظام میں براہِ راست شامل ہوئیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی میں رجسٹریشن کے لیے قومی شناختی کارڈ (CNIC) کی شرط نے لاکھوں خواتین کو قومی ڈیٹا بیس میں شامل کرنے اور بطور شہری ان کی شناخت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
بی آئی ایس پی کے لائف سائیکل اپروچ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پروگرام صرف مالی معاونت فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ کمزور اور مستحق خاندانوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں تعلیم، غذائیت، مالی شمولیت اور روزگار کے مواقع سمیت مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
بی آئی ایس پی سے متعلق غلط تاثر کے حوالے سے چیئرپرسن نے کہا کہ “بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری نہیں بناتا بلکہ انہیں بھکاری بننے سے بچاتا ہے اور باعزت زندگی گزارنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ مستحقین کی عزتِ نفس کا تحفظ بی آئی ایس پی کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔
چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی دنیا کے نمایاں اور قابلِ تحسین سماجی تحفظ کے پروگراموں میں اپنا مقام بنا چکا ہے اور بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق مسلسل اصلاحات اور بہتری کی جانب گامزن ہے۔ انہوں نے مستحقین کو ادائیگیوں میں شفافیت، عزتِ نفس اور سہولت کو یقینی بنانے کے لیے صدر آصف علی زرداری کی ہدایات کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے افسران کو ڈیجیٹل والٹس کے اجرا کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور اسے مالی شمولیت کے میدان میں ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے تقریباً ایک کروڑ خواتین مستحقین کو زیادہ محفوظ، شفاف اور آسان ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بی آئی ایس پی انٹرآپریبلٹی متعارف کرانے کی جانب بھی بڑھ رہا ہے، جس کے تحت مستحقین اپنے وظائف کی رقم کسی بھی مقام پر، کسی بھی وقت، کسی بھی پارٹنر بینکوں کے متعلقہ ایجنٹس کے ذریعے وصول کر سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے مستحق خواتین کے لیے رقم کے حصول میں مزید آسانی اور سہولت پیدا ہوگی۔
سینیٹر روبینہ خالد نے بینظیر ہنرمند پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مستحق خاندانوں کی زندگیوں میں بہتری لانے کے لیے انہیں ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔
چیئرپرسن نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری (NSER) سماجی تحفظ کی منصوبہ بندی کے لیے ایک قومی اثاثہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے بعد بی آئی ایس پی کے پاس ملک کا سب سے بڑا ڈیٹا بیس موجود ہے، جسے صوبائی سطح پر مختلف ادارے اپنے سماجی تحفظ کے اقدامات کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے لیے بھی استعمال کر رہے ہیں۔
قبل ازیں، ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر/سی سی ٹی ڈاکٹر عاصم اعجاز نے افسران کو بی آئی ایس پی کے اہم پروگراموں، جن میں بینظیر کفالت، بینظیر تعلیمی وظائف، بینظیر نشوونما اور این ایس ای آر شامل ہیں، کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔
بینظیر نشوونما پروگرام کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم اعجاز نے بتایا کہ آغا خان یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اس پروگرام کے نتیجے میں بچوں میں (Stunting) کی شرح میں 6.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو ماں اور بچے کی غذائیت اور صحت کے لیے مثبت اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔
بریفنگ کے بعد سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں پروبیشنری افسران نے بی آئی ایس پی کے ادارہ جاتی ڈھانچے، آپریشنز، مستحقین کے انتخاب کے طریقہ کار، ادائیگیوں میں اصلاحات، ڈیجیٹل تبدیلی اور مستقبل کی پالیسی سمت کے حوالے سے سوالات کیے اور مختلف امور پر اپنی آرا کا اظہار کیا۔
دورے کے اختتام پر سول سروسز اکیڈمی کی جانب سے ڈائریکٹر (PAS) ڈاکٹر فیصل ظہور نے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور پروگرام کی کارکردگی کو بےحد سراہا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *