Banner
Daily Sahafat Quetta
August 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
7 اگست کو بلوچستان بھر میں شاہراہیں بند، احتجاجی دھرنے ہوں گے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچچمن میں مزدور کیمپ پر دستی بم حملہ، ایک مزدور جاں بحق، چار زخمیرکنی ٹول پلازہ پر کشیدگی، ڈرائیوروں نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کے سامنے 17 نکات پیش کر دیےپاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر آج منایا جا رہا ہےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاوٴنسز میں نظرثانی سے متعلق وزارت خزانہ کا اہم بیانرواں برس عید میلاد النبی ﷺ کب منائی جائے گی؟ ربیع الاول کے چاند سے متعلق محکمہ موسمیات کا اہم بیانحب میں یومِ استحصالِ کشمیر پر یکجہتی واک، شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکتپاکستانی عدالتی نظام میں اے آئی کا کردار ، ایک مکمل آرٹیکلسرمایہ کی منتقلی، تخریب کاری اور پاکستان کی معاشی تاریخ کا تاریک باب7 اگست کو بلوچستان بھر میں شاہراہیں بند، احتجاجی دھرنے ہوں گے، مولانا ہدایت الرحمن بلوچچمن میں مزدور کیمپ پر دستی بم حملہ، ایک مزدور جاں بحق، چار زخمیرکنی ٹول پلازہ پر کشیدگی، ڈرائیوروں نے حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے وفاقی حکومت کے سامنے 17 نکات پیش کر دیےپاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم استحصال کشمیر آج منایا جا رہا ہےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور الاوٴنسز میں نظرثانی سے متعلق وزارت خزانہ کا اہم بیانرواں برس عید میلاد النبی ﷺ کب منائی جائے گی؟ ربیع الاول کے چاند سے متعلق محکمہ موسمیات کا اہم بیانحب میں یومِ استحصالِ کشمیر پر یکجہتی واک، شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکتپاکستانی عدالتی نظام میں اے آئی کا کردار ، ایک مکمل آرٹیکلسرمایہ کی منتقلی، تخریب کاری اور پاکستان کی معاشی تاریخ کا تاریک باب

بلوچستان کا ایک چہرہ یہ بھی ہے

تحریر: وارث دیناری
بلوچستان کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہاں کے لوگ خواتین کے معاملے میں سخت مزاج ہیں، اور حقوقِ نسواں کے حوالے سے بلوچستان کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں لیا جاتا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت بہت زیادہ پسماندہ ہے۔ یہ احساسِ محرومی ہر جگہ محسوس کی جا سکتی ہے؛ خواہ وہ تعلیم ہو، صحت، روزگار، پانی، بجلی، گیس، مواصلات، یا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی۔ انفراسٹرکچر کا یہ حال ہے کہ شاہرائیں تباہ ہو چکی ہیں اور حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس وقت اسلام آباد سے دبئی کا ہوائی سفر سستا، جبکہ اسلام آباد سے کوئٹہ کا سفر مہنگا ہے۔ روز بہ روز امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے پسماندگی کو بے تحاشہ بڑھاوا دیا ہے۔یہ میں نے ایک معمولی اور سرسری جائزہ پیش کیا ہے۔ میرے صوبے کی پسماندگی کے اسباب کیا ہیں؟ کن وجوہات کی بنا پر بلوچستان کی یہ حالت کی گئی اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے، لکھا جا رہا ہے اور لکھا جائے گا۔ لیکن، آج میں اپنے صوبے کا روشن چہرہ آپ لوگوں کے سامنے پیش کرنے جا رہا ہوں۔اس کی ابتدا میں ایک واقعے سے کرتا ہوں۔ یہ 1994 کی بات ہے، میرے ایک دوست شفیق احمد جٹ صاحب نے، جو فیصل آباد کی تحصیل سمندری کے قریب رہتے ہیں، مجھے مشورہ دیا کہ ہول سیل صابن کا کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد صابن کا مرکز ہے، آپ آئیں اور یہیں سے مال لے کر جائیں۔ خیر، میں فیصل آباد چلا آیا اور فیکٹری والے سے بھاؤ تاؤ کر کے سودا طے کر لیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلیوری میں دس دن لگیں گے۔ دوست نے مشورہ دیا کہ جب تک ادھر گاؤں میں رہیں اور علاقہ بھی دیکھ لیں، تو میں نے حامی بھر لی۔ تین چار دن تو گاؤں میں گزارے اور سمندری، گوجرہ، اور چیچاوطنی سمیت کئی علاقے دیکھے۔ پھر میں نے دوست سے کہا کہ بقیہ دن فیصل آباد شہر میں گزارتے ہیں۔فیصل آباد میں ہم کہیں بھی جاتے، وہاں کے لوگ زیادہ تر مجھے ‘ڈیرے وال’ سمجھتے۔ جب میرا دوست میرا تعارف کرواتا، تو اکثر لوگ پوچھتے کہ بلوچستان کہاں ہے؟ کیا کوئٹہ سندھ میں ہے؟ وہ میرے چھوٹے شہر، ضلع، یہاں تک کہ ڈویژن کے نام سے بھی ناواقف تھے۔ وہاں مجھے اردو بولنے والے بھی شاذ و نادر ہی ملے، زیادہ تر لوگ پنجابی زبان میں بات کرتے تھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہے، لیکن بلوچستان کے کسی عام چرواہے سے بھی اگر آپ پنجاب کے کسی شہر یا علاقے کے بارے میں پوچھیں گے، تو اول تو وہ آپ کو بتائے گا کہ اس نے وہ علاقہ خود دیکھا ہے۔ اگر نہیں بھی دیکھا، تو وہ پورے علاقے کا حدود اربعہ آپ کو زبانی بتا دے گا
۔میرا کوئٹہ ملک کا وہ واحد شہر ہے جس میں بیک وقت کئی زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں بلوچی، براہوی، سندھی، سرائیکی، پنجابی، پشتو، فارسی اور اردو سمیت کئی علاقائی زبانیں شامل ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ اس وقت لاہور، اسلام آباد اور ملتان سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں کی تعداد میں بلوچستانی بچے اور بچیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان میں سے کئی طلبہ کے والدین دو وقت کی بجائے محض ایک وقت کی روٹی کھا کر بھی اپنے بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اگر بلوچستان میں معیاری تعلیمی ادارے اور اکیڈمیاں ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں کے باسیوں کو دیگر صوبوں کی طرح مالی وسائل بھی میسر ہوتے، تو میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کے بچے سب سے آگے نکل جاتے۔پورے ملک میں اس وقت بلوچستان کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کے ایک اہم ڈویژن میں خاتون کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اگرچہ پنجاب میں مختلف مواقع پر دو خواتین کمشنر کے عہدے پر فائز رہی ہیں، تاہم سندھ اور خیبر پختونخوا میں ابھی تک یہ اعزاز کسی خاتون کو حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ سائرہ عطا بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ایک دور افتادہ علاقے (ضلع آواران) سے ہے، لیکن انہوں نے اپنی انتھک جدوجہد، ہمت اور محنت سے بلوچستان اور بلوچ قوم کی پہلی خاتون کمشنر ہونے کا تاریخی اعزاز حاصل کیا ہے۔بلوچستان کے نہایت ہی اہمیت کے حامل لسبیلہ ڈویژن کی نہ صرف کمشنر ایک بلوچ خاتون، سائرہ عطا بلوچ ہیں، بلکہ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ بھی ایک بلوچ خاتون، حمیرہ بلوچ ہیں۔ اسی طرح لسبیلہ ڈویژن کی تحصیل کنراج کی اسسٹنٹ کمشنر بھی بلوچستان سے تعلق رکھنے والی ایک ہندو خاتون، کشش چوہدری ہیں۔ اس وقت بلوچستان کے اس اہم ترین ڈویژن کی اعلیٰ انتظامیہ کی تینوں کلیدی پوسٹوں پر خواتین تعینات ہیں، جو ان کی قابلیت، ہمت اور حوصلے کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے
:ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
!اگر بلوچستان کے بچوں اور بچیوں کو یکساں مواقع ان کے گھر کے قریب میسر ہوں، تو وہ کسی بھی طرح دیگر صوبوں کے بچوں سے کم نہیں ہیں۔ ضرورت صرف سہولیات کی فراہمی اور وسائل کی ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *