Banner
Daily Sahafat Quetta
August 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقصومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہڈاکٹر ماہ نور ناصر مزید علاج کے لیے کلیولینڈ ہسپتال ابوظہبی منتقلبلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعلیٰ” شہید تیمور شاہ کاکڑ ” ایسا چراغ جو بجھ کر بھی روشن ہےپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اور قدم، حکومت سے فنڈز طلببچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرستپاکستان اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاقصومالیہ سے پاکستانی مغوی اب تک رہا نہ ہوسکے جس پر پاکستان افسردہ ہے، دفتر خارجہوزیراعلیٰ بلوچستان سے ٹرانسپورٹرز اور گڈز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، مسائل کے حل کی یقین دہانیخضدار: نال میں پولٹری سپلائی گاڑی نذرِ آتش، ڈرائیور مبینہ طور پر اغواہائی کورٹ بار بلوچستان کا آسماء جتک کے والد اور دیگر رشتہ داروں کے قتل کی مذمت، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہڈاکٹر ماہ نور ناصر مزید علاج کے لیے کلیولینڈ ہسپتال ابوظہبی منتقلبلوچستان کی شاہراہوں کو محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیراعلیٰ” شہید تیمور شاہ کاکڑ ” ایسا چراغ جو بجھ کر بھی روشن ہےپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اور قدم، حکومت سے فنڈز طلببچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرست

فیض مکہ مکرمہ

فیض مکہ مکرمہ
تحریر،شکیل گوندل

علی یار! چاچو جان ڈاکثر طاھر احمد خان صاحب کی فیملی اور ھم سب ماشاءاللہ لاھور ان ھی کے گھر میں اللہ کریم کے کرم اور امی جی مرحومہ کی دعاوں بھری سرپرستی کی بدولت قریباً 22 سال اکٹھے رھتے رھے ھیں۔شکر الحمدللہ مثالی اور قاںل فخر مگر یاد گار وقت گذرا تھا۔
علی بھائی! تمھیں پتا ھے کہ جب ھم بہت چھوٹے چھوٹے سے تھے اس وقت سے ماشاءاللہ چاچو ھر دوسرے تیسرے سال حج مبارک یا عمرہ مبارک کی سعادت کے لئے جاتے ھیں اور بہت اچھی اور دلچسپ باتیں بھی سناتے ھیں۔
ھاں عمر بھائی! ماشاءاللہ چاچو جان کو اللہ رب العزت نے مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں اعتکاف کی سعادتیں بھی عطا فرمائی ھوئی ھیں۔
عمر بھائی! چاچو نے شروع میں حاصل ھونے والی سعادت کے دنوں میں بتایا کہ مکہ مکرمہ کے ایک محلے میں لاھور کے میاں بیوی حج سے پہلے گھر کرائے پر لے لیتے اور حج کے دنوں میں حجاج اکرام کو کرائے پر گھر کے کمرے بھی ساتھ ھی تین ٹائم کھانا بھی،(Paying gues)۔اس طرح وہ کافی کما لیتے۔ چاچو جان جب بھی حج مبارک یا عمرہ مبارک کے لئے آتے تو ان ھی کے پاس ٹھہرا کرتے تھے۔ اس سال ایک میاں بیوی بھی حج مبارک کے لئے انھیں کے پاس ٹہرا ھوئے تھے۔
شام کو بزرگ بابا جی کی طبیعت خراب ھو گئی
جوں جوں رات ھو رھی تھی ان کی طبیعت بگڑتی جارھی تھی۔ان کی اھلیہ نے کافی کوشش کی کہ طبیعت ٹھیک ھو جائے
مگر طبیعت بگڑتی ھی جا رھی۔بزرگ کہنے لگے میں ںیمار اور لا چار ھو گیا ھوں۔مہربانی کرنا کہ اگر طبیعت ٹھیک نہ ھو تو مرنے کے بعد مجھے پاکستان نہ لے کر جانا بلکہ یہیں مکہ مکرمہ میں دفن کر دینا۔ یہ مجھ پر اللہ کریم خاص کرم ھے کہ میری موت اس پاک زمن پر ھو رھی
ان کی طبیعت سے لگ رھا تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ خراب ھی ھوتی جا رھی تھی۔یہ سن کر ان کی اھلیہ خاموشی سے باھر چلی گئیں۔ادھی رات تو ان حاجی صاحب کی طبیعت بگڑتی چلی گئی۔محسوس یہ ھو رھا تھا کہ آ خری وقت قریب مگر حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ بیمار حاجی صاحب بجائے پریشان ھونے کے نہایت مطمئن بلکہ یوں سمجھیں کہ وہ اس حالت میں بھی خوش تھے۔
علی یار! وہ اتنی شدید بیماری اور تکلیف کے باوجود کیوں خوش تھے؟
دیکھو عمر یار! تمھارا سوال میری توقع کے عین مطابق ھے۔
بھائی میرے! وہ حاجی صاحب اس لئے خوش اور مطمئن تھے کہ اپنے وقت پر موت تو ھر ایک کو آ نی ھی ھے۔تو یہاں حرم میں موت کا بہت اجر ھو گا۔اس کے بدلے نجانے کتنی کفائت روز محشر میں عطا ھو جائے۔
یہی بات انھوں نے اھلیہ کو بتا کر مکہ مکرمہ میں ھی دفن کی وصیت بھی کر دی۔
عمر بھائی! دیکھو کہ ادھی رات یعنی بارہ بجے تک تو انکی تیزی سے خراب ھوتی ھوئی طبیعت سے سبھی انکی زندگی سے مایوس ھو گئے۔مگر بارہ بجے کے بعد ان کی طبیعت خود بخود بہتر ھونا شروع ھو گئی۔یہاں تک کہ فجر کی اذان شروع ھوئی تو بالکل ٹھیک اور تندرست نظر انے لگے۔عمر! اسی دوران انکی اھلیہ گھر ان پہنچیں۔جب انھیں رات والی کیفیت اور مو جودہ حالت بتائی تو مسکرا کر کہنے لگیں یہ کیسے رحلت کر سکتے تھے؟
عمر بھائی! اب سننے کی بات ھے۔وہ خاتون تمام متجسس صاحبان کو بتانے لگیں کہ میں ان کی بگڑتی ھوئی طبیعت دیکھ کر خانہ کعبہ چلی گئی تھی۔وھاں اللہ رب العزت کے گھر کو لپٹ کر اپنے اللہ کریم سے دعائیہ فریاد کرتی رھی کہ اے رب العالمین! میں ایک بے بس عورت ھوں۔تیرے گھر میں حج کے لئے اپنے خاوند کو محرم بنا کر لائی ھوں۔جس طرح میرا سہاگ میرے محرم بن کر حج کرنے آیا ھے۔اسے حج کی سعادت بھی عطا فرما اور صحت و تندرستی بھی عطا فرما۔تا کہ میں اسی کے ساتھ حج کی سعادت کے بعد واپس جاوں۔اب نماز کا وقت ھے تو میں واپس آئی ھوں۔عمر بھائی! وہ حاجن صاحبہ نے مزید بتایا کہ انھیں یقین تھا اللہ کریم کے گھر عاجزی اور اخلاص سے مانگی گئی دعا ان شاءاللہ قبول ھو گئی ھو گی۔
عمر اس حاجن صاحبہ کا یقین اور اخلاص سے دعا مانگنا اللہ رب العزت نے قبول فرما لیا اور انھوں صحت مند ھو کر حج مبارک کی سعادت بھی حاصل کر لی۔
علی بھائی میں سمجھ گیا اس خاتون نے خاوند کی صحت کی دعا پورے اخلاص اور یقین سے مانگی جو قبول فرما لی گئی۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *