Banner
Daily Sahafat Quetta
August 6, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اور قدم، حکومت سے فنڈز طلببچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرستامریکا دوبارہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری پر آمادہ ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہجماعت اسلامی کا 7 اگست احتجاج؛ حافظ نعیم نے خصوصی ویڈیو پیغام جاری کردیاحکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، نوٹیفکیشن جاریخطے کی صورتحال؛ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ دورۂ سعودی عربقلات، سوراب شاہراہ پر مسلح افراد کی کارروائی، بس عملہ اغوااسلحے کی قلت پر ٹرمپ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر برہم ہو گئے، واشنگٹن پوسٹ کا بڑا دعویٰسوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سیکیورٹی نوٹیفکیشن جعلی ہے، بابر یوسفزئیاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ کا انسدادِ پولیو مہم کے دوران یونین کونسل ٹاؤن کا دورہ؛ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہپنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی جانب ایک اور قدم، حکومت سے فنڈز طلببچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرستامریکا دوبارہ اپنے سابقہ وعدوں کی پاسداری پر آمادہ ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہجماعت اسلامی کا 7 اگست احتجاج؛ حافظ نعیم نے خصوصی ویڈیو پیغام جاری کردیاحکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا، نوٹیفکیشن جاریخطے کی صورتحال؛ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ دورۂ سعودی عربقلات، سوراب شاہراہ پر مسلح افراد کی کارروائی، بس عملہ اغوااسلحے کی قلت پر ٹرمپ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ پر برہم ہو گئے، واشنگٹن پوسٹ کا بڑا دعویٰسوشل میڈیا پر گردش کرنے والا سیکیورٹی نوٹیفکیشن جعلی ہے، بابر یوسفزئیاسسٹنٹ کمشنر مسلم باغ کا انسدادِ پولیو مہم کے دوران یونین کونسل ٹاؤن کا دورہ؛ ٹیموں کی کارکردگی کا جائزہ

بچوں کے ساتھ زیادتی اور دیگر جرائم کے ہولناک اعداد و شمار جاری، پنجاب سرفہرست

اسلام آباد: بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل نے جنوری سے جون 2026 تک بچوں کے خلاف جرائم سے متعلق ششماہی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک بھر میں بچوں کے ساتھ زیادتی، اغوا اور دیگر جرائم کے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق چھ ماہ کے دوران پاکستان میں بچوں کے خلاف مجموعی طور پر 1914 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 49 نومولود بچوں کو لاوارث چھوڑنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔

ساحل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات میں 1015 بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 558 اغوا، 101 گمشدگی اور 35 کم عمری کی شادیوں کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے۔ اس کے علاوہ 98 ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں جنسی زیادتی کے بعد بچوں کو فحش مواد کے لیے استعمال کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق متاثرہ بچوں میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے شامل تھے۔ عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جن کی تعداد 598 رہی۔

رپورٹ کے مطابق 43 فیصد واقعات میں ملزمان متاثرہ بچوں کے جاننے والے تھے، جبکہ 34 فیصد کیسز میں ملزمان اجنبی تھے۔ زیادہ تر واقعات متاثرہ بچوں کے گھروں میں رپورٹ ہوئے۔

ساحل کے مطابق 57 فیصد کیسز شہری علاقوں جبکہ 43 فیصد دیہی علاقوں سے سامنے آئے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ 80 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے، سندھ سے 15 فیصد جبکہ دیگر علاقوں سے مجموعی طور پر 5 فیصد واقعات سامنے آئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ زیادہ تر کیسز پولیس میں درج کیے گئے، تاہم کچھ واقعات میں مقدمات کے اندراج سے متعلق معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *