Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
موسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئےموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے انتقال پر حافظ حسین احمد کا اظہارِ تعزیتانسانی اسمگلنگ ایک سنگین اور منظم جرم ہے،سعادت خانصوبائی وزیر صحت خیبرپختونخوا خلیق الرحمن سے مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما صفدر خان باغی کی ملاقاتایم پی اے میر طارق مگسی کی بنگلزئی ہاؤس آمد، اظہارِ تعزیتسورینج کول مائن میں گیس دھماکہ، 25 سے زائد کان کن پھنس گئے

نسلہ ٹاور کی مسماری کے سپریم کورٹ احکامات سے متعلق آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور کی مسماری کا سبب بننے والے سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لے لیے۔
عدالت نے قرار دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کا اختیار بنیادی طور پر صوبائی حکومت کا ہے، عدلیہ کا نہیں۔ عدالتیں اپنے سامنے موجود تنازع تک محدود رہیں، غیر ضروری معاملات میں مداخلت نہ کریں۔

وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ سپریم کورٹ نے زیرِ سماعت مقدمے سے آگے بڑھ کر وسیع احکامات جاری کیے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی رپورٹس کی بنیاد پر قانونی تقاضے پورے کیے بغیر مسماری کے احکامات نہیں دیے جا سکتے۔ منصفانہ قانونی کارروائی (ڈیو پروسیس) ہر مقدمے میں لازمی آئینی تقاضا ہے۔

مزید یہ کہ عدالت کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کو قانونی تحفظ دینا نہیں، صرف قانون کے مطابق کارروائی کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت کے مطابق کراچی میں غیر قانونی تعمیرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانونی نظام اور متعلقہ ادارے پہلے سے موجود ہیں۔ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے غیر قانونی تعمیرات کی نگرانی اور کارروائی کے آئینی و قانونی طور پر پابند ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 21 دسمبر 2018 اور 22 جنوری 2019 کے سپریم کورٹ کے احکامات اور ان کے تحت ہونے والی کارروائیاں واپس لے لیں۔

فیصلے میں جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کاتحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے ۔ پارکس، کھیل کے میدان، گرین بیلٹس، فٹ پاتھ، ساحل اور دیگر عوامی مقامات کو غیر قانونی قبضوں اور تبدیلیوں سے محفوظ رکھا جائے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *