Banner
Daily Sahafat Quetta
September 19, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کیچی بیگ میں گھر کے اندر شدید دھماکا، 2 افراد جاں بحقTENDER NOTICE: DAB/AB NO.351/18-9-2026کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیمصنوعی ذہانت (AI) – ابتدا، حال اور مستقبلچراغِ علم سے روشن ہوتی نسلیں پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ ثمینہ کی تعلیمی خدمات اور طالبات کی تربیتنصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجروہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری، منصوبے پر ایک ارب 27 کروڑ روپے لاگت آئے گیکوئٹہ میں اے جی آفس کے آڈٹ افسر فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروعاکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہکیچی بیگ میں گھر کے اندر شدید دھماکا، 2 افراد جاں بحقTENDER NOTICE: DAB/AB NO.351/18-9-2026کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیمصنوعی ذہانت (AI) – ابتدا، حال اور مستقبلچراغِ علم سے روشن ہوتی نسلیں پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ ثمینہ کی تعلیمی خدمات اور طالبات کی تربیتنصیر احمد کاکڑ پر حملے کے خلاف گنداخہ میں احتجاجروہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کا کام تیزی سے جاری، منصوبے پر ایک ارب 27 کروڑ روپے لاگت آئے گیکوئٹہ میں اے جی آفس کے آڈٹ افسر فائرنگ سے جاں بحق، پولیس کی تحقیقات شروعاکادمی ادبیات پاکستان کوئٹہ کی تقریبِ پذیرائی،میر نواز سولنگی کی کوئٹہ آمد ، آغاگل کی جانب سے عشائیہ

اے سی صرف ٹھنڈک ہی نہیں دیتا، جسم پر اس کے اثرات جاننا بھی ضروری

شدید گرمی اور حبس کے موسم میں ایئر کنڈیشنر (اے سی) لاکھوں افراد کے لیے راحت کا ذریعہ بن جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا درست استعمال اور اس کے ممکنہ اثرات سے آگاہی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ دنیا کے گرم خطوں میں جہاں درجہ حرارت مسلسل بڑھ رہا ہے، وہاں اے سی گرمی سے بچاؤ کا اہم ذریعہ بن چکا ہے، تاہم اس کی ٹھنڈی اور خشک ہوا بعض اوقات صحت پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اے سی کمرے کی گرم اور مرطوب ہوا کو اپنے اندر کھینچتا ہے، جہاں ٹھنڈی پائپوں میں موجود گیس اس کی حرارت جذب کر لیتی ہے۔ اس عمل کے بعد ہوا ٹھنڈی ہو کر دوبارہ کمرے میں واپس آتی ہے اور یہی سلسلہ مسلسل جاری رہتا ہے، جس سے درجہ حرارت کم رہتا ہے۔ اس دوران ہوا میں موجود نمی بھی کم ہو جاتی ہے، جس کا اثر انسانی جسم پر پڑ سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق جدید ایئر کنڈیشننگ نظام کی بنیاد امریکی انجینئر ویلس کیریئر نے 1902 میں رکھی، جب انہوں نے نیویارک کے ایک پرنٹنگ پلانٹ میں نمی کو کنٹرول کرنے کے لیے پہلا نظام تیار کیا۔ بعد ازاں 1931 میں ونڈو اے سی متعارف ہوئے، جبکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد ان کی بڑے پیمانے پر تیاری شروع ہوئی اور یہ گھروں اور دفاتر تک پہنچ گئے۔ بعد میں ماحول دوست ٹیکنالوجی اختیار کی گئی تاکہ اوزون کی تہہ کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں گرمی اور حبس زیادہ ہو وہاں اے سی صرف آرام ہی نہیں بلکہ بعض اوقات جان بچانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مناسب ٹھنڈک نہ ملنے پر انسان ہیٹ اسٹریس یا شدید گرمی کے دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق گرمی سے پیدا ہونے والا دباؤ موسم سے متعلق اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے اور یہ دل کے امراض، ذیابیطس، دمہ اور ذہنی صحت کے مسائل کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ گرمی کی سب سے خطرناک کیفیت ہیٹ اسٹروک یا لو لگنا ہے، جس میں جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے اور بروقت علاج نہ ملنے کی صورت میں جان بھی جا سکتی ہے۔

ماہرین نے گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے زیادہ پانی پینے، دھوپ سے حتیٰ الامکان بچنے، ہلکے اور سوتی کپڑے پہننے، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نہ نکلنے اور رہائشی جگہ کو ٹھنڈا رکھنے کا مشورہ دیا ہے۔ اگر کسی شخص کو لو لگ جائے تو اسے فوری طور پر سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، کپڑے ڈھیلے کیے جائیں، پاؤں قدرے اونچے رکھے جائیں اور پنکھے یا اے سی کے ذریعے جسم کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے۔

دوسری جانب مسلسل اے سی استعمال کرنے سے بھی بعض مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ٹھنڈی اور خشک ہوا جلد اور آنکھوں کو خشک کر سکتی ہے، جبکہ ناک اور گلے میں خشکی، سر درد اور بعض افراد میں پٹھوں اور جوڑوں کی اکڑن بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ ایسے حالات میں مناسب مقدار میں پانی پینا، جلد کے لیے موئسچرائزر، آنکھوں کے قطرے اور ضرورت پڑنے پر نمکین پانی کا اسپرے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اے سی کے فلٹرز کی باقاعدگی سے صفائی نہ کی جائے تو ان میں گردوغبار، پھپھوندی اور جراثیم جمع ہو سکتے ہیں، جو خاص طور پر دمے اور سانس کے مریضوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ اسی لیے سال میں کم از کم ایک مرتبہ اے سی کی مکمل سروس کرانے کی سفارش کی جاتی ہے، جبکہ براہِ راست ٹھنڈی ہوا کے سامنے زیادہ دیر بیٹھنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

نیند کے دوران ماہرین 16 سے 18 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت برقرار رکھنے اور ہلکا کمبل استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جن افراد کے لیے اے سی خریدنا ممکن نہ ہو یا وہ بجلی کے اخراجات کم رکھنا چاہتے ہوں، ان کے لیے ماہرین نے گھریلو متبادل بھی تجویز کیا ہے، جس میں تھرموپول کے ڈبے میں برف رکھ کر اس کے ساتھ ایک چھوٹا پنکھا استعمال کیا جا سکتا ہے، جو وقتی طور پر ٹھنڈی ہوا فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بڑھتی ہوئی گرمی میں ٹھنڈک کے ذرائع کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، تاہم صحت کو بہتر رکھنے کے لیے اے سی کا متوازن استعمال، باقاعدہ صفائی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *