Banner
Daily Sahafat Quetta
September 22, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، 22 ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیاTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1473/21-9-2026مبارکباد سید عبدالروف آغا اور سید نقیب اللہ آغا کو چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری پشین بلوچستان کے ایگزیکٹیو ممبر سال برائے 2026-2028 منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ترجمان چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری بلوچستاننوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی پروقار تقریب، فریال تالپور کی شرکتکوئی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہے، ماجد سلیممہنگائی اور معاشی دباو نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، سردارمنظور احمد کاکڑمولانا محمد ادریس شہید کی شہادت علمی و دینی طبقے کیلئے عظیم نقصان ہے، محمد یوسفپاکستان کی بقا اور سالمیت کیلئے مولانا فضل الرحمان جدوجہد کررہے ہیں،مولانا عبد الواسعملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف بی ایف اے کی کارروائیاں تیز ، 64 یونٹس کی چیکنگ، 14 دودھ فروش جرمانہسماجی بہبود کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، شگفتہ گل عمرانیپیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا، 22 ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیاTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1473/21-9-2026مبارکباد سید عبدالروف آغا اور سید نقیب اللہ آغا کو چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری پشین بلوچستان کے ایگزیکٹیو ممبر سال برائے 2026-2028 منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ترجمان چیمبر اف کامرس اینڈ انڈسٹری بلوچستاننوڈیرو میں بلاول بھٹو زرداری کی سالگرہ کی پروقار تقریب، فریال تالپور کی شرکتکوئی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطروں سے محروم نہ رہے، ماجد سلیممہنگائی اور معاشی دباو نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے، سردارمنظور احمد کاکڑمولانا محمد ادریس شہید کی شہادت علمی و دینی طبقے کیلئے عظیم نقصان ہے، محمد یوسفپاکستان کی بقا اور سالمیت کیلئے مولانا فضل الرحمان جدوجہد کررہے ہیں،مولانا عبد الواسعملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف بی ایف اے کی کارروائیاں تیز ، 64 یونٹس کی چیکنگ، 14 دودھ فروش جرمانہسماجی بہبود کے اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کیلئے وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، شگفتہ گل عمرانی

عدلیہ کو انتظامی اور حکومتی معاملات میں احتیاط برتنا ہوگی، لاہور ہائیکورٹ


لاہور ہائیکورٹ نے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کی وصولی کے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دی۔

جسٹس احمد ندیم ارشد نے درخواست گزار اشبا کامران کی درخواست پر 6 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توانائی کے شعبے میں پالیسی سازی عدلیہ نہیں بلکہ حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے، جبکہ عدالت اقتصادی، مالیاتی اور ریگولیٹری پالیسیوں پر اپیلٹ فورم کے طور پر کام نہیں کر سکتی۔

عدالت نے قرار دیا کہ محض کسی پالیسی سے اختلاف آئینی درخواست دائر کرنے کا جواز نہیں بنتا اور نہ ہی عدالت ریگولیٹر، آڈیٹر یا ماہرِ معاشیات کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ فیصلے کے مطابق کیپسٹی چارجز اور ٹیرف سے متعلق معاملات پالیسی ساز اداروں کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

عدالت نے مزید کہا کہ درخواست گزار کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہی، جبکہ آئینی حقوق سے متعلق عدالتی مداخلت صرف غیر قانونی یا غیر آئینی اقدامات کی صورت میں ہی ممکن ہے۔

فیصلے میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ عدلیہ کو انتظامی اور حکومتی معاملات میں احتیاط برتنا ہوگی۔

فیصلے کے مطابق آئی پی پیز کو کی گئی ادائیگیوں کی واپسی کا حکم دینا بھی عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں آتا، جبکہ مفاد عامہ کے نام پر عدالت سے پالیسی سازی نہیں کرائی جا سکتی۔

درخواست گزار نے اپنے بجلی کے بلوں میں کیپسٹی چارجز اور ٹیرف کی وصولی کو چیلنج کرتے ہوئے بجلی کے شعبے کے ریگولیٹری نظام کا مکمل ازسرنو جائزہ لینے کی استدعا کی تھی، تاہم عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *