Banner
Daily Sahafat Quetta
September 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بلوچستان میں سرمایہ کاری کا فروغ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے، ظہور بلیدیشہریوں کو مشکلات سے نجات دلانا ترجیح ہے، ایس ڈی پی او اکبر علیمرحوم خوشحال خان کی دسویں برسیالحمد اسلامک یونیورسٹی میں نیب بلوچستان کا آگاہی سیمینارپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصرپاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئےمائنس عمران خان فارمولا پاکستان کیلئے بربادی کا راستہ ہے، محمود اچکزئیکوئٹہ: پیپلز شٹل ٹرین کا افتتاح دوسری مرتبہ ملتویعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہبلوچستان میں سرمایہ کاری کا فروغ پائیدار ترقی کیلئے ضروری ہے، ظہور بلیدیشہریوں کو مشکلات سے نجات دلانا ترجیح ہے، ایس ڈی پی او اکبر علیمرحوم خوشحال خان کی دسویں برسیالحمد اسلامک یونیورسٹی میں نیب بلوچستان کا آگاہی سیمینارپاکستان اور مالدیپ کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں،سیدال خان ناصرپاکستان میں دہشتگردی؛ ملوث افغان عناصر کے شواہد ایک بار پھر سامنے آ گئےمائنس عمران خان فارمولا پاکستان کیلئے بربادی کا راستہ ہے، محمود اچکزئیکوئٹہ: پیپلز شٹل ٹرین کا افتتاح دوسری مرتبہ ملتویعوامی سیلاب کو طاقت سے نہیں روکا جاسکتا،سید صادق آغامعشیت کے استحکام کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں،سید امان شاہ

بگٹی صاحب مبارک ہو ۔ بلاآخر سینکڑوں گھروں کے چولھے بجھ گئے


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ قیوم بلوچ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرفراز بگٹی سرکار کی جانب سے متنازعہ اور لوکل میڈیا کش ” ڈیجیٹل میڈیا پالیسی ” کی تمام تر مخالفت کے باوجود صوبائی کابینہ سے منظوری کے بعد مقامی اخبارات کے سینکڑوں کارکن اور حقیقی صحافی بیروزگار ھوگئے۔ درجنوں اخبارات نے اشاعت بند کرنے کا اعلان کردیا۔ اور 90 فیصد اخباری مالکان نے صحافیوں اور کارکنوں کو گھر کا راستہ دکھا دیا۔

ان صحافیوں کو بھی مبارک ھو۔ جو صحافی تو نہ رہے، بلکہ کیمروں کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے اداکار اور وزیر اعلیٰ ھاؤس کے مشیر بن کر رہ گئے ہیں۔ جنھوں نے اسی تالی میں چھید کیا۔ جس میں وہ کھا پی کر وزیر اعلیٰ ھاؤس تک پہنچے، اور سینکٹروں خاندانوں کے روزگار کے دشمن بن گئے۔

مگر یاد رکھیئے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ سینکڑوں گھروں سے بددعائیں طاقتوروں کا زوال ضرور شروع کرینگی۔ اور ایسا دن بہت قریب ہے۔ جب ان سینکڑوں مقامی اخباری کارکنوں کی طرح طاقت ور اپنے ان گھروں کا رخ کرینگے۔ جہاں انہیں سیلوٹ کرنے والا کوئی نہیں ھوگا۔

صحافت کے نام پر کیمروں کے سامنے اداکاری کرنے والے یاد رکھیں، کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا دور عروج پر پہنچ چکا ہے۔ اے آئی نے ناممکن کو بھی ممکن بنادیا ہے۔لہذا میڈیا اداروں کو بھی جم غفیر کی ضرورت نہیں رہیگی۔ اور ان کو بھی یہ دن دیکھنا پڑے گا۔

ان نام نہاد ایم پی ایز کو بھی مبارک ھو۔ جنھوں نے لوکل میڈیا ایکشن کمیٹی کو صرف اسرے دئیے۔ اور متنازعہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کو روکنے کیلئے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ کیونکہ اخبارات کو سالانہ ملنے والا فنڈ ان کے ترقیاتی کاموں میں 25 فیصد کمیشن کو متاثر کررہا تھا۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *