Banner
Daily Sahafat Quetta
August 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کیا محکمہ جنگلات بلوچستان میں واقعی تبدیلی آ گئی؟سید غضنفر عباس کی برسی، قومی خدمات کو خراجِ عقیدتسکھر ریلوے تھانے کے چھوٹے منشی کے خلاف شکایات، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہسریاب نادرا سینٹر کی سیکنڈ شفٹ بند کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مولانا محمد طاہر توحیدیجانوری برادری نے شیر افضل عرف وقار جانوری کو سرداری پگ کے لیے حمایت دے دیمحمد جنید مشتاق بھٹی نائب صدر مسلم لیگ لیبرونگ لاہور مقرر،نوٹیفکیش جاریغیر جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، مولانا عبدالرحمن رفیقاقبال کی فکر میں انسانی آزادی، انصاف اور خودی بنیادی اصول ہیں، ڈاکٹر محمد عارف خانسورینج: 34 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع دلخراش سانحہ ہے، کاشف حیدریمیڈیا ورکرز کے مسائل کا حل حکومت کی زمہ داری ہے، بی ایم ایفکیا محکمہ جنگلات بلوچستان میں واقعی تبدیلی آ گئی؟سید غضنفر عباس کی برسی، قومی خدمات کو خراجِ عقیدتسکھر ریلوے تھانے کے چھوٹے منشی کے خلاف شکایات، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہسریاب نادرا سینٹر کی سیکنڈ شفٹ بند کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مولانا محمد طاہر توحیدیجانوری برادری نے شیر افضل عرف وقار جانوری کو سرداری پگ کے لیے حمایت دے دیمحمد جنید مشتاق بھٹی نائب صدر مسلم لیگ لیبرونگ لاہور مقرر،نوٹیفکیش جاریغیر جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، مولانا عبدالرحمن رفیقاقبال کی فکر میں انسانی آزادی، انصاف اور خودی بنیادی اصول ہیں، ڈاکٹر محمد عارف خانسورینج: 34 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع دلخراش سانحہ ہے، کاشف حیدریمیڈیا ورکرز کے مسائل کا حل حکومت کی زمہ داری ہے، بی ایم ایف

ہمارا مقصد لوگوں کو انصاف دلانا اور کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے،بلوچستان ہائیکورٹ


چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران ملا خیل نے کہا ہے کہ عوام کو انصاف کی فراہمی اور وکلاءکی سہولت کے لئے ضلع اور تحصیل کی سطح پر بار رومز کو زوم لنک سے منسلک کررہے ہیں ہمارا کام لوگوں کو انصاف دلانا اور کرپشن کو ختم کرنا ہے۔ انصاف صرف جج ہی نہیں بلکہ ہم سب نے انصاف کی فراہمی کے لئے کام کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز کوئٹہ بار ایسوسی کی جانب سے ضلعی کچہری میں ان کے اعزاز دی گئی پارٹی کے شرکاءسے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ہائیکورٹ کے ججز جسٹس محمد اقبال کاسی، جسٹس عامر رانا ،کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اورنگزیب کاکڑ ایڈووکیٹ ، ،قاری رحمت اللہ ایڈووکیٹ ، راحب بلیدی ایڈووکیٹ، غنی خلجی ایڈووکیٹ، سلیم لاشاری ، عبداللہ خان کاکڑ نصیب اللہ ترین سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس کامران خان ملاخیل نے کہا کہ مجھے امید تھی کہ آج وکلاءپروفیشنل مطالبات پر بات کریں گے بلوچستان میں مشروم کی طرح لاءکالجز بن رہے ہیں لیکن معیار پر کوئی توجہ نہیں دے رہا معیار کو بھی بہتر بنائیں تاکہ لوگوں کی صحیح تربیت اور تعلیم کا حصول مکمل ہوسکے۔ جو لوگ سرکاری ملازمت کے باوجود وکالت کررہے ہیں،اس پر کیوں بات نہیں کرتے بغیر لائسنس کے وکیل عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں، وکلاءاس پر کیوں بات نہیں کی جاتی دنیا میں ہم تعلیم میں پیچھے ہیں آپ نے تعلیم کی بہتری کی بات کیوں نہیں کی ہے میری زندگی کا قیمتی وقت کچہری اور ان احاطے میں گزرا ہے میں نے سب سے کم عمری 24 سال کی عمر میں وکالت شروع کی ہے کوئی پروفیشن اور پروفیشنلیزم پر بھی بات کرے ہم نے وکلاءکے لئے اسکالر شپ پروگرام شروع کیا اچھی بات ہے لاءکالجز کا بڑھتا رجحان تو اچھی بات ہے لیکن کیا معیار بھی بہتر ہوا ہے یا نہیں، اگر نہیں تو ہم تنزلی کی طرف جارہے ہیںبلوچستان بھر میں جوڈیشل کمپلکس میں سولرائزیشن کا کام شروع کیا ہے بلوچستان کے 18 اضلاع میں سیشن کورٹس میں سولر پینلز کی تنصیب بھی ہوگئی ہے ہائی کورٹ کے تمام کمروں میں زوم لنکز سے منسلک کررہے ہیںاگلے مرحلے میں ضلع اور تحصیل سطح پر بار رومز کو زوم لنک سے منسلک کریں گے ہمارا کام لوگوں کو انصاف دلانا ہے اور کرپشن کو ختم کرنا ہے بار کے تمام مطالبات منظور کرتا ہوں لیکن وکلاءپروفیشنل بات بھی کریں ہم نے اپنے معیار کو کیسے بہتر کرنا ہے اس بارے میں ہمیں سوچنا ہے جو وکلا اپنے کلائنٹ کو دھوکہ دیتے ہیں تو وہ اپنے پروفیشنل کے ساتھ ایمانداری نہیں کررہے انصاف صرف جج نے نہیں کرنا ہے ، سب نے اپنے شعبے اور اپنی زندگی میں انصاف کرنا ہے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *