Banner
Daily Sahafat Quetta
August 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سید غضنفر عباس کی برسی، قومی خدمات کو خراجِ عقیدتسکھر ریلوے تھانے کے چھوٹے منشی کے خلاف شکایات، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہسریاب نادرا سینٹر کی سیکنڈ شفٹ بند کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مولانا محمد طاہر توحیدیجانوری برادری نے شیر افضل عرف وقار جانوری کو سرداری پگ کے لیے حمایت دے دیمحمد جنید مشتاق بھٹی نائب صدر مسلم لیگ لیبرونگ لاہور مقرر،نوٹیفکیش جاریغیر جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، مولانا عبدالرحمن رفیقاقبال کی فکر میں انسانی آزادی، انصاف اور خودی بنیادی اصول ہیں، ڈاکٹر محمد عارف خانسورینج: 34 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع دلخراش سانحہ ہے، کاشف حیدریمیڈیا ورکرز کے مسائل کا حل حکومت کی زمہ داری ہے، بی ایم ایفمنزلِ مقصود، علم، عمل اور انسانیت کا سفر۔۔۔سید غضنفر عباس کی برسی، قومی خدمات کو خراجِ عقیدتسکھر ریلوے تھانے کے چھوٹے منشی کے خلاف شکایات، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہسریاب نادرا سینٹر کی سیکنڈ شفٹ بند کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مولانا محمد طاہر توحیدیجانوری برادری نے شیر افضل عرف وقار جانوری کو سرداری پگ کے لیے حمایت دے دیمحمد جنید مشتاق بھٹی نائب صدر مسلم لیگ لیبرونگ لاہور مقرر،نوٹیفکیش جاریغیر جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، مولانا عبدالرحمن رفیقاقبال کی فکر میں انسانی آزادی، انصاف اور خودی بنیادی اصول ہیں، ڈاکٹر محمد عارف خانسورینج: 34 قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع دلخراش سانحہ ہے، کاشف حیدریمیڈیا ورکرز کے مسائل کا حل حکومت کی زمہ داری ہے، بی ایم ایفمنزلِ مقصود، علم، عمل اور انسانیت کا سفر۔۔۔

دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کےلیے نئی اسکیم تیار، آسان ٹیکس شرح متعارف کرانے کی تجویز

ایف بی آر نے دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کے لیے نئی اسکیم تیار کرلی ہے، جس کا باضابطہ اعلان وفاقی بجٹ 2026-27 میں متوقع ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ اسکیم پر مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری ہے، جس کے تحت 2 کروڑ روپے تک سالانہ کاروبار کرنے والے تاجر اسکیم کے اہل ہوں گے، جبکہ کم از کم 3 سال سے کاروبار کرنے والے افراد بھی اس میں شامل ہو سکیں گے۔

رجسٹریشن آئیرس پورٹل، موبائل ایپ یا ٹیکس سہولت کاروں کے ذریعے ممکن ہوگی، اور اسکیم میں شمولیت رضاکارانہ ہوگی تاہم درست مالی ریکارڈ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اہل تاجروں کے لیے نسبتاً کم اور آسان ٹیکس شرح متعارف کرانے کی تجویز ہے، جبکہ مقررہ حد سے زائد آمدن پر ہی ٹیکس واجب الادا ہوگا۔ اسکیم میں شامل افراد کو عمومی طور پر آڈٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، تاہم غیر معمولی مالی سرگرمیوں یا آمدن میں تضاد کی صورت میں آڈٹ کیا جا سکے گا۔

تاجروں کو فروخت، خریداری اور اخراجات کا سادہ ریکارڈ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ بعض چھوٹے کاروباروں کو پی او ایس اور ڈیجیٹل انٹیگریشن سے استثنا ملنے کا امکان ہے۔

فعال ٹیکس دہندگان کو اے ٹی ایل، کم ودہولڈنگ ٹیکس اور بہتر مالی ساکھ جیسے فوائد حاصل ہوں گے، تاہم قواعد کی خلاف ورزی، آمدنی چھپانے یا ریٹرن جمع نہ کرانے پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

اسکیم کا مقصد معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دینا اور رضاکارانہ ٹیکس ادائیگی کو بڑھانا ہے، جبکہ بینک لین دین کا ظاہر کردہ آمدن اور کاروباری سرگرمیوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہوگا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *