Banner

بلوچ اور پشتون صدیوں سے بھائی بھائی ہیں، تفریق کی سیاست قبول نہیں کریں گے: سردار منظور احمد خان کاکڑ

Share

Share This Post

or copy the link


سردار منظور احمد خان کاکڑ صدر آل کاکڑ قبائل فیڈریشن سیکرٹری جنرل بلوچستان یوتھ فرنٹ ممتاز قبائلی سیاسی و سماجی رہنما سندھ بلوچستان نے گزشتہ دنوں چمن میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور نواب ایاز جوگیزئی کی تقاریر پر تنقید کرتے ہوئے کہا وہ کم فہمی کا مظاہرہ نہ کریں بلوچوں اور پشتونوں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش نہ کی جائے بلوچ پشتون صدیوں سے یہاں ابادہیں اور اٹوٹ رشتوں میں منسلک ہیں ماضی میں بلوچوں اور پشتونوں نے متحد ہو کر مشترکہ طور پر بیرونی حملہ اوروں کے خلاف جنگیں لڑی ہیں بلوچوں کو جب بھی ضرورت پڑی پشتونوں نے شانہ بشانہ ان کا ساتھ دیا ان کی اپس میں رشتہ داریاں اور دوستیاں مثالی ہیں اس حوالے سے ان کو کبھی تقسیم نہیں کیا جا سکتا بلوچ اپنی سرزمین پر ابادہیں جب کہ پشتون اپنی سرزمین پر جہاں تک کاکڑقوم کا تعلق ہے کاکڑ قوم کی اکثریت ان نام نہاد لیڈروں سے بیزار ہو چکی ہے سردار منظور احمد خان کاکڑ نے کہا محمود خان اچکزئی جو اپنے اپ کو پشتونوں کا رہبر کہلواتے ہیں اس وقت اپوزیشن لیڈر کی سیٹ پر برا جمان ہیں ان کا اپنا علاقہ اج تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہے محمود خان اچکزئی اور ان کے خوش خویش و اقارب نے اقتدار کے خوب مزے اڑائے لیکن ان کے علاقے میں نہ کوئی ہسپتال ہے نہ کوئی پکی سڑک نہ ہی کوئی کالج ان کا گاؤں پتھر کے زمانے کا منظر پیش کرتا ہے انہوں نے بلوچستان و چمن اور اس کے گرد و نوا ح میں کسی قسم کا کوئی تعمیری کام نہیں کروایا ان کے حلقے کے عوام آج تک بنیادی سہولتوں سے محروم چلے ا رہے ہیں محمود خان اچکزئی کے کریڈٹ پر کوئی پروجیکٹ نہیں ہے جو قابل ذکر ہو یہ کیا عوام کی نمائندگی کریں گے اسی طرح قلعہ سیف اللہ سے تعلق رکھنے والے نواب ایاز جوگیزئی نے بھی علاقے کی تعمیر و ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کیا یہ دونوں لیڈر ڈرائنگ روم کی سیاست اور مراعات یافتہ لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کے الہ کار بنے ہوئے ہیں سردار منظور احمد خان کاکڑ نے انہیں تنبیہ کرتے ہوئے کہا وہ بلوچستان پشتون اور بلوچوں کے بارے میں اپنے نظریات ہم پر مسلط نہ کریں اج بلوچ پشتون با شعور ہیں وہ اپنے بہتر اور غلط کا فیصلہ خود بہتر طور پر کر سکتے ہیں سردار منظور احمد خان کاکڑ نے ماضی کی ایک مثال دیتے ہوئے کہا ہندوستان میں ہندوؤں کے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھانے اور ایک خاتون کی فریاد پر مشترکہ طور پر افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی اور خان اف قلات میر نصیر خان نوری نے مل کر پانی پت کی جنگ میں مرہٹوں اور راجپوتوں کو عبرت ناک شکست دے کر مسلمانوں کو ہندوؤں کے ظلم و ستم سے بچایا اور ساڑھے چار لاکھ سے زائد راجپوتوں اور مرہٹوں کو جہنم واصل کیا اور دہلی کے تخت پر براجمان ہوئے بعد ازاں انہوں نے دلی کا تخت مغلوں کے حوالے کیا اور اپنے وطن کو لوٹ ائے اور مرہٹوں کو جنگی قیدی بنا کر بلوچستان لایا گیا تھا جب کہ دوسری طرف خان معظم خان اف قلات میر احمد یار خان نے بلوچستان میں بسنے والے تمام لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لیےایک بہترین فارمولا پیش کیا تھا جس کے تحت 50 فیصد بلوچ 45 فیصد پشتون اور پانچ فیصد اباد کاروں کی نمائندگی کو یقینی بنایا گیا تھا سردار منظور احمد خان کاکڑ نے کہا بلوچستان کی تقسیم و تفریق کے عمل کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور اس کی ہر فورم پر مخالفت کی جائے گی ۔

بلوچ اور پشتون صدیوں سے بھائی بھائی ہیں، تفریق کی سیاست قبول نہیں کریں گے: سردار منظور احمد خان کاکڑ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us