Banner
Share

Share This Post

or copy the link

ایران امریکہ کشیدگی میں پاکستان کا کردار: مئی

2026
تاریخی تناظر
1. جغرافیائی حقیقت: پاکستان ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے۔ بلوچستان کے راستے دونوں ملک زمینی طور پر جڑے ہیں۔ اس لیے خطے میں کوئی بھی کشیدگی براہ راست پاکستان پر اثر انداز ہوتی ہے۔
2. ماضی کی پالیسی: پاکستان نے 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد بھی ایران سے تعلقات برقرار رکھے۔ ایران پاکستان معاہدہ 1950 دونوں کا پہلا بین الاقوامی معاہدہ تھا۔ لیکن ساتھ ہی پاکستان امریکہ کا دیرینہ اتحادی بھی رہا ہے، خصوصاً سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں۔
3. فرقہ وارانہ توازن: پاکستان میں سنی اکثریت ہے مگر 20 فیصد شیعہ آبادی بھی موجود ہے۔ اس لیے پاکستان ہمیشہ ایران-سعودی کشیدگی میں غیرجانبدار رہنے کی کوشش کرتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں پاکستان کا کردار – مئی 2026 شکیل گوندل۔
1. سفارتی توازن کی پالیسی: پاکستان کی سرکاری پالیسی “تنازع کا حصہ نہ بنو، حل کا حصہ بنو” ہے۔ وزیراعظم دفتر اور دفتر خارجہ بارہا واضح کر چکے ہیں کہ پاکستان ایران کے خلاف کسی امریکی یا اسرائیلی عسکری کارروائی کے لیے اپنی سرزمین، فضائی حدود یا اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ساتھ ہی پاکستان ایران کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کی بھی مخالفت کرتا ہے۔
2. ثالثی کی کوششیں: جنوری 2024 میں ایران اور پاکستان کے درمیان سرحدی کشیدگی ہوئی جب دونوں نے ایک دوسرے کی سرزمین پر “دہشت گرد ٹھکانوں” کو نشانہ بنایا۔ مگر 48 گھنٹے میں معاملات سفارتکاری سے حل کر لیے گئے۔ اس کے بعد سے پاکستان مسلسل ایران اور سعودی عرب، ایران اور امریکہ کے درمیان بیک چینل رابطوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ چین-سعودی-ایران معاہدے کے بعد پاکستان کا کردار مزید اہم ہو گیا ہے۔
3. معاشی مفادات:
– گیس پائپ لائن: ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے 2014 سے تعطل کا شکار ہے۔ مارچ 2024 میں پاکستان کی نگراں حکومت نے ایرانی سرحد تک 80 کلومیٹر پائپ لائن بچھانے کی منظوری دی تاکہ ایران کے 18 ارب ڈالر جرمانے سے بچا جا سکے۔ امریکہ نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
– سرحدی تجارت: بلوچستان میں مند-پیشین اور گبد-ریمدان بارڈر مارکیٹیں کھولی گئی ہیں۔ ایران سے بجلی اور LPG کی درآمد جاری ہے۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ پابندیاں مزید سخت ہوں کیونکہ اس سے بلوچستان کی معیشت متاثر ہو گی۔
4. سکیورٹی خدشات:
– بلوچ عسکریت پسندی: ایران کا الزام ہے کہ جیش العدل پاکستان سے کارروائی کرتا ہے۔ پاکستان کا الزام ہے کہ کالعدم BLA اور BLF ایران میں پناہ لیتے ہیں۔ جنوری 2024 کے واقعے کے بعد دونوں نے مشترکہ انسداد دہشت گردی تعاون کا اعلان کیا۔
– فرقہ وارانہ کشیدگی: اگر ایران-اسرائیل جنگ چھڑتی ہے تو پاکستان میں فرقہ وارانہ واقعات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے حکومت کا زور ڈائیلاگ پر ہے۔
5. امریکہ سے تعلقات کا دباؤ: پاکستان IMF پروگرام، F-16 کی دیکھ بھال، اور عسکری امداد کے لیے امریکہ کا محتاج ہے۔ امریکہ چاہتا ہے پاکستان ایران پر دباؤ ڈالے۔ مگر پاکستان کا موقف ہے کہ وہ کسی بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔ CPEC اور روس سے تیل کی خریداری کے بعد پاکستان کی خارجہ پالیسی میں “مشرق کی طرف جھکاؤ” بھی آیا ہے۔
6. افغانستان فیکٹر: افغانستان میں TTP کی موجودگی اور ایران میں 30 لاکھ افغان مہاجرین کا معاملہ بھی جڑا ہوا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ ایران-امریکہ کشیدگی سے افغان سرحد غیر مستحکم نہ ہو۔

پاکستان کے بنیادی مفادات
1. جنگ سے بچنا: ایران سے جنگ کی صورت میں 30 لاکھ مہاجرین، تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر، اور بلوچستان میں عدم استحکام کا خطرہ ہے۔
2. توانائی کا حصول: ایران سے سستی گیس اور بجلی پاکستان کی اشد ضرورت ہے۔
3. غیرجانبداری: سعودی عرب، UAE، امریکہ اور چین سب سے تعلقات برقرار رکھنا۔ کسی ایک کیمپ میں جا کر دوسرے کو ناراض نہ کرنا۔
4. پاکستان کا کردار مئی 2026 میں ایک “توازن ساز ریاست” کا ہے۔ وہ نہ ایران کو ناراض کرنا چاہتا ہے نہ امریکہ کو۔ اس کی کوشش ہے کہ سفارتکاری، سرحدی تجارت اور انسداد دہشت گردی تعاون کے ذریعے جنگ کو ٹالا جائے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کا اصولی موقف ہے کہ ایران کا جوہری مسئلہ بات چیت سے حل ہو، مشرق وسطیٰ میں اسلحے کی دوڑ نہ لگے، اور پاکستان کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us