Banner
Daily Sahafat Quetta
September 23, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، محمد علی جمالیمہنگائی اور بے روزگاری عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے، مولانا قاری مہراللہامن و امان اور جرائم کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، محمد علی جمالیجرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش قانون کی گرفت میں، 4 ملزمان گرفتارسید عابد بخآری کی وفات سے صحافت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ، شیخ فریدN-25 اور N-50 پر مسافروں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکمچیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کا بس اڈے کا تفصیلی دورہ، ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکمبلوچستان محکمہ جیل کے ذمے کیسکو کے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے واجب الادابلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی کارروائی اسمگلنگ ناکام بنادیاپشتون کلچر ڈے امن، محبت، رواداری اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت اظہار ہے، بشری رندقانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی، محمد علی جمالیمہنگائی اور بے روزگاری عوام کیلئے عذاب بن چکی ہے، مولانا قاری مہراللہامن و امان اور جرائم کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، محمد علی جمالیجرائم پیشہ عناصر اور منشیات فروش قانون کی گرفت میں، 4 ملزمان گرفتارسید عابد بخآری کی وفات سے صحافت کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے ، شیخ فریدN-25 اور N-50 پر مسافروں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کا حکمچیئرمین میونسپل کمیٹی فیاض محمود شیخ کا بس اڈے کا تفصیلی دورہ، ناجائز تجاوزات کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا حکمبلوچستان محکمہ جیل کے ذمے کیسکو کے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے واجب الادابلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی کارروائی اسمگلنگ ناکام بنادیاپشتون کلچر ڈے امن، محبت، رواداری اور ثقافتی ورثے کا خوبصورت اظہار ہے، بشری رند

25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کے لیے فیس اور لائسنس شرط ختم کرنے سے متعلق اہم پیشرفت

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کی ہدایت پر پاور ڈویژن نے نیپرا سے 25 کلو واٹ سے کم سولر صارفین کے لیے فیس اور لائسنس کی شرط ختم کرنے کے لیے باضابطہ نظرثانی کی درخواست کر دی ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق 2015 کے ضوابط کے تحت 25 کلو واٹ یا اس سے کم صلاحیت کے سولر سسٹمز کے لیے نیپرا لائسنس درکار نہیں تھا اور درخواستیں تقسیم کار کمپنیوں کے ذریعے بغیر کسی فیس کے پراسیس کی جاتی تھیں۔ تاہم نئے پروزیومر ریگولیشنز کے تحت چھوٹے صارفین کے لیے بھی منظوری کا اختیار نیپرا کو دے دیا گیا اور درخواست فیس عائد کر دی گئی۔

ادارے کا مؤقف ہے کہ اس تبدیلی سے گھریلو صارفین کے لیے غیر ضروری بیوروکریٹک رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں، جس سے قابل تجدید توانائی کے فروغ کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

پاور ڈویژن نے نیپرا سے مطالبہ کیا ہے کہ 25 کلو واٹ یا اس سے کم کے سولر سسٹمز کے لیے پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے تاکہ صارفین کو سہولت فراہم ہو اور صاف توانائی کے استعمال کو فروغ مل سکے۔

دوسری جانب پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چھوٹے سولر نظاموں کے لیے سابقہ منظوری نظام برقرار رکھنے کی حمایت کی ہے۔

عوامی سماعت کے دوران پاکستان سولر ایسوسی ایشن، پاکستان آلٹرنیٹو انرجی ایسوسی ایشن اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی ان تبدیلیوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں سے اختیارات واپس لینے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *