Banner

نوجوان معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کےلئے علم کو ہتھیار بنائیں،احمد خان اچکزئی

Share

Share This Post

or copy the link

کراچی( اے کے میڈیاءرپورٹ)کراچی کے مختصر مگر جامع دورے کے دوران غبیزئی قوم کے سربراہ اور ممتاز قبائلی شخصیت احمد خان اچکزئی نے کثیر الجہتی مصروفیات کے ذریعے سماجی روابط اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ انہوں نے شہر کی معروف کاروباری شخصیت اور اپنے دیرینہ رفیق حاجی ریاض داوی (حاجی رئیز) کی رہائش گاہ پر جا کر ان کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناو¿ں کا اظہار کیا، اس موقع پر نورزئی قوم کے معتبر رہنمائ حاجی ملک جان نورزئی بھی ان کے ہمراہ تھے جو قبائلی اتحاد کی ایک روشن مثال ہے۔ احمد خان اچکزئی نے دکھ کی اس گھڑی میں عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سید حاجی حنیف آغا سے ان کے والد کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی بھی کی، جہاں انہوں نے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کے اعلیٰ جذبے کا مظاہرہ کیادورے کا ایک اہم ترین پہلو حاجی عبدالمنان اچکزئی کی جانب سے منعقدہ پروقار اور پرتپاک تقریب تھی جس میں صدر اور گردونواح کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں نوجوانوں نے جوش و خروش سے شرکت کی۔ اس تقریب میں غبیزئی قوم کے عمائدین سمیت اقبال کاکڑ، فراز خان، نذیر بازئی، محمد اکرام، وزیر خان اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں جنہوں نے احمد خان اچکزئی کا والہانہ استقبال کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشتون بیلٹ کا روشن ستارہ عالمی مشاہد اور(دی گریٹ گیم کا خاتمہ)جیسے عالمی تاریخی وسیاسی تصنیف کے مصنف اور غبیزئی قوم کے سربراہ احمدخان اچکزئی نے امن، بھائی چارے، باہمی اتفاق، جدید تعلیم کے حصول اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر ایک جامع اور فکر انگیز گفتگو کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے علم کو اپنا ہتھیار بنائیں اور نفرتوں کے بجائے محبت اور رواداری کو فروغ دے کر قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔احمد خان اچکزئی کی ان تمام سرگرمیوں کا مقصد کراچی میں آباد مختلف اقوام کے درمیان باہمی اعتماد کی بحالی اور مشترکہ مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیاءکرنا تھا۔ ان کی جانب سے بیمار دوستوں کی عیادت، سوگوار خاندانوں سے تعزیت اور نوجوانوں کی فکری تربیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ قبائلی روایات کے امین ہونے کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قوموں کی بقاءصرف اتحاد اور تعلیمی پسماندگی کے خاتمے میں مضمر ہے، لہٰذا تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ گروہی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانیت کی فلاح کے لیے کام کریں۔ ان کی اس آمد نے جہاں قبائلی عمائدین کے حوصلے بلند کیے، وہاں نوجوانوں میں بھی ایک نئی روح پھونکی جو آنے والے وقت میں ایک مستحکم اور پرامن معاشرے کی تشکیل میں کلیدی ثابت ہوگی

نوجوان معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کےلئے علم کو ہتھیار بنائیں،احمد خان اچکزئی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us