Banner

چوہدری شوگر مل کیس؛ نیب نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا

featured
Share

Share This Post

or copy the link

نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو وفاقی آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل کے ذریعے دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا 4 فروری 2026 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ نیب کے مؤقف کے مطابق، اگر کیس انکوائری کے مرحلے پر واپس لیا جائے تو احتساب عدالت کے پاس کوئی جوڈیشل اختیار نہیں، اور جب قانون میں عدالتی منظوری کا تقاضا نہ ہو تو عدالت اسے شامل نہیں کر سکتی۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے اٹارنی جنرل کے دفتر کو نوٹس جاری کیے بغیر ازخود فیصلہ جاری کیا، جبکہ مقدمہ واپس لینے کی منظوری چیئرمین نیب نے دے دی تھی، اس لیے عدالت کو قانون کی تشریح کا اختیار نہیں تھا۔

واضح رہے کہ چوہدری شوگر ملز کے خلاف انکوائری 14 نومبر 2018 کو شروع کی گئی تھی۔ اس دوران مریم نواز کو 8 اگست 2019 کو گرفتار کر کے 48 دن کے جسمانی ریمانڈ پر بھیجا گیا۔ 31 اکتوبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت منظور کی، جس کے خلاف نیب نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا، اور درخواست واپس لینے کی بنیاد پر 22 اگست 2023 کو خارج کر دی گئی۔

بعد ازاں، نیب کے انویسٹی گیشن افسر نے کیس کو کرپشن یا کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں نہ آنے کی رائے دی، جس پر 3 اپریل 2024 کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے سیکشن 31 بی ون کے تحت کارروائی واپس لے لی۔

کارروائی ختم ہونے کے بعد مریم نواز نے لاہور ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی، جس میں 7 کروڑ روپے کی واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ کیس احتساب عدالت کی منظوری کے بغیر بند نہیں ہو سکتا اور عدالت کو ایک ماہ میں اس پر فیصلہ کرنا ہوگا۔

چوہدری شوگر مل کیس؛ نیب نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کر دیا

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us