Banner
Daily Sahafat Quetta
August 8, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
لسبیلہ: واٹر سپلائی اسکیم کے تحت کروڑوں روپے کا ٹینڈر جاریحب کو پانی کا کم کوٹہ ملنے سے بحران سنگین ہونے کا خدشہدبستان بولان ، محفلِ مسالمہ روایت کا آئینہ دار ہےچودہ اگست: آزادی، اتحاد اور تعمیرِ وطن کا عہد“شناختِ کشمیر”مکہ معاہدہ امن، سلامتی اور مشترکہ دفاعی تعاون کا اہم سنگِ میل ہے، سرفراز بگٹیجھل مگسی: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، مسجد کا پیش امام قتلگنداواہ: بی ایس ڈی آئی کے تحت پی ایچ ای کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ شفاف انداز میں مکملاکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہحب: جماعت اسلامی کا مہنگائی اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج، قومی شاہراہ بند، ٹریفک معطللسبیلہ: واٹر سپلائی اسکیم کے تحت کروڑوں روپے کا ٹینڈر جاریحب کو پانی کا کم کوٹہ ملنے سے بحران سنگین ہونے کا خدشہدبستان بولان ، محفلِ مسالمہ روایت کا آئینہ دار ہےچودہ اگست: آزادی، اتحاد اور تعمیرِ وطن کا عہد“شناختِ کشمیر”مکہ معاہدہ امن، سلامتی اور مشترکہ دفاعی تعاون کا اہم سنگِ میل ہے، سرفراز بگٹیجھل مگسی: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، مسجد کا پیش امام قتلگنداواہ: بی ایس ڈی آئی کے تحت پی ایچ ای کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ شفاف انداز میں مکملاکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہحب: جماعت اسلامی کا مہنگائی اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج، قومی شاہراہ بند، ٹریفک معطل

جب سچ بولنا جرم بن جائے

محمدنسیم رنزوریار

جب سچ بولنا جرم بن جائے

قارئین کرام۔جب کسی معاشرے، شہر، گاؤں، ملک یا کسی جماعت میں سچ بولنا جرم بن جائے اور حق گوئی پر پہرے بٹھا دیے جائیں، تو وہ معاشرہ اپنی تباہی کے پہلے زینے پر قدم رکھ دیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اجتماعی سطح پر جھوٹ کو مصلحت کا نام دے کر قبول کیا گیا اور سچ کو فتنہ قرار دیا گیا، وہاں فکری بانجھ پن اور اخلاقی دیوالیہ پن نے جنم لیا۔ جب سچ بولنا جرم ٹھہرتا ہے تو سب سے پہلے عدل و انصاف کا جنازہ نکلتا ہے، کیونکہ منصف سچی گواہی سے محروم ہو جاتے ہیں اور طاقتور اپنے ظلم کو قانون کا لبادہ اوڑھانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ ایسے حبس زدہ ماحول میں منافقت کی فصل پروان چڑھتی ہے اور وہ لوگ قیادت کے منصب پر فائز ہو جاتے ہیں جو زبان کے لذیذ اور دل کے سیاہ ہوتے ہیں۔ ایک گاؤں یا چھوٹے قبیلے کی سطح پر دیکھیں تو سچ کی ممانعت آپس کے بھروسے کو ختم کر دیتی ہے، جس سے سماجی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور مخلص لوگ گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں۔ کسی ملک یا سیاسی جماعت کے تناظر میں یہ صورتحال مزید ہولناک ہوتی ہے، جہاں اختلافِ رائے کو غداری اور حقیقت پسندی کو سرکشی سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ غلطیوں کی اصلاح کا راستہ بند ہو جاتا ہے؛ حکمران یا لیڈر اپنی ہی بنائی ہوئی مصنوعی جنت میں مگن رہتے ہیں جبکہ عوام پس رہے ہوتے ہیں۔ تاریخی طور پر دیکھیں تو سقراط سے لے کر منصور حلاج تک، سچ کی پاداش میں دی جانے والی سزاؤں نے ثابت کیا کہ آواز دبانے سے حقیقت نہیں بدلتی، بلکہ معاشرہ ایک ایسی گھٹن کا شکار ہو جاتا ہے جو آخر کار کسی بڑے سماجی دھماکے یا مکمل زوال پر ختم ہوتی ہے۔ جب سچ بولنا گناہ بن جائے تو تخلیقی صلاحیتیں دم توڑ دیتی ہیں، کیونکہ فن، ادب اور سائنس آزادیِ اظہار کے بغیر سانس نہیں لے سکتے۔ ایسی بستیوں میں علم کی جگہ جہالت اور دلیل کی جگہ خوف لے لیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ قوم عالمی دوڑ میں پیچھے رہ کر تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جاتی ہے۔ سچائی کا جرم بننا دراصل ضمیر کی موت کا اعلان ہے، اور جس قوم کا ضمیر مر جائے، اسے پھر کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی، وہ اپنی ہی منافقت کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ دیتی ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *