Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مچھ: سول ہسپتال میں طبی سہولیات کی کمی، شہریوں کا ایمرجنسی سروسز بہتر بنانے کا مطالبہچاغی: نامعلوم مسلح افراد نے مال بردار بس عملے سمیت اغوا کر لی، تحقیقات جاریکوئٹہ: ہسپتالوں میں بغیر اجازت رپورٹنگ اور فوٹوگرافی پر پابندیتحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقفاستا محمد پریس کلب کا پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں کی خبروں کے بائیکاٹ کا اعلانتیسری جنس، آخر قصور کس کا ہےذیکاس سکول سسٹم اور ہولیسٹک فوسٹر کیئر فاؤنڈیشن کا تعلیم و سماجی خدمت کے فروغ کے لیے اشتراک پر اتفاقتھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمیکشور کمار کا تاریخی بنگلہ کس کے نام؟ ویرات کوہلی سے متعلق بڑا دعویٰ جھوٹا نکلابلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاکمچھ: سول ہسپتال میں طبی سہولیات کی کمی، شہریوں کا ایمرجنسی سروسز بہتر بنانے کا مطالبہچاغی: نامعلوم مسلح افراد نے مال بردار بس عملے سمیت اغوا کر لی، تحقیقات جاریکوئٹہ: ہسپتالوں میں بغیر اجازت رپورٹنگ اور فوٹوگرافی پر پابندیتحریک انصاف کو مذاکرات کی کوئی دعوت نہیں دی، ایاز صادق کا مؤقفاستا محمد پریس کلب کا پیپلز پارٹی کے دو رہنماؤں کی خبروں کے بائیکاٹ کا اعلانتیسری جنس، آخر قصور کس کا ہےذیکاس سکول سسٹم اور ہولیسٹک فوسٹر کیئر فاؤنڈیشن کا تعلیم و سماجی خدمت کے فروغ کے لیے اشتراک پر اتفاقتھائی لینڈ میں سکول میں فائرنگ سے 9 افراد ہلاک، 15 زخمیکشور کمار کا تاریخی بنگلہ کس کے نام؟ ویرات کوہلی سے متعلق بڑا دعویٰ جھوٹا نکلابلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاک

تیسری جنس، آخر قصور کس کا ہے

تحریر- رباب طالب سماجی ورکر

کبھی کبھی زندگی ہمیں ایسے لوگوں سے ملواتی ہے جو ہماری سوچ، ہمارے نظریات اور ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ میری زندگی میں بھی ایک ایسا لمحہ آیا جب میری ملاقات تیسری جنس سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت، بلبل، سے ہوئی۔ اس ملاقات نے مجھے احساس دلایا کہ ظلم صرف جسم پر نہیں ہوتا، بعض اوقات روح پر بھی ایسے زخم لگتے ہیں جو عمر بھر نہیں بھرتے۔میں آج بھی خود سے ایک سوال کرتی ہوں کہ آخر ایک ایسا انسان، جس کا اپنی پیدائش، اپنی جنس اور اپنی شناخت پر کوئی اختیار ہی نہیں، وہ کس جرم کی سزا کاٹ رہا ہے؟ اس نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے جس کی وجہ میں اسے اپنے ہی گھر کی محبت، والدین کی شفقت، بہن بھائیوں کی قربت، رشتہ داروں کی اپنائیت، معاشرے کی عزت اور روزگار کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اللہ سب کا خالق ہے، پھر ہم اس کی تخلیق میں فرق کیوں کرتے ہیں؟ ہم کس اختیار سے کسی انسان کی عزت، اس کی پہچان اور اس کے جینے کے حق کا فیصلہ کرتے ہیں؟ آخر کیوں ہم خود کو انسانوں کا منصف سمجھ بیٹھے ہیں۔بلبل سے ملاقات کے دوران اُس کی آنکھوں میں برسوں کی محرومیاں نظر آ رہی تھیں۔ اُس کے چہرے پر ایک خاموش اداسی تھی، مگر اُس کے لہجے میں نہ شکوہ تھا، نہ نفرت۔ وہ بڑی محبت سے بات کرتی تھی، ہر ایک کو عزت دیتی تھی اور جہاں ضرورت پڑتی، بے لوث ہو کر دوسروں کی مدد کرتی تھی۔ اُس کی صفائی پسندی، خودداری اور اعلیٰ ظرفی نے مجھے یہ احساس دلایا کہ انسان کی عظمت اس کی جنس سے نہیں بلکہ اس کے کردار سے پہچانی جاتی ہے۔مجھے اس دن احساس ہوا کہ شاید قصور بلبل کا نہیں، قصور ہمارا ہے۔ قصور اس معاشرے کا ہے جس نے ایک معصوم انسان کو بار بار یہ احساس دلایا کہ وہ دوسروں سے مختلف ہے، کم تر ہے، اور محبت و احترام کا حق دار نہیں۔ یہی رویے کسی بھی انسان کے دل میں نفرت، تنہائی اور بے بسی کو جنم دیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تیسری جنس سے تعلق رکھنے والے افراد بھی ہمارے ہی جیسے انسان ہیں۔ ان کے بھی خواب ہوتے ہیں، احساسات ہوتے ہیں، خواہشات ہوتی ہیں، اور وہ بھی عزت، محبت اور اپنائیت کے اتنے ہی حق دار ہیں جتنے ہم سب۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے رویے بدلیں۔ ہم انہیں ترس کی نہیں بلکہ احترام کی نگاہ سے دیکھیں۔ انہیں خیرات نہیں بلکہ برابر کے مواقع دیں۔ انہیں ہمدردی نہیں بلکہ انصاف دیں۔ کیونکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہ اپنے کمزور اور محروم طبقات کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔آخر میں، میرا سلام ہے بلبل اور اُس جیسے ہزاروں بہادر انسانوں کو، جو ہر روز نفرت، تعصب اور ناانصافی کا سامنا کرنے کے باوجود اپنی خودداری، اپنے حوصلے اور اپنی انسانیت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔آئیے، ہم عہد کریں کہ آئندہ کسی انسان کو اس کی جنس، شناخت یا ظاہری فرق کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور انسانیت کی بنیاد پر پہچانیں گے۔ کیونکہ انسانیت سے بڑھ کر کوئی شناخت نہیں، اور محبت سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *