Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کشور کمار کا تاریخی بنگلہ کس کے نام؟ ویرات کوہلی سے متعلق بڑا دعویٰ جھوٹا نکلابلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاکچھ لاکھ کی لکیر اور فروخت شدہ تاریخ، ڈیورنڈ معاہدے کا تاریک سچ!!!نااہلی کا راج اور مسائل کے انبارافکار کی غلامی اور حریتِ فکر کا بحرانرائٹر کی آہ و فغاں: لفظوں کے مزدور کو انصاف کب ملے گا؟فیلٹیز ہوٹل لاہور میں بزنس مین ، وکلاء اور عجوبہ ء روگار معالج کے اعزاز میں شاندار “بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ تقریب” کا احوالسب کچھ سمجھ سے باہر ہےدہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانکشور کمار کا تاریخی بنگلہ کس کے نام؟ ویرات کوہلی سے متعلق بڑا دعویٰ جھوٹا نکلابلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں، 12 دہشت گرد ہلاکچھ لاکھ کی لکیر اور فروخت شدہ تاریخ، ڈیورنڈ معاہدے کا تاریک سچ!!!نااہلی کا راج اور مسائل کے انبارافکار کی غلامی اور حریتِ فکر کا بحرانرائٹر کی آہ و فغاں: لفظوں کے مزدور کو انصاف کب ملے گا؟فیلٹیز ہوٹل لاہور میں بزنس مین ، وکلاء اور عجوبہ ء روگار معالج کے اعزاز میں شاندار “بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ تقریب” کا احوالسب کچھ سمجھ سے باہر ہےدہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستان

رائٹر کی آہ و فغاں: لفظوں کے مزدور کو انصاف کب ملے گا؟

تحریر: یاسر دانیال صابری
کسی بھی مہذب معاشرے کی تعمیر صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی اصل بنیاد علم، شعور، تحقیق اور قلم پر ہوتی ہے۔ یہی قلم معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے، اچھائیوں کو فروغ دیتا ہے، عوامی مسائل کو حکمرانوں تک پہنچاتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ محفوظ کرتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا طبقہ وہی ہے جو دن رات معاشرے کے لیے لکھتا ہے۔
پاکستان سمیت جی بی میں بے شمار ایسے رائٹرز، کالم نگار اور تجزیہ نگار موجود ہیں جو برسوں سے مختلف اخبارات میں مسلسل لکھ رہے ہیں۔ وہ دور دراز علاقوں کا سفر کرتے ہیں، لوگوں سے ملتے ہیں، حقائق جمع کرتے ہیں، تحقیق کرتے ہیں، پھر گھنٹوں کی محنت سے ایک معیاری تحریر تیار کرتے ہیں۔ لیکن اس تمام محنت کا صلہ اکثر انہیں صرف اخبار میں اپنا نام چھپنے کی صورت میں ملتا ہے۔ نہ کوئی مناسب معاوضہ، نہ سالانہ اعزاز، نہ مالی تحفظ اور نہ ہی ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی مستقل پالیسی۔یہ سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ گلگت بلتستان و پاکستان نے مقامی رائٹرز اور کالم نگاروں کے لیے اب تک کیا اقدامات کیے ہیں؟ کیا ان کی رجسٹریشن کا کوئی نظام موجود ہے؟ کیا ان کے لیے کوئی اعزازیہ، انشورنس، تربیتی پروگرام یا ویلفیئر فنڈ قائم کیا گیا؟ اگر نہیں، تو کیوں؟صحافت ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے، مگر جب اسی ستون کو مضبوط رکھنے والے قلم کار مالی مشکلات کا شکار ہوں تو صحافت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ ایک ایسا رائٹر جو مہینوں تک کسی اخبار کے لیے لکھتا رہے، اگر اسے ایک روپیہ بھی معاوضہ نہ ملے تو یہ نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ علمی خدمات کی بے قدری بھی ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان و پاکستان دیگر صوبوں کے کئی اخبارات اپنے رپورٹرز کو انتہائی کم تنخواہوں پر کام کرواتے ہیں۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں دس، بارہ، بیس یا بائیس ہزار روپے ماہانہ کسی بھی رپورٹر یا صحافی کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ اگر ہم واقعی معیاری صحافت چاہتے ہیں تو کم از کم اتنی تنخواہ ضرور ہونی چاہیے جس سے ایک صحافی باوقار زندگی گزار سکے۔ مناسب معاوضہ ہی بہتر صحافت کی ضمانت بنتا ہے۔اخباری اداروں کے مالکان کی بھی ایک بڑی ذمہ داری بنتی ہے۔ اگر ایک رائٹر کی تحریروں سے اخبار کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے، قارئین کی تعداد بڑھتی ہے اور ادارے کا وقار بلند ہوتا ہے تو پھر اسی رائٹر کو اس کی محنت کا مناسب حق بھی ملنا چاہیے۔ سالانہ بہترین رائٹر ایوارڈ، تعریفی اسناد، شیلڈز اور مالی انعامات نہ صرف قلم کاروں کی حوصلہ افزائی کریں گے بلکہ نئے لکھنے والوں کو بھی آگے آنے کا جذبہ دیں گے۔اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن کے قیام کی ضرورت محسوس کی گئی، تاکہ ملک بھر کے رائٹرز کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے، ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جائے، ان کی رجسٹریشن ہو، تربیت کا انتظام کیا جائے اور انہیں باعزت مقام دلانے کی کوشش کی جائے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں قلم کار کو تنہا نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اسے قومی اثاثہ سمجھا جاتا ہے۔حکومت پاکستان و گلگت بلتستان کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اخبارات کو جاری کیے جانے والے سرکاری اشتہارات کی ادائیگی بروقت یقینی بنائے۔ جب اخبارات کو وقت پر ادائیگیاں ملیں گی تو وہ بھی اپنے رپورٹرز، رائٹرز اور کالم نگاروں کو بہتر معاوضہ دینے کے قابل ہوں گے۔ اگر اشتہارات کی ادائیگیاں مہینوں اور برسوں تک التوا کا شکار رہیں گی تو اس کا براہ راست اثر صحافیوں اور قلم کاروں پر پڑے گا۔ وزیراعظم پاکستان دیگر صوبوں کے وزراء
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان، وزیر اطلاعات پاکستان، وزیر داخلہ، سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ مقامی رائٹرز کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کروائیں۔ سالانہ “بہترین رائٹر ایوارڈ”، “لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ”، ویلفیئر فنڈ، تربیتی پروگرام اور رجسٹریشن سسٹم جیسے اقدامات نہ صرف قلم کاروں کا حوصلہ بلند کریں گے بلکہ پاکستان و گلگت بلتستان میں معیاری صحافت اور تحقیق کو بھی فروغ دیں گے۔
ایک رائٹر صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ معاشرے کا ضمیر جگاتا ہے۔ وہ ظلم کے خلاف آواز بنتا ہے، عوامی مسائل اجاگر کرتا ہے، اصلاح کی راہیں دکھاتا ہے اور نئی نسل کو شعور دیتا ہے۔ اگر ایسے لوگوں کی قدر نہ کی جائے تو آنے والے وقت میں قلم خاموش ہو جائے گا، اور جب قلم خاموش ہوتا ہے تو معاشرے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں قلم کی قدر کی جائے، رائٹر کو اس کا جائز مقام دیا جائے، اور ایسے عملی اقدامات کیے جائیں جن سے ہر قلم کار یہ محسوس کرے کہ اس کی محنت، اس کی تحقیق اور اس کی خدمات واقعی قوم کے لیے قابلِ احترام ہیں۔ یہی ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی پہچان ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *