Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مسلم باغ اور گردونواح میں بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، ماجد سلیمگنداخہ: مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم میں زمینداروں کا نہری پانی کی کمی اور بھل صفائی کے حوالے سے اہم اجلاسیومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، سردار بابا غلام رسول عمرانی27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سینیٹر ثناء جمالیمتوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میںفرعونیت، درندگی اور ایک معصوم کی دردناک موتحبا فواد کاکڑ کی چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکتTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026مسلم باغ اور گردونواح میں بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے، ماجد سلیمگنداخہ: مدرسہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم میں زمینداروں کا نہری پانی کی کمی اور بھل صفائی کے حوالے سے اہم اجلاسیومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں، سردار بابا غلام رسول عمرانی27 اکتوبر یومِ سیاہ کشمیر، کشمیری عوام کی جدوجہد اور قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں، سینیٹر ثناء جمالیمتوسط طبقہ: نہ غربت کی فہرست میں، نہ آسودگی کی دنیا میںفرعونیت، درندگی اور ایک معصوم کی دردناک موتحبا فواد کاکڑ کی چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کی افتتاحی تقریب میں شرکتTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2052/27-10-2026NOTICE FOR ELECTRONIC BIDDING: DAB/AB NO.472/27-10-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2066/27-10-2026

چھ لاکھ کی لکیر اور فروخت شدہ تاریخ، ڈیورنڈ معاہدے کا تاریک سچ!!!

محترم قارئین، 12نومبر 1893کا وہ دن تاریخِ برصغیر اور خصوصاً پشتون قوم کی سرگذشت میں ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کی سیاہی آج بھی دو صدیوں کی مسافت طے کرنے کے بعد بھی مدہم نہیں پڑی۔ کابل کے دربار میں امیر عبدالرحمن خان اور برطانوی ہند کے خارجہ سیکرٹری سر مارٹیمر ڈیورنڈ کے مابین طے پانے والے اس معاہدے نے محض جغرافیائی سرحدیں ہی نہیں بدلیں، بلکہ ایک پوری قوم کی تقدیر، شناخت اور وحدت کو برطانوی سامراج اور کابل کے تخت کے مابین ایک سودے بازی کی نذر کر دیا۔ اس تاریخی حقیقت کا سب سے تلخ اور روح فرسا اعتراف خود امیر عبدالرحمن خان کے اپنے الفاظ میں ملتا ہے جب انہوں نے انتہائی فخر کے ساتھ یہ تاریخی فقرہ ادا کیا تھا: ” (امیر عبدالرحمن نے جب بڑے فخر سے کہا کہ مجھے چھ لاکھ زیادہ مل گئے، تو یہیں سے پشتونوں کی تاریخ ختم ہو گئی)۔
اس ایک جملے میں پشتون قوم کی صدیوں پر محیط روایات، خودمختاری، جغرافیائی وحدت اور غیرت کا وہ تمام باب سمٹ جاتا ہے جسے مٹی اور خون کے بجائے زرِ کثیر کے عوض بیچ ڈالا گیا۔ اٹھارہ سو ترانوے کے اس بدنامِ زمانہ معاہدے کی شق نمبر سات اس بات کی گواہ ہے کہ کس طرح برطانوی حکومت نے امیرِ افغانستان کو دی جانے والی سالانہ امداد یا سبسڈی کو چھ لاکھ روپے سے بڑھا کر بارہ لاکھ روپے سالانہ کر دیا۔ اس مالی اضافے کے ساتھ ساتھ امیر کو ہندوستان کے راستے جدید اسلحہ درآمد کرنے کی بھی کھلی چھوٹ دے دی گئی۔ برطانوی ریکارڈز اور درباری مورخین اسے “دوستانہ تعلقات کے فروغ” اور “خطے میں امن کے قیام” کا نام دیتے ہیں، جبکہ زمینی حقائق اور خطے کی تاریخ اس مکروہ سودے کو ایک ایسی قیمت قرار دیتی ہے جس کے بدلے پشتون وطن کو کاٹ کر دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔اس معاہدے کے نتیجے میں جو 2670 کلومیٹر طویل لکیر کھینچی گئی، جسے آج ہم ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانتے ہیں، اس نے ایک ہی ماں جائے بھائیوں، قبیلوں اور خاندانوں کو ایک لکیر کے آر پار ہمیشہ کے لیے اجنبی بنا دیا۔ اس تقسیم نے وزیرستان، باجوڑ، مہمند، کرم، سوات، چترال اور دیگر قبائلی خطوں کو برطانوی ہند اور بعد ازاں پاکستان کے حوالے کر دیا، جبکہ دوسری طرف واخان اور نورستان کے کچھ حصوں کو افغانستان میں رکھا گیا۔ امیر عبدالرحمن خان نے اس وقت کی سیاسی مجبوریوں، گریٹ گیم کے تحت روس اور برطانیہ کی پیش قدمی کے دباؤ اور ذاتی اقتدار کی طوالت کو مدنظر رکھتے ہوئے لویہ جرگہ سے اس کی جبری توثیق تو کروا لی، اور وہ برطانوی پاؤنڈز کی کھنک اور سالانہ اضافے پر شاداں و فرحاں بھی رہے، لیکن اس خوشی کے پس پردہ ایک پوری قوم کا مستقبل گروہ رکھ دیا گیا۔
یہ معاہدہ محض کاغذ کا ایک ٹکڑا نہیں تھا بلکہ پشتون قوم کی سینے پر ایک ایسا ناسور تھا جس کا درد 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد مزید بڑھ گیا۔ جب انگریز اس خطے سے رخصت ہوئے تو نوآبادیاتی دور کی یہ وراثت پاکستان کو منتقل ہو گئی، جس پر افغانستان نے اقوام متحدہ میں یہ مؤقف اپنایا کہ یہ لکیر ایک جبری معاہدے کے تحت کھینچی گئی تھی لہٰذا یہ غیر قانونی اور کالعدم ہے۔ تاریخ کے اس موڑ پر باچا خان اور ان کے بعد آنے والے سیاسی رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات کا نوحہ لکھا کہ “ہمیں بیچا گیا ہے”۔ آج بھی ایمل ولی خان سمیت پشتون قوم پرست حلقے اسی تاریخی ناانصافی کو بنیاد بنا کر اس مسلط کردہ لکیر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔اگر اس پورے تنازع کا عالمی معیار کے مطابق تجزیہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ 1893 کی یہ سودے بازی صرف زمین کا سودا نہیں تھی بلکہ یہ اخلاقیات، خودمختاری اور انسانیت کا وہ زوال تھا جہاں مفادات کی خاطر انسانی رشتوں اور قومی وحدتوں کو روند ڈالا گیا۔ امیر عبدالرحمن کا وہ فخریہ جملہ کہ “چھ لاکھ زیادہ مل گئے” تاریخ کے ماتھے پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو آنے والی ہر نسل کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ کس طرح وقتی مفادات اور مالی لالچ کے بدلے ایک زندہ و جاوید قوم کے سینے میں تقسیم کی خنجر اتار دی گئی۔ خوانچہ 1893 میں بچھا تھا، کرنسی اور کردار وقت کے ساتھ بدلتے رہے، لیکن اس لکیر کی وجہ سے بہنے والا لہو اور اٹھنے والے سوالات آج بھی اسی طرح زندہ ہیں اور خطے کے امن کا سب سے بڑا ناسور بنے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *