Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نیلسن منڈیلاایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیامسٹر پتلو کے پروگرام کے اجازت نامے کی اصل شرائط سامنے آگئیں، انتظامیہ کی غفلت پر سوالاتٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دیبیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارجایک سال میں قوم پر واجب الادا قرض میں 6210 ارب روپے کا اضافہریکوڈک منصوبہ 2030 تک مؤخر ہونے کا خدشہ، مجموعی لاگت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہےٹانک میں پولیو ورکرز اغوا، مہمند میں فائرنگ سے ڈیوٹی پر مامور 2پولیس اہلکار شہیدباجوڑ میں آئی ای ڈی دھماکا، ایک شخص جاں بحقیونیورسٹی آف لورالائی میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے کا جائزہ، تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ مشن کا دورہنیلسن منڈیلاایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیامسٹر پتلو کے پروگرام کے اجازت نامے کی اصل شرائط سامنے آگئیں، انتظامیہ کی غفلت پر سوالاتٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دیبیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارجایک سال میں قوم پر واجب الادا قرض میں 6210 ارب روپے کا اضافہریکوڈک منصوبہ 2030 تک مؤخر ہونے کا خدشہ، مجموعی لاگت 9 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہےٹانک میں پولیو ورکرز اغوا، مہمند میں فائرنگ سے ڈیوٹی پر مامور 2پولیس اہلکار شہیدباجوڑ میں آئی ای ڈی دھماکا، ایک شخص جاں بحقیونیورسٹی آف لورالائی میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے منصوبے کا جائزہ، تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ مشن کا دورہ

مشرق وسطیٰ کا آتش فشاں اور عالمی بالادستی کی جنگ

موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسے نازک اور فیصلہ کن موڑ پر آن کھڑا ہے جہاں بین الاقوامی سیاست کے اصول و ضوابط اخلاقیات سے کٹ کر محض طاقت، اسلحہ اور مفاد پرستی کے گرد گھوم رہے ہیں۔ اس وقت دنیا کی نظریں ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہیں، وہ خطہ جو اپنی جغرافیائی اہمیت، تیل و گیس کے ذخائر اور آبنائے ہرمز جیسی عالمی شہ رگ کی وجہ سے نصف صدی سے زائد عرصے سے بڑی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ حالیہ سفارتی اور عسکری تغیرات نے سنجیدہ مبصرین کو اس سوال پر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا واشنگٹن اور تل ابیب اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ اور عسکری خفت کو مٹانے کے لیے خطے کو ایک نئی اور ہمہ گیر تباہی کی جانب دھکیلنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس پورے منظرنامے میں امریکی خارجہ پالیسی کا سب سے بڑا المیہ اس کا ساختی اور واضح دوہرا معیار ہے۔ ایک جانب واشنگٹن اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر جنگ بندی، سفارت کاری اور امن کی بحالی کی یقین دہانیاں کراتا ہے، تو دوسری جانب اسی زبان میں ایران کے دفاعی نظام، جوہری تنصیبات اور معاشی شریانوں کو مفلوج کرنے کی کھلی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ عالمی تعلقات کے ماہرین اس طرزِ عمل کو ترغیب اور دباؤ کی کلاسیکی حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ امریکہ کے نزدیک عارضی جنگ بندی یا مذاکرات کی پیشکشیں کسی مستقل امن کا پیش خیمہ نہیں، بلکہ حریف کو سفارتی طور پر الجھانے اور اپنے تزویراتی اہداف کے حصول کے لیے وقت حاصل کرنے کا ایک حربہ ہوتی ہیں۔
اس بساط کا دوسرا اور زیادہ خطرناک رخ اسرائیلی سیاست کا اندرونی بحران ہے۔ وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی تمام عسکری مہم جوئی کا براہِ راست تعلق ان کی سیاسی بقا سے جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد معلق پارلیمان، عدالتی مقدمات کا دباؤ، بدعنوانی کے الزامات اور تاریخ ساز عوامی احتجاج نے نیتن یاہو کے لیے اقتدار کو برقرار رکھنا تقریباً ناممکن بنا دیا ہے۔ ایسے میں ان کے پاس اقتدار کو طول دینے کا سب سے آزمودہ اور مؤثر ہتھیار خارجی خطرے کا بیانیہ ہے۔ دفاعی مبصرین کی متفقہ رائے ہے کہ ایران کے خلاف محاذ کو گرم رکھنا اور غزہ و لبنان میں جنگی ماحول کو زندہ رکھنا نیتن یاہو کی سیاسی مجبوری بن چکا ہے، کیونکہ خطے میں امن کی واپسی کا مطلب ان کے لیے اندرونی احتساب اور اقتدار سے بے دخلی ہے۔ یوں ایک فرد کی سیاسی زندگی کو بچانے کی کوشش پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔

اس خطرناک کھیل کو امریکی داخلی سیاست سے مزید ایندھن مل رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی اسرائیل نواز پالیسی کسی ڈھکی چھپی حقیقت نہیں۔ امریکی سیاسی نظام میں طاقتور لابیز کا دباؤ اور آئندہ انتخابات میں قوم پرستانہ جذبات کو ابھارنے کی خواہش اکثر خارجہ محاذ پر ایک مصنوعی بحران پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑا سیکیورٹی بحران امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے لیے منافع، تیل کی قیمتوں پر کنٹرول اور عالمی توجہ کو داخلی ناکامیوں سے ہٹانے کا بہترین ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل ایٹمی برتری کے زعم میں کوئی حتمی اور انتہائی قدم اٹھا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی دفاعی تھنک ٹینکس اس خیال کو عملی سے زیادہ نفسیاتی جنگ کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال محض ایک عسکری فیصلہ نہیں، بلکہ اس کے ساتھ باہمی یقینی تباہی کا وہ اصول جڑا ہے جو حملہ آور کو بھی نہیں بخشتا۔ آبنائے ہرمز کی بندش، عالمی معیشت کی تباہی، لاکھوں انسانی جانوں کا ضیاع اور تابکاری کے وہ اثرات جو صدیوں تک باقی رہیں گے، کسی بھی ذی شعور قیادت کو ایسے اقدام سے باز رکھتے ہیں۔ اس لیے ایٹمی حملے کی دھمکیوں کو ایک حتمی فیصلے سے زیادہ حریف کو خوفزدہ کرنے اور دباؤ میں لانے کی حکمتِ عملی یعنی Deterrence کے طور پر دیکھنا زیادہ قرینِ قیاس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا اب یک قطبی نہیں رہی۔ چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں کسی بھی ایسی مہم جوئی کو اپنی عالمی حیثیت کے لیے براہِ راست چیلنج سمجھتی ہیں۔
اس تحریر کا حرفِ آخر یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی محض سرحدوں کے تحفظ یا سلامتی کی جنگ نہیں، بلکہ زوال پذیر عالمی بالادستی کو برقرار رکھنے اور ڈوبتے سیاسی سفینوں کو بچانے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب بھی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے جنگ کا سہارا لیا ہے، اس کے نتیجے میں صرف کھنڈرات، مہاجرین کے قافلے اور نسلوں پر محیط نفرتیں جنم لیتی ہیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، اقوامِ متحدہ اور مسلم دنیا مصلحت پسندی کی چادر اوڑھنے کے بجائے دوہرے معیار، جارحیت اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے خلاف ایک مضبوط، مشترکہ اور مؤثر سفارتی محاذ تشکیل دے، تاکہ انسانیت کو کسی ناقابلِ تلافی المیے سے بچایا جا سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *