Banner
Daily Sahafat Quetta
October 29, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
صحافیوں کا بلوچستان میڈیا فورم میں شمولیت خوش آئند ہے ، شیخ فریدسید محمد آغا کی فلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سردار منظور کاکڑپاک آسٹریا دوستی کا دل آویز منظر آسٹریا کے سفیر کا موزارٹ ہاؤس لاہور کا دورہ عامر رفیق کی قابلِ تحسین سفارتی و ثقافتی خدماتاسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ کا بی ایچ یو اوریاگی کاکڑان کا دورہ، طبی سہولیات اور عملے کی حاضری کا جائزہلورالائی: حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی جانب سے میونسپل کمیٹی کو جدید مشینری فراہمنصیرآباد: گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی سیمینار، آبادگاروں کی بڑی تعداد میں شرکتفضائلِ جمعہ قرآن و احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںلاہور ہائیکورٹ؛ پی ایم ڈی سی کے مقررہ تجربہ کے برعکس بھرتیوں کا معیار غیر قانونی قرارتھرپارکر ایمبولینس حادثہ؛ جاں بحق افراد کے ورثا کو 20 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلانبیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13, 13 سال قید کی سزاصحافیوں کا بلوچستان میڈیا فورم میں شمولیت خوش آئند ہے ، شیخ فریدسید محمد آغا کی فلاحی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سردار منظور کاکڑپاک آسٹریا دوستی کا دل آویز منظر آسٹریا کے سفیر کا موزارٹ ہاؤس لاہور کا دورہ عامر رفیق کی قابلِ تحسین سفارتی و ثقافتی خدماتاسسٹنٹ کمشنر لورالائی احمد زیب کاکڑ کا بی ایچ یو اوریاگی کاکڑان کا دورہ، طبی سہولیات اور عملے کی حاضری کا جائزہلورالائی: حاجی محمد خان طور اتمانخیل کی جانب سے میونسپل کمیٹی کو جدید مشینری فراہمنصیرآباد: گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے زرعی سیمینار، آبادگاروں کی بڑی تعداد میں شرکتفضائلِ جمعہ قرآن و احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میںلاہور ہائیکورٹ؛ پی ایم ڈی سی کے مقررہ تجربہ کے برعکس بھرتیوں کا معیار غیر قانونی قرارتھرپارکر ایمبولینس حادثہ؛ جاں بحق افراد کے ورثا کو 20 لاکھ روپے فی کس دینے کا اعلانبیرئر ہٹانے اور کار سرکار میں مداخلت کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 13, 13 سال قید کی سزا

پاک آسٹریا دوستی کا دل آویز منظر آسٹریا کے سفیر کا موزارٹ ہاؤس لاہور کا دورہ عامر رفیق کی قابلِ تحسین سفارتی و ثقافتی خدمات

پاک آسٹریا دوستی کا دل آویز منظر
آسٹریا کے سفیر کا موزارٹ ہاؤس لاہور کا دورہ
عامر رفیق کی قابلِ تحسین سفارتی و ثقافتی خدمات

منشاقاضی
حسبِ منشا

تہذیبوں کے درمیان فاصلے کم کرنے، ثقافتوں کو ایک دوسرے سے روشناس کرانے اور قوموں کے مابین دوستی کے رشتوں کو مستحکم بنانے میں ثقافتی اداروں کا کردار ہمیشہ غیرمعمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اسی خوب صورت روایت کی ایک دل نشیں جھلک لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں قائم آسٹرین کلچرل سینٹر MOZART HAUS میں دیکھنے کو ملی، جہاں پاکستان میں آسٹریا کے سفیر H.E. Dr. Wolfgang Oliver Kutschera نے خصوصی دورہ کیا۔ یہ دورہ محض ایک رسمی ملاقات نہیں، بلکہ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان باہمی احترام، ثقافتی ہم آہنگی اور دیرپا دوستی کے جذبات کو مزید تقویت دینے کی ایک خوش آئند کاوش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
پاکستان آسٹریا فرینڈشپ سوسائٹی ’’موزارٹ ہاؤس‘‘ کے صدر عامر رفیق نے معزز مہمان اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا نہایت گرم جوشی، خلوص اور وقار کے ساتھ استقبال کیا۔ اس موقع پر ان کی میزبانی، مہمان نوازی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ان کی مسلسل محنت نمایاں رہی۔ انہوں نے جس خوش اسلوبی سے اس اہم موقع کو وقعت بخشی، وہ ان کے ادارے سے گہرے تعلق، ذمہ داری کے احساس اور پاک آسٹریا دوستی کے مشن سے وابستگی کا مظہر ہے۔
موزارٹ ہاؤس جیسے ثقافتی مرکز کی اصل اہمیت اس کے نام یا عمارت تک محدود نہیں، بلکہ اس مقصد میں پنہاں ہے جس کے تحت یہ مختلف معاشروں، زبانوں، فنون اور تہذیبی روایات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کی کوشش کرتا ہے۔ آسٹریا موسیقی، مصوری، ادب اور فنونِ لطیفہ کی ایک عظیم روایت کا امین ملک ہے، جبکہ پاکستان اپنی تہذیبی گہرائی، ادبی ورثے، صوفیانہ فکر اور فنونِ لطیفہ کی متنوع روایت کے باعث دنیا میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔ ان دونوں ملکوں کی ثقافتی خصوصیات کو باہمی مکالمے کا حصہ بنانا یقیناً ایک ایسا عمل ہے جو دوستی کو رسمی تعلقات سے آگے بڑھا کر عوامی سطح پر دلوں کے رشتوں میں تبدیل کر سکتا ہے۔

اس تناظر میں محترم عامر رفیق کی خدمات خصوصی طور پر قابلِ تحسین ہیں۔ کسی ثقافتی ادارے کی سربراہی محض انتظامی امور کی انجام دہی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسے مسلسل مشن کا تقاضا کرتی ہے جس میں رابطہ کاری، تنظیم، خلوص، وقت اور ذاتی محنت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ بین الاقوامی مہمانوں کی میزبانی، ثقافتی روابط کی آبیاری اور ادارے کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل توجہ اور لگن درکار ہوتی ہے۔ عامررفیق کی کاوشوں کو اسی وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کی کوششیں اس امر کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ دو ملکوں کے درمیان دوستی کو مضبوط بنانے کے لیے صرف سفارتی معاہدے ہی کافی نہیں ہوتے؛ اس کے لیے ایسے افراد بھی درکار ہوتے ہیں جو اپنے اخلاص، کردار اور مسلسل جدوجہد سے ان تعلقات کو عملی صورت عطا کریں۔ آسٹریا کے سفیر کو پروفیسر ڈاکٹر عامر رفیق کے ساتھ ایگزیکٹیو ممبران نے خوش آمدید کہا ۔ مسرور الحق لودھی ، جاوید اقبال ہاشمی ، ثمینہ اشرف ، ڈاکٹر سلطان محمود کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں ۔ نقابت و نظامت کے فرائض ثمینہ اشرف سیکرٹری جنرل PAFS نے بڑی خوبی سے سرانجام دیئے ۔ تلاوت قران کریم کی سعادت سلیمان خان نے حاصل کی دونوں ملکوں کے ترانے سامعین نے مؤدبانہ کھڑے ہو کر سماعت کیئے ۔ تاشقین حفیظ ، مسٹر سخاوت ، مسٹر خلیل ، مسٹر عثمان کمال اور بین الاقوامی شہرت یافتہ موسیقی زبان کے استاد سید ظہیر رضوی نے عجیب سماں باندھ دیا ۔ زائد انجم اعزازی قونصلیٹ جنرل کوسووو ، جناب مظفر علی اور آسٹریا کے سفیر کے سٹاف آفیسر نوید احمد بہت محظوظ ہوئے ۔ مسٹر ہارون جاوید نے آسٹریا کے سفیر کا پورٹریٹ جب انہیں پیش کیا تو ان کے باطن کا حسن ان کے چہرے پر پھیل گیا ۔ فضیلتِ مآب سفیر کو اعزازی لائف ممبر شپ دی گئی ۔

آسٹریا کے سفیر کی موزارٹ ہاؤس آمد اس ادارے کے لیئے بھی ایک اہم موقع تھی اور لاہور کی ثقافتی زندگی کے لیئے بھی ایک خوش آئند پیش رفت۔ سفارتی شخصیات کے ایسے دورے ثقافتی اداروں کی سرگرمیوں کو نئی معنویت دیتے ہیں اور اس امکان کو تقویت پہنچاتے ہیں کہ فن و ثقافت کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان مزید بامقصد روابط استوار کیے جائیں۔ موسیقی، ادب، مصوری، علمی مکالمے اور ثقافتی تقریبات ایسے شعبے ہیں جہاں مختلف قومیں اپنی انفرادیت برقرار رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھ سکتی ہیں۔

یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ ثقافتی سفارت کاری کی کامیابی کا انحصار صرف بڑی تقریبات پر نہیں ہوتا، بلکہ ان چھوٹی مگر بامعنی ملاقاتوں پر بھی ہوتا ہے جو باہمی اعتماد، خیرسگالی اور مشترکہ مستقبل کے لیے سازگار فضا پیدا کرتی ہیں۔ موزارٹ ہاؤس میں آسٹریا کے سفیر کی آمد اسی روایت کا حصہ ہے، جہاں ثقافت کو محض تفریح نہیں بلکہ مکالمے، فہم و فراست اور انسان دوستی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

پاکستان آسٹریا فرینڈشپ سوسائٹی کے صدر عامر رفیق کی محنت کو سراہتے ہوئے یہ کہنا بجا ہوگا کہ وہ اپنے منصب کو محض ایک اعزاز کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ذمہ دارانہ مشن کے طور پر آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے افراد کسی بھی ادارے کا حقیقی سرمایہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان کی کاوشیں ادارے کی سرگرمیوں کو تسلسل بخشنے کے ساتھ ساتھ اس کے بنیادی مقصد کو بھی زندہ رکھتی ہیں۔ ان کی حوصلہ افزائی دراصل ان تمام لوگوں کی حوصلہ افزائی ہے جو پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے اور عالمی برادری کے ساتھ دوستانہ روابط مضبوط بنانے کے لیے خاموشی سے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

بلاشبہ، پاکستان اور آسٹریا کے درمیان دوستی کو نئی جہتیں دینے کے لیے ثقافتی اداروں کو مزید فعال بنانا، مشترکہ پروگراموں کی حوصلہ افزائی کرنا اور نوجوان نسل کو فنون، ادب اور تہذیبی مکالمے سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ موزارٹ ہاؤس اس سلسلے میں ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے، بشرطیکہ ایسی سرگرمیوں کو مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے اور باہمی تعاون کے نئے امکانات تلاش کیے جائیں۔

مجموعی طور پر، آسٹریا کے سفیر کا موزارٹ ہاؤس لاہور کا دورہ پاک آسٹریا دوستی کے فروغ کی ایک خوش آئند علامت ہے۔ اس موقع پر عامررفیق کی پرتپاک میزبانی اور ادارے کے مشن کے لیے ان کی محنت لائقِ ستائش ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ روابط مستقبل میں مزید مضبوط ہوں گے اور لاہور میں قائم یہ ثقافتی مرکز دونوں ملکوں کے درمیان محبت، علم، فن اور باہمی احترام کے چراغ روشن کرنے میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔ کیونکہ قوموں کے تعلقات جب ثقافت کی روشنی میں آگے بڑھتے ہیں تو دوستی محض ایک لفظ نہیں رہتی، بلکہ ایک زندہ تجربہ بن جاتی ہے۔ سابق طالب علم راہنما حسیب شیخ نے پروفیسر ڈاکٹر عامر رفیق کی کاوش کو اللہ کی نوازش قرار دیا ۔ اخر میں نقیبہ ء محفل ثمینہ اشرف نے بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر جنابِ نذیر قیصر کی موجودگی کو ایک اعزاز قرار دیا اور ان کے اشعار پر یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی ۔

دنیا اچھی لگتی ہے رب اچھا لگتا ہے

اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہے

ساری کتابیں، سارے صحیفے مجھ پر اترے ہیں

مجھ کو دنیا کا ہر مذہب اچھا لگتا ہے

آخر میں لذتِ کام و دہان کے اسباب میزوں پر چُن دیئے گئے تھے ۔ کیفے کے عملے کی سریع الحرکت کارکردگی کا حسن ماحول میں چاندنی بکھیر رہا تھا اور مہمان دستِ خود دہنِ خود پرعمل پیرا تھے ۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *