Banner
Daily Sahafat Quetta
October 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
یونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیابلوچی زبان میں قرآنِ مجید کی پہلی ایپلی کیشن ’’جمال القرآن‘‘ لانچکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمیناریونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیابلوچی زبان میں قرآنِ مجید کی پہلی ایپلی کیشن ’’جمال القرآن‘‘ لانچکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمینار

مصنوعی ذہانت اور طلبہ کا مستقبل

تحریر: کاشف حیدری

موجودہ دور سائنس، ٹیکنالوجی اور جدید ذرائع ابلاغ کی ترقی کا دور ہے، جہاں انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ایسا ہو جو جدید ٹیکنالوجی کے اثرات سے محفوظ ہو۔ کاروبار، صحافت، طب، تحقیق، صنعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں نت نئی سہولیات متعارف ہو رہی ہیں، جنہوں نے انسانی زندگی کو پہلے کی نسبت آسان بنا دیا ہے۔ انہی جدید سہولیات میں مصنوعی ذہانت بھی شامل ہے، جس نے مختصر وقت میں دنیا بھر میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔ اب چند لمحوں میں کسی موضوع پر معلومات حاصل کرنا، کسی مشکل مسئلے کی وضاحت سمجھنا، تحریر تیار کرنا اور مختلف سوالات کے جواب حاصل کرنا ممکن ہو گیا ہے۔ بلاشبہ یہ انسانی ترقی کا ایک اہم مرحلہ ہے، لیکن ہر نئی سہولت اپنے ساتھ کچھ ایسے سوالات بھی لے کر آتی ہے جن پر غور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال، خصوصاً اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے طلبہ و طالبات کی جانب سے اسائنمنٹس، مضامین، درخواستوں، تقریروں اور دیگر تعلیمی کاموں کو خود انجام دینے کے بجائے مکمل طور پر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کروانے کا رجحان بھی ایسا ہی ایک اہم مسئلہ ہے، جسے نظر انداز کرنا مستقبل میں تعلیمی نظام کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی، شعور اور خوش حالی کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں افراد صرف کتابوں میں موجود معلومات یاد نہیں کرتے بلکہ ان معلومات کو سمجھنے، ان پر غور کرنے، سوال اٹھانے اور عملی زندگی میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد محض امتحانات میں کامیابی حاصل کرنا، اچھے نمبر لینا یا اسناد حاصل کرنا نہیں، بلکہ انسان کی فکری صلاحیتوں کو بہتر بنانا، اس کی شخصیت کو نکھارنا اور اسے زندگی کے مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو مختلف موضوعات پر اسائنمنٹس دیے جاتے ہیں، تاکہ وہ کلاس میں پڑھائے گئے اسباق کا مزید مطالعہ کریں، معلومات جمع کریں، ان کا تجزیہ کریں اور پھر اپنی سمجھ کے مطابق انہیں تحریر کی صورت میں پیش کریں۔ جب کوئی طالب علم خود کسی موضوع پر تحقیق کرتا ہے تو اس عمل کے دوران وہ بہت کچھ سیکھتا ہے۔ اسے نئے الفاظ سے واقفیت حاصل ہوتی ہے، اس کی زبان بہتر ہوتی ہے، خیالات کو ترتیب دینے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کا طریقہ سیکھتا ہے۔ اس کے برعکس اگر طالب علم کسی موضوع کا نام مصنوعی ذہانت کو دے کر چند سیکنڈ میں مکمل مضمون تیار کروا لے اور اسے پڑھے یا سمجھے بغیر اپنے نام سے استاد کے حوالے کر دے تو بظاہر اس کا کام مکمل ہو جاتا ہے، لیکن اس عمل میں تعلیم حاصل کرنے کا بنیادی مقصد پیچھے رہ جاتا ہے۔ آج ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو حقیقت میں علم حاصل کرنے کی طرف راغب کر رہے ہیں یا صرف اسائنمنٹ مکمل کرنے اور اچھے نمبر حاصل کرنے کی دوڑ میں شامل کر رہے ہیں؟ اگر ایک طالب علم کو کسی مضمون پر کام کرنے کے لیے کہا جائے اور وہ کتاب کھولنے، معلومات تلاش کرنے اور اپنی سوچ استعمال کرنے کے بجائے براہ راست مصنوعی ذہانت سے تیار شدہ تحریر حاصل کر لے تو اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے اس سرگرمی سے کیا سیکھا۔ استاد نے اسائنمنٹ اس لیے دیا تھا کہ طالب علم کی سمجھ میں اضافہ ہو، لیکن اگر طالب علم نے موضوع کو سمجھے بغیر صرف تیار شدہ مواد جمع کروایا تو مقصد حاصل نہیں ہوا۔ اس صورت حال میں اسائنمنٹ محض ایک رسمی کارروائی بن جاتا ہے، جس کا تعلق حقیقی علم کے بجائے کام مکمل دکھانے سے رہ جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل بظاہر معمولی محسوس ہو سکتا ہے، لیکن اگر بڑی تعداد میں طلبہ اس عادت کو اپنا لیں تو اس کے اثرات تعلیمی معیار اور نئی نسل کی ذہنی تربیت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کا ایک اہم پہلو طلبہ میں خود لکھنے کی صلاحیت کا کمزور ہونا ہے۔ تحریر ایک ایسی مہارت ہے جو مسلسل مطالعے، مشق اور تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔ جب طالب علم پہلی مرتبہ مضمون لکھتا ہے تو اسے مختلف مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ کبھی اسے مناسب الفاظ نہیں ملتے، کبھی خیالات کو ترتیب دینا مشکل محسوس ہوتا ہے اور کبھی وہ یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اپنی بات کا آغاز کہاں سے کرے اور اختتام کس طرح کرے۔ یہ تمام مشکلات سیکھنے کے عمل کا قدرتی حصہ ہیں۔ اگر طالب علم ان مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے خود لکھنے کی کوشش کرے تو رفتہ رفتہ اس کی صلاحیت بہتر ہوتی جاتی ہے۔ وہ اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے، ان کی اصلاح کرتا ہے اور وقت کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں لکھنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ ہر مرتبہ مصنوعی ذہانت سے مضمون تیار کروانے لگے تو اسے اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کا موقع ہی نہیں ملے گا۔ نتیجتاً اس کی اپنی تحریری صلاحیت مطلوبہ حد تک پروان نہیں چڑھ سکے گی اور ممکن ہے کہ مستقبل میں اسے ایک سادہ درخواست، مضمون یا تقریر تیار کرنے کے لیے بھی دوسروں کی مدد درکار ہو۔ تعلیم کا ایک بنیادی مقصد تخلیقی سوچ کو فروغ دینا بھی ہے۔ انسانی ذہن کی اصل طاقت صرف معلومات جمع کرنے میں نہیں، بلکہ ان معلومات کو سمجھنے، ان سے نئے خیالات اخذ کرنے اور مختلف مسائل کے حل تلاش کرنے میں ہے۔ جب طالب علم کسی موضوع پر خود سوچتا ہے تو اس کے ذہن میں نئے سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ کسی بات سے اتفاق یا اختلاف کرنے کی وجہ تلاش کرتا ہے اور اپنے تجربات کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرتا ہے۔ یہی عمل اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے۔ اگر ہر سوال کا جواب پہلے سے تیار شدہ صورت میں اس کے سامنے موجود ہو اور وہ بغیر غور کیے اسے قبول کرنے لگے تو اس کی آزادانہ سوچ متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے معلومات حاصل کرنا اپنی جگہ مفید ہے، لیکن معلومات کو سمجھنے اور ان کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کی ذمہ داری طالب علم کو خود پوری کرنی چاہیے۔ مشین سے حاصل ہونے والا جواب انسانی سوچ کا متبادل نہیں بن سکتا، کیونکہ اصل سیکھنے کا عمل اس وقت مکمل ہوتا ہے جب انسان معلومات کو سمجھ کر انہیں اپنے علم کا حصہ بناتا ہے۔
تحقیق کے میدان میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال کے حوالے سے احتیاط ضروری ہے۔ تحقیق صرف مختلف معلومات کو ایک جگہ جمع کر دینے کا نام نہیں، بلکہ اس میں معلومات کی صداقت جانچنا، مستند ذرائع تلاش کرنا، مختلف نظریات کا موازنہ کرنا اور شواہد کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرنا شامل ہوتا ہے۔ اگر طالب علم مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی ہر بات کو درست سمجھ لے تو وہ غلط معلومات کا شکار ہو سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بعض اوقات ایسی تفصیلات بھی پیش کر سکتی ہے جو نامکمل، غیر مستند یا حقیقت کے برعکس ہوں۔ اسی طرح بعض حوالہ جات بظاہر مستند نظر آتے ہیں، لیکن ان کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔ اگر طالب علم بغیر تحقیق کے ایسے مواد کو اپنے اسائنمنٹ میں شامل کر دے تو اس کے کام کا معیار متاثر ہو سکتا ہے۔ اس لیے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تحقیق کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اب صرف معلومات حاصل کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کی تصدیق کرنا، ان کے ماخذ کو سمجھنا اور ان کے درست استعمال کو یقینی بنانا بھی ضروری ہے۔ اس صورت حال میں اساتذہ کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ استاد صرف کتاب پڑھانے والا فرد نہیں بلکہ وہ طلبہ کی فکری تربیت، کردار سازی اور صلاحیتوں کو نکھارنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ جب طالب علم کوئی اسائنمنٹ خود تیار کرتا ہے تو استاد اس کی تحریر کے ذریعے اس کی سمجھ، زبان اور سوچ کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ لیکن جب یہی کام مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا جائے تو استاد کے لیے یہ جاننا مشکل ہو سکتا ہے کہ طالب علم نے حقیقت میں کتنا سیکھا ہے۔ ایک بہترین مضمون جمع کروانے والا طالب علم ضروری نہیں کہ اس موضوع کو اچھی طرح سمجھتا بھی ہو۔ ممکن ہے تحریر میں معلومات بہت زیادہ ہوں، الفاظ عمدہ ہوں اور جملوں کی ترتیب بھی مناسب ہو، لیکن جب طالب علم سے اسی موضوع کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ جواب دینے سے قاصر ہو۔ ایسی صورت حال اس بات کی علامت ہے کہ تحریری کام اور حقیقی علم کے درمیان فاصلہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اساتذہ کو ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں جن سے طالب علم کی اصل قابلیت سامنے آ سکے۔ تعلیمی اداروں کو بھی اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ صرف اسائنمنٹ جمع کروانے پر نمبر دینے کے بجائے طلبہ سے ان کے کام کے بارے میں سوالات کیے جا سکتے ہیں، کلاس میں مختصر تحریری مشقیں کروائی جا سکتی ہیں اور ایسے موضوعات پر گفتگو کی جا سکتی ہے جن میں طالب علم کو اپنی رائے اور ذاتی مشاہدات بیان کرنے کا موقع ملے۔ اساتذہ طلبہ سے یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ انہوں نے کسی نتیجے تک پہنچنے کے لیے کون سے ذرائع استعمال کیے اور ان کی تحقیق کا بنیادی مقصد کیا تھا۔ اس طرح نہ صرف طالب علم کی حقیقی قابلیت کا اندازہ لگایا جا سکے گا بلکہ اس میں اپنے کام کی ذمہ داری قبول کرنے کا احساس بھی پیدا ہوگا۔ تاہم اس عمل میں طلبہ پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے یا ہر طالب علم کو مشکوک سمجھنے کے بجائے رہنمائی، تربیت اور اعتماد سازی کو اہمیت دینی چاہیے۔ والدین کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں بہت اہم ہے۔ ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں، اچھے نمبر لیں اور مستقبل میں کامیاب ہوں۔ لیکن بچوں کی کامیابی کا معیار صرف ان کے نتائج یا اسناد نہیں ہونے چاہییں، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ کس حد تک خود مختار، ذمہ دار اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھنے والے بن رہے ہیں۔ اگر والدین صرف یہ دیکھیں کہ بچے نے اسائنمنٹ مکمل کر لیا ہے اور اسے اچھے نمبر مل جائیں گے تو ممکن ہے کہ وہ انجانے میں اس عادت کو فروغ دے رہے ہوں جس میں بچے کی اپنی محنت کم ہوتی جا رہی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں سے ان کے تعلیمی کام کے بارے میں گفتگو کریں، ان سے پوچھیں کہ انہوں نے کیا سیکھا اور کسی موضوع کو سمجھنے میں انہیں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر بچہ کسی موضوع کو سمجھنے میں دشواری محسوس کرے تو اسے تیار شدہ جواب فراہم کرنے کے بجائے سمجھانے کی کوشش کی جائے، تاکہ وہ خود جواب تلاش کرنے کی عادت پیدا کر سکے۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کا ہر استعمال غلط نہیں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت ہے اور طلبہ کو اس کے درست استعمال سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی طالب علم کو سائنس کا کوئی مشکل تصور سمجھ نہیں آ رہا تو وہ مصنوعی ذہانت سے اس کی آسان وضاحت حاصل کر سکتا ہے۔ اگر کسی لفظ کا مطلب معلوم کرنا ہو، کسی موضوع کے ابتدائی نکات درکار ہوں یا اپنی تحریر میں املا کی غلطیاں تلاش کرنی ہوں تو مصنوعی ذہانت ایک معاون ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی طرح کسی مشکل سبق کی مختلف مثالیں حاصل کرنے یا کسی نظریے کو آسان زبان میں سمجھنے کے لیے اس سے مدد لی جا سکتی ہے۔ اس طرح کا استعمال طالب علم کے علم میں اضافہ کر سکتا ہے، بشرطیکہ وہ معلومات کو سمجھنے اور ان کی تصدیق کرنے کی ذمہ داری خود پوری کرے۔ اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب طالب علم معاونت اور مکمل انحصار کے درمیان فرق ختم کر دیتا ہے اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے بجائے پورا کام کسی مصنوعی نظام کے حوالے کر دیتا ہے۔
اس فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ اگر طالب علم پہلے خود موضوع کا مطالعہ کرے، اپنی سمجھ کے مطابق نکات مرتب کرے اور پھر مصنوعی ذہانت سے ان نکات کی وضاحت یا تحریر کی اصلاح میں مدد لے تو یہ سیکھنے کا ایک مؤثر طریقہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ موضوع کو سمجھے بغیر مکمل مضمون تیار کروائے اور اسے اپنی تحریر کے طور پر جمع کروا دے تو یہ تعلیمی مقصد کے منافی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا اصل فائدہ اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جب اسے انسانی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ ان صلاحیتوں کی جگہ لینے کے لیے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سہولت اور کامیابی میں فرق ہوتا ہے۔ کسی کام کو آسانی سے مکمل کر لینا ضروری نہیں کہ اس سے علم میں بھی اضافہ ہوا ہو۔ بعض اوقات مشکل کام کو خود انجام دینے میں جو وقت اور محنت صرف ہوتی ہے، وہی انسان کی تربیت اور ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔
تعلیم میں دیانت داری بھی اس موضوع کا ایک اہم پہلو ہے۔ طالب علم جب اپنے نام سے کوئی اسائنمنٹ جمع کرواتا ہے تو اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس نے اس کام میں اپنی سمجھ، محنت اور صلاحیت کا استعمال کیا ہوگا۔ اگر اس نے مکمل تحریر کسی دوسرے ذریعے سے تیار کروائی ہے اور اس بات کو چھپا کر اسے اپنا کام ظاہر کرتا ہے تو اس سے تعلیمی دیانت داری کے بارے میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔ مختلف تعلیمی اداروں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اصول مختلف ہو سکتے ہیں، اس لیے طلبہ کو اپنے ادارے کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ جہاں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی اجازت ہو، وہاں اس کے استعمال کو مقررہ اصولوں کے مطابق واضح کرنا مناسب ہے۔ طالب علم کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اسائنمنٹ میں غلطی ہو جانا یا کم نمبر حاصل کرنا کوئی ایسی بات نہیں جس سے گھبرایا جائے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس نے خود کوشش کی، موضوع کو سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے محنت کی۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مصنوعی ذہانت پر غیر ضروری انحصار طلبہ کی خود اعتمادی کو کس طرح متاثر کر سکتا ہے۔ خود اعتمادی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب انسان اپنی کوشش سے کسی مشکل کام کو مکمل کرتا ہے، اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور رفتہ رفتہ بہتر نتائج حاصل کرتا ہے۔ اگر طالب علم کو ہر مشکل مرحلے پر تیار شدہ جواب مل جائے تو اسے اپنی صلاحیت آزمانے کا موقع کم ملتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگ سکتا ہے کہ وہ خود اچھا نہیں لکھ سکتا یا اپنے مسائل حل نہیں کر سکتا، حالانکہ حقیقت میں اسے صرف مشق اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے طلبہ کو خود کوشش کرنے کی ترغیب دینا ضروری ہے۔ ان کی چھوٹی کامیابیوں کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ محنت کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔
زبان اور اظہار کی صلاحیت بھی تعلیم کا بنیادی حصہ ہیں۔ طالب علم جب خود مضمون لکھتا ہے تو وہ یہ سیکھتا ہے کہ اپنی بات کو واضح انداز میں کس طرح بیان کرنا ہے، مناسب الفاظ کا انتخاب کیسے کرنا ہے اور خیالات کو کس ترتیب سے پیش کرنا ہے۔ یہ صلاحیتیں صرف امتحانات کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی کے لیے بھی ضروری ہیں۔ مستقبل میں طالب علم کو کسی ملازمت کے لیے درخواست لکھنی پڑ سکتی ہے، کسی اجلاس میں اپنی رائے دینی پڑ سکتی ہے، انٹرویو میں سوالات کے جواب دینے پڑ سکتے ہیں یا کسی اہم مسئلے پر دوسروں کو قائل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان تمام مواقع پر صرف تیار شدہ تحریر حاصل کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ موضوع کو سمجھنا اور اپنی بات خود بیان کرنا ضروری ہوگا۔ اگر تعلیمی زندگی میں تحریری مشق کو نظر انداز کیا جائے تو ان صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے مواقع کم ہو سکتے ہیں۔ آج کے طلبہ ہی کل کے ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ، محقق، صحافی، کاروباری افراد اور معاشرے کے ذمہ دار شہری ہوں گے۔ ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے شعبوں میں علم، مہارت اور ذمہ داری کے ساتھ کردار ادا کریں گے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کی تعلیمی بنیاد مضبوط ہو اور وہ اپنی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوں۔ ایک ڈاکٹر کو مریض کی صورت حال سمجھ کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے، ایک استاد کو طلبہ کے سوالات کا جواب دینا ہوتا ہے، ایک صحافی کو معلومات کی تصدیق کرنی ہوتی ہے اور ایک کاروباری فرد کو حالات کے مطابق فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ ان تمام شعبوں میں ٹیکنالوجی معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن بنیادی سمجھ، تنقیدی سوچ اور ذمہ داری کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔ اسی لیے تعلیمی مرحلے میں خود سیکھنے اور سوچنے کی عادت پیدا کرنا مستقبل کی تیاری کے لیے ضروری ہے۔
اس معاملے میں معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ تعلیمی اداروں، والدین اور طلبہ کو مل کر ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا جس میں جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے فائدہ اٹھایا جائے اور انسانی محنت کی اہمیت بھی برقرار رہے۔ طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے استعمال کے اخلاقی اصولوں سے آگاہ کیا جائے، اساتذہ کو جدید تعلیمی طریقوں کے مطابق رہنمائی فراہم کی جائے اور والدین کو بچوں کی حقیقی تعلیمی ترقی پر توجہ دینے کی ترغیب دی جائے۔ اگر ہم صرف پابندیوں پر انحصار کریں گے تو ممکن ہے کہ طلبہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال چھپانے لگیں، لیکن اگر انہیں اس کے درست اور غلط استعمال کے درمیان فرق سمجھایا جائے تو زیادہ ذمہ دارانہ رویہ پیدا کیا جا سکتا ہے۔ مقصد ٹیکنالوجی سے خوف پیدا کرنا نہیں بلکہ اسے سمجھداری سے استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کی ترقی مستقبل میں مزید نئی سہولیات متعارف کروائے گی۔ ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں تعلیم کے طریقے مزید تبدیل ہوں اور طلبہ کے لیے معلومات حاصل کرنے کے نئے ذرائع پیدا ہوں۔ ایسے حالات میں ہمیں طلبہ کو صرف معلومات یاد کروانے کے بجائے سوچنے، تحقیق کرنے، مسائل حل کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیتیں سکھانا ہوں گی۔ معلومات تک رسائی آسان ہونے کے باوجود درست معلومات کا انتخاب، ان کی تصدیق اور ان کا مناسب استعمال بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر طالب علم یہ صلاحیتیں حاصل کر لیتا ہے تو وہ جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ صرف تیار شدہ جوابات کا عادی ہو جائے تو معلومات کی فراوانی کے باوجود اس کی اپنی فکری صلاحیت محدود رہ سکتی ہے۔
میرے نزدیک اس مسئلے کا حل مصنوعی ذہانت کی مخالفت یا اسے مکمل طور پر مسترد کرنے میں نہیں، بلکہ اس کے متوازن اور ذمہ دارانہ استعمال میں ہے۔ ہمیں طلبہ کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ٹیکنالوجی ایک ذریعہ ہے، منزل نہیں۔ اس کا مقصد انسان کے کام کو بہتر بنانا، اس کی مشکلات کم کرنا اور اسے مزید سیکھنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اگر طالب علم اسے اپنے علم میں اضافے کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ فائدہ مند ہے، لیکن اگر وہ اسے اپنی محنت سے بچنے کا راستہ بنا لیتا ہے تو یہی سہولت اس کی ترقی میں رکاوٹ بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر طالب علم خود سے یہ سوال کرے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے مدد لے کر حقیقت میں کچھ سیکھ رہا ہے یا صرف اپنا کام مکمل کر رہا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کے اسائنمنٹس، مضامین، درخواستوں اور دیگر تعلیمی کاموں کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے تیار کروا کر اپنے نام سے جمع کروانے کا بڑھتا ہوا رجحان نیک شگون نہیں۔ تعلیم محض کاغذ پر الفاظ لکھنے، اسائنمنٹ مکمل کرنے یا امتحان میں اچھے نمبر حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی سوچ، شعور، کردار اور شخصیت کی تعمیر کا عمل ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کر سکتی ہے، مشکل تصورات سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے اور تحریر کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، لیکن طالب علم کو خود سوچنے، سمجھنے، تحقیق کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ذمہ داری بہرحال پوری کرنا ہوگی۔ ہمیں ایسی نسل تیار کرنے کی ضرورت ہے جو جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا جانتی ہو، لیکن اس کی محتاج نہ ہو؛ جو تیار شدہ جوابات پر انحصار کرنے کے بجائے خود سوال کرنے اور جواب تلاش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ حقیقی کامیابی اس میں نہیں کہ طالب علم مصنوعی ذہانت کی مدد سے کتنی عمدہ تحریر تیار کروا سکتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ خود کتنا سیکھتا ہے، کتنا سمجھتا ہے اور اپنے علم کو عملی زندگی میں کس طرح استعمال کرتا ہے۔ کیونکہ جو علم اپنی محنت، مطالعے اور تجربے سے حاصل کیا جائے، وہی انسان کی سوچ اور شخصیت کا مستقل حصہ بنتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہماری ضرورت ہے، لیکن اپنی ذہنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم ان دونوں کے درمیان توازن قائم کر سکیں تو مصنوعی ذہانت ہمارے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک مفید ذریعہ بن سکتی ہے، ورنہ اس پر غیر ضروری انحصار ہماری نئی نسل کو خود سیکھنے اور خود سوچنے کے بنیادی عمل سے دور کر سکتا ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *