Banner
Daily Sahafat Quetta
October 24, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
یونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیابلوچی زبان میں قرآنِ مجید کی پہلی ایپلی کیشن ’’جمال القرآن‘‘ لانچکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمیناریونیورسٹی آف لورالائی میں سپورٹس ویک کا آغاز؛ سردار میر خالد خان جوگیزئی کا نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ پر زورسرکاری افسران عوامی خدمت کو اپنا فرض سمجھیں اور دفاتر میں اوپن ڈور پالیسی یقینی بنائیں، میر سرفراز بگٹی کی ہدایتٹرک اور کار میں تصادم، 4 نوجوان جاں بحقیومِ اقوام متحدہ: وزیراعظم شہباز شریف کا عالمی امن اور تنازعات کے پرامن حل پر زورایران نے خلیج میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنا لیابلوچی زبان میں قرآنِ مجید کی پہلی ایپلی کیشن ’’جمال القرآن‘‘ لانچکوئٹہ میں مزاحیہ ڈراما ’’تھانہ دودھ پتی‘‘ پیش، رانا عبدالروف کی شاندار اداکاری نے شائقین کے دل جیت لیےپتوکی میں اوباشوں کی غنڈہ گردی نجی چینل کے رپورٹر پر بہیمانہ تشدد اور ڈکیتیچیئرمین پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک کی صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان سے ملاقات، مسئلہ کشمیر کے عالمی سطح پر مؤثر ابلاغ پر تبادلۂ خیالایس ڈی پی او چشتیاں ، چوہدری اکمل بسرا کا گورنمنٹ گریجویٹ کالج چشتیاں میں اہم سیمینار

زندگی

تحریر: خالد سرور کھوسہ
اے زندگی! کن لفظوں میں کروں تجھے بیان
اتنا بھی پتا ہے تو صرف سانس لینے کا نام نہیں
ساتھ چھوڑنا چاہیے تو سیکنڈوں میں زبان حلق سے نکل آئے
اور ساتھ دینا چاہے تو برسوں آزمائشوں اور امتحان میں گزر جائے

اے زندگی! تو نے جینے کے طریقے بھی مختلف پہلوؤں میں دکھائے
کبھی بادشاہی تو کبھی فقیرانہ
کبھی سردار تو کبھی غلام
اور برے سے برے وقت میں عاجز بندہ نواز

آخر زندگی تو ہے کیا؟
رب کریم کی طرف سے ہم گنہگار، لاچار، مغرور، بے سہارا، کافرانہ، یزیدیت کی سوچ رکھنے والوں کے لیے ایک تحفہ؟
پر جس رب کریم نے ہمیں زندگی بخشی، اسی رب پر ایمان کامل کتنا؟
مطلب یقین، بھروسہ اور آخرت پر عمل کتنا؟

کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے انسان کو زندگی کا تحفہ اس لیے دیا کہ اسے دنیاوی نفسا نفسی میں ختم کریں؟
یہاں تو انسان ہی انسان کو مٹاتا ہے
قتل و غارت، اناپرستی، اقربا پروری اور نہ جانے کیا کیا؟

زندگی آدم علیہ السلام کی صورت میں رب کریم کی پہلی نشانی
زندگی فرعون کو دیا ہوا تحفہ جو آج بھی ظلم و بربریت کی نشانی
اور زندگی آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی صورت میں دی ہوئی سیرت
زندگی تو عمل کی بہترین مثال ہے
جس نے رب کریم کے احکامات پر عمل کیا، آخرت کا بھی مزہ اور اس جہاں کا بھی
رب کے دیے ہوئے خزانے بے شمار ہیں
عزت و ذلت اسی رب کے ہاتھ میں ہے
قرآن کی تعلیمات زندگی بہتر طریقے سے گزارنے کا درس دیتی ہیں
بس انسان رب کی دی ہوئی زندگی سے مایوس کبھی نہ ہو
اے زندگی! تجھے سمجھنا بہت آسان
تو بہتر عمل سے ہی بنتی ہے
زندگی کی قیمت ان لاکھوں اربوں ہیروں سے بھی بہتر ہے
جو انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بناتی ہیں
زندگی ایک ایسا محل جس کی رونق دونوں جہاں تک ملتی ہے
زندگی کو سمجھنے کے لئے انسان کو رب کریم کے نزدیک ہونا لازمی ہیں ان رازوں کو سمجھنا بھی ضروری ہیں جو انسان کی زندگی کو سنوار سکیں وہ ممکن ہیں ہیں تو بس رب کے احکامات پہ مضبوطی سے عمل کرنے سے
پر شرط بہترین اعمال ہیں
وہ اعمال جو رب کو پسند ہوں
اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *